خیبر پختونخوا کے قبائلی و سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو الگ الگ کارروائیوں میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے مجموعی طور پر 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کارروائیاں جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک اور ضلع دیر میں انجام دی گئیں۔
پہلی اور بڑی کارروائی چھ اگست کو جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں پیش آئی، جہاں فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ فورسز نے بروقت اور پیشہ ورانہ ردعمل دیتے ہوئے حملہ آوروں کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران آٹھ دہشت گرد مارے گئے۔
واضح رہے کہ اعظم ورسک کا علاقہ ماضی میں بھی سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ اس سے قبل رواں سال مئی میں بھی اسی علاقے میں فوجی چوکی کو نشانہ بنانے کے لیے خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جسے بروقت کارروائی کے باعث ناکام بنا دیا گیا تھا، تاہم اس واقعے میں ایک شہری جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطہ اب بھی دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
دوسری کارروائی ضلع دیر میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مزید دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ اس طرح دونوں کارروائیوں کو ملا کر ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 10 تک جا پہنچی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مقتول دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ عناصر علاقے میں مسلسل دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ فورسز کی جانب سے ممکنہ مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس اور سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔
فتنۃ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو پاکستانی حکومت اور فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عسکریت پسندوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ عناصر بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی مالی و لاجسٹک سرپرستی میں پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی و قبائلی اضلاع میں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں "عزمِ استحکام” وژن اور قومی ایکشن پلان کے تحت جاری انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہیں، جسے وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری حاصل ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسی ہفتے بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں بھی سیکیورٹی فورسز نے "ردالفتنہ-3” کے تحت انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی فورسز بیک وقت متعدد محاذوں پر دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جنوبی وزیرستان اور دیر میں کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے مذموم عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور آپریشن عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
آزاد تھنک ٹینکس کی رپورٹس کے مطابق رواں سال جولائی کا مہینہ سنہ 2026 کا اب تک کا مہلک ترین مہینہ رہا، جس میں سیکیورٹی فورسز اور شہریوں سمیت درجنوں افراد دہشت گردی سے متعلق واقعات میں جاں بحق ہوئے۔ اسلام آباد میں قائم تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس یعنی 2025 میں بھی دہشت گردانہ حملوں میں 34 فیصد اور اموات میں 21 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا۔ اسی تناظر میں حالیہ کارروائیاں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرے کے تدارک کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک اور ضلع دیر میں سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیاں پاکستان کی مسلح افواج کے عزم کا واضح مظہر ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی قیمت پر کمزور نہیں پڑنے دی جائے گی۔ تاہم بڑھتے ہوئے حملوں اور مسلسل کلیئرنس آپریشنز کی ضرورت اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ سرحدی علاقوں میں امن کی مکمل بحالی کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اور علاقائی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔