چین کے جنوب مغربی خطے تبت میں جمعرات کی رات ایک شدید زلزلہ آیا جس کی شدت 7.0 ریکارڈ کی گئی۔ جھٹکے مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بج کر 33 منٹ پر محسوس کیے گئے۔ پاکستانی وقت کے مطابق یہ شام 7 بج کر 33 منٹ کا وقت بنتا ہے۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق ناگچو شہر کے محکمہ ہنگامی انتظام نے 16 اموات اور 32 زخمیوں کی تصدیق کی ہے.
شنہوا کے مطابق 11 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 21 کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ بلومبرگ نے چینی ٹیلی وژن کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 18 بتائی، جبکہ سی بی ایس نیوز نے زخمیوں کی تعداد 46 بتائی ہے۔ مختلف اداروں کے اعداد و شمار میں فرق ہے، اور امدادی کام جاری ہونے کے باعث ان میں تبدیلی کا امکان ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق کم از کم 339 مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ حکام نقصان کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں۔ مرکزِ زلزلہ کے قریبی دیہات میں بعض گھروں میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات بھی ہیں۔ مقامی ویڈیوز میں لوگ گھروں سے نکل کر کھلی جگہوں پر یا اپنی گاڑیوں میں پناہ لیتے دکھائی دیے۔
امریکی ارضیاتی سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کا مرکز ناگچو شہر سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق شمال مشرق میں تھا۔ یہ مقام تبت کے دارالحکومت لہاسا سے تقریباً 390 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ پہاڑی علاقہ بہت کم آبادی والا ہے اور بہت بلندی پر ہے۔ چینی مرکزِ زلزلہ کے مطابق مرکز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں اوسط بلندی تقریباً 4,864 میٹر ہے۔
گہرائی کے بارے میں اعداد و شمار مختلف ہیں۔ چینی ادارے نے اسے 10 کلومیٹر بتایا، جبکہ امریکی سروے کی بعض رپورٹس میں 18 کلومیٹر کا ذکر ہے۔ ماہرین کے مطابق کم گہرائی والے زلزلے عموماً زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔
چین کی زلزلہ انتظامیہ نے دوسرے درجے کی ہنگامی ردعمل کی حالت نافذ کر دی ہے، جو اس نظام میں دوسرا بلند ترین درجہ ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچا دی گئی ہیں۔ بعد ازاں تقریباً تین اور چار شدت کے کئی چھوٹے جھٹکے بھی ریکارڈ کیے گئے۔ امریکی ارضیاتی سروے نے پہاڑی ڈھلوانوں کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔
یہ خطہ دنیا کے فعال ترین زلزلہ زدہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں، اور اسی تصادم سے ہمالیہ کے پہاڑ اور تبت کی سطح مرتفع وجود میں آئی۔ اسی وجہ سے جنوب مغربی چین، نیپال اور شمالی بھارت میں زلزلے معمول کی بات ہیں۔

ماضی کے واقعات
- یہ جنوری 2024 کے بعد چین میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ ہے۔
- چینی قومی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ خطے میں گزشتہ پانچ سال کا سب سے بڑا زلزلہ ہے۔
- جنوری 2025 میں تبت کے ضلع ٹنگری میں آنے والے زلزلے میں کم از کم 126 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
- اس زلزلے سے دو ماہ سے بھی کم پہلے نیپال اور تبت کی سرحدی پٹی میں تباہ کن سیلاب آیا تھا جس میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے۔
تبت کا یہ زلزلہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ ہمالیائی خطہ قدرتی آفات کے لحاظ سے کتنا حساس ہے۔ چونکہ مرکزِ زلزلہ کم آبادی والے بلند علاقے میں تھا، اس لیے نقصان بڑے شہروں کے مقابلے میں محدود رہا، تاہم متاثرین کی تعداد اور تباہ شدہ مکانات اب بھی تشویشناک ہیں۔ جیسے ہی سرکاری حکام کی جانب سے نئی معلومات سامنے آئیں گی، اعداد و شمار میں تبدیلی ممکن ہے
