پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا سہ فریقی دفاعی معاہدہ: استنبول میں پہلا اہم اجلاس

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کا پہلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام کا پہلا باضابطہ اجلاس استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس اہم موقع پر پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔

یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ، جسے "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے، رواں سال 7 اگست 2026 کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔ اس تاریخی معاہدے پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب کے مابین 17 ستمبر 2025 کو ریاض کے الیمامہ محل میں ایک دو طرفہ "اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ” پر پہلے ہی دستخط ہو چکے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے یہ طے کیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ مکہ معاہدہ دراصل اسی دو طرفہ معاہدے کو وسعت دیتے ہوئے ترکیہ کو بھی اس اتحاد کا حصہ بناتا ہے، جس سے یہ ایک سہ فریقی دفاعی نظام میں تبدیل ہو گیا ہے۔

خطے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ استنبول میں ہونے والے اس پہلے اجلاس میں دفاعی معاہدے کے بنیادی خدوخال اور اب تک ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق یہ نشست دراصل ایک "سیاسی و دفاعی اسٹریٹجک کمیٹی” کے قیام کا باضابطہ آغاز ہے، جو تینوں ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی اور مستقبل میں تعاون کی نگرانی کرے گی۔

اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوں گے۔ ایجنڈے کا مرکزی نکتہ بین الاقوامی سلامتی کے مسائل پر تبادلہ خیال ہوگا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ تینوں ممالک کی افواج کے درمیان رابطہ کاری، عسکری صلاحیتوں میں اضافے اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اپنے سرکاری دورے کے سلسلے میں استنبول پہنچے، جہاں ترکیہ کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف برائے انتظامی امور بریگیڈیئر جنرل شنول وارول، ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید، ترک وزارت خارجہ کے سفیر جیہاد ایرگینے سمیت دیگر اعلیٰ ترک حکام نے ان کا استقبال کیا۔

استنبول پہنچتے ہی اسحاق ڈار نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کی سلامتی، امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی، جبکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے بھی دعا مانگی۔ اپنے سرکاری دورے کے دوران اسحاق ڈار مختلف اہم ملاقاتیں اور دیگر سفارتی مصروفیات بھی انجام دیں گے۔

اسی دوران چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل اپنے اس دورے کے دوران ترک حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں دفاعی تعاون سے متعلق امور زیرِ غور آئیں گے۔

اس دفاعی اتحاد میں ایک نیا اور دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ بنگلہ دیش نے بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر بنگلہ دیش باضابطہ طور پر اس اتحاد کا حصہ بنتا ہے تو یہ معاہدہ چار مسلم اکثریتی ممالک پر مشتمل ایک وسیع تر علاقائی دفاعی بلاک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا اجتماعی دفاعی نظام رکھتا ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس معاہدے کا مقصد ایران کے خلاف کوئی صف بندی کرنا ہرگز نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال جب پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دو طرفہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، تو بھارتی وزارتِ خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی قومی سلامتی نیز علاقائی اور عالمی استحکام پر اس معاہدے کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لے گا۔ بھارتی حکام کے مطابق نئی دہلی پہلے سے اس پیش رفت سے آگاہ تھا اور اسے ایک دیرینہ انتظام کی باضابطہ شکل قرار دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی اتحاد خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ پاکستان کی عسکری صلاحیت، سعودی عرب کی مالی و اقتصادی قوت اور ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت کا امتزاج اس معاہدے کو ایک منفرد علاقائی طاقت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ استنبول کا آج کا اجلاس دراصل اس بات کا تعین کرے گا کہ یہ معاہدہ محض کاغذی حد تک محدود رہتا ہے یا عملی طور پر تینوں افواج کے درمیان حقیقی تعاون کی شکل اختیار کرتا ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی قائم ہونے والی "سیاسی و دفاعی اسٹریٹجک کمیٹی” کس طرح کام کرتی ہے اور بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت اس اتحاد کو کس سمت لے جاتی ہے۔