مکہ مکرمہ پر حوثیوں کا ڈرون حملہ ناکام، سعودی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا

مکہ مکرمہ: سعودی عرب کے جدید فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف بھیجے گئے ایک ڈرون کو مقدس شہر کی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی فضا میں تباہ کر دیا۔ سعودی قیادت میں قائم یمن اتحاد نے اس واقعے کو ایک ’’بڑی کشیدگی‘‘ قرار دیتے ہوئے حوثیوں کو سخت جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔

سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بدھ کی صبح جاری بیان میں بتایا کہ منگل 15 ستمبر کی شام مکہ مکرمہ کے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر یہ ڈرون شہر کے جنوب میں اس وقت روکا گیا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے والا تھا۔ ملبہ شہر کے جنوبی حصے میں گرا، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ترکی المالکی نے واضح کیا کہ اسلام کے دو مقدس ترین مقامات اور حجاج کی سلامتی ایک ’’ریڈ لائن‘‘ ہے، اور اتحاد حوثیوں کے خلاف ہر ضروری تادیبی اقدام اٹھانے میں ہرگز ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس واقعے کو مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش قرار دیا، جبکہ اس سے قبل 27 جولائی 2017ء کو بھی حوثی فورسز نے مقدس شہر کی جانب بیلسٹک میزائل داغا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حوثی ذرائع نے مکہ مکرمہ یا دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے کسی بھی ارادے کی تردید کی ہے۔

اس واقعے سے قبل سعودی سول ڈیفنس نے مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت ملک کے مختلف علاقوں کے لیے ممکنہ فضائی خطرے کے پیشِ نظر ہنگامی الرٹس جاری کیے تھے، جنہیں کچھ ہی دیر بعد مکہ مکرمہ کی حد تک واپس لے لیا گیا۔ خیال رہے کہ اسی ہفتے پیر کے روز حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں 13 شہری زخمی ہو چکے تھے، جبکہ گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک اور حملے میں 70 سے زائد افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، زخمی ہوئے تھے۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی ایک ’’گھناؤنی‘‘ کارروائی قرار دیا۔ عالمی سطح پر بھی اس اقدام کو دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ مکہ مکرمہ اسلام کا مقدس ترین شہر اور سالانہ حج کی ادائیگی کا مرکز ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب حوثی باغی یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر تیزی سے قبضہ کر کے سعودی تیل کی برآمدات کے لیے اہم آبنائے باب المندب پر اپنا اثر و رسوخ مضبوط کر چکے ہیں۔ چند روز قبل ایک حملے میں سعودی عرب کی سب سے بڑی مشرق-مغرب پائپ لائن کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا، جس کے باعث اسے ہفتوں کے لیے بند کرنا پڑا۔ صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کے روز قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کر کے حمایت طلب کی، کیونکہ سعودی عرب زیادہ تر تنہا ہی ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا مقابلہ کر رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے غیر یقینی حمایت کے باعث خطے کے سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔