اداکارہ لیلیٰ کا بڑا اعتراف: "آٹھ سال پہلے وہ کام چھوڑ دیے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث بنتے تھے”

پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ لیلیٰ نے ایک حالیہ رئیلٹی شو میں اپنی ذاتی زندگی سے جڑا ایک اہم اور جذباتی پہلو سب کے سامنے رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً آٹھ برس قبل انہوں نے اپنے کیریئر کے ایسے پہلوؤں سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی تھی جنہیں وہ اپنے دینی عقائد کی روشنی میں مناسب نہیں سمجھتی تھیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

نوے کی دہائی سے شوبز انڈسٹری کا حصہ رہنے والی اداکارہ لیلیٰ نے شو کے دوران اپنی ذاتی زندگی، خواہشات اور کیریئر کے مختلف پہلوؤں پر کھل کر بات کی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے اپنے ماضی کے بعض ایسے کاموں کا ذکر کیا جنہیں وہ آج کی نظر سے مناسب خیال نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے ان کی سوچ میں واضح تبدیلی آئی، جس کے بعد انہوں نے شعوری طور پر ایسے تمام کام ترک کرنے کا فیصلہ کیا جو ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو سکتے تھے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اس فیصلے پر مستقل طور پر قائم رہیں گی اور اپنے ماضی کے اس دور کو ہمیشہ کے لیے پیچھے چھوڑ چکی ہیں۔

اداکارہ لیلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس رئیلٹی شو میں فتح حاصل کرنے کے لیے پرامید اور دعا گو ہیں۔ ان کے مطابق اگر انہیں انعامی رقم مل جائے تو وہ اپنا ذاتی گھر خریدنے اور ایک بڑی گاڑی حاصل کرنے کے دیرینہ خواب کو حقیقت میں بدلنا چاہتی ہیں۔ ان کی یہ خواہش انہیں شو کے دیگر شرکاء کے مقابلے میں زیادہ پرعزم بنائے ہوئے ہے۔

جیسے ہی لیلیٰ کی یہ گفتگو نشر ہوئی، سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تیزی سے مختلف قسم کے تبصرے سامنے آنا شروع ہو گئے۔ بیشتر صارفین نے ان کے ماضی کو موضوع بنانے کے بجائے ان کی موجودہ سوچ اور مثبت تبدیلی کو سراہا۔ کئی صارفین نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دعا کی کہ ان کی خواہشات پوری ہوں۔ ایک صارف نے رائے دی کہ لیلیٰ کی باتوں میں سچائی اور خلوص جھلکتا ہے، جبکہ کچھ دیگر افراد نے امید ظاہر کی کہ ان کی مخلصانہ خواہش کے پیش نظر وہ شو جیت جائیں گی۔

تاہم ہر رائے مثبت نہیں رہی۔ کچھ صارفین نے اس بات پر تنقید بھی کی کہ اداکارہ باربار اپنی ذاتی مشکلات اور ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتی ہیں، جسے بعض لوگوں نے غیر ضروری قرار دیا۔

پاکستانی شوبز میں یہ کوئی نئی بات نہیں کہ معروف فنکار وقت کے ساتھ اپنی ترجیحات میں تبدیلی لاتے ہیں اور مذہبی رجحان کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی متعدد اداکاراؤں اور فنکاروں نے اپنے کیریئر کے کسی موڑ پر ایسے ہی فیصلے کیے ہیں، جن میں کام کے انتخاب میں احتیاط برتنا، بعض کرداروں سے گریز کرنا، یا مکمل طور پر مذہبی طرزِ زندگی اپنانا شامل ہے۔ لیلیٰ کا یہ اعتراف بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے، جو انہوں نے برسوں بعد سامنے آ کر عوامی سطح پر شیئر کیا۔

فی الحال یہ واضح نہیں کہ رئیلٹی شو کا نتیجہ کیا نکلے گا اور لیلیٰ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔ تاہم ان کا یہ بیان ناظرین اور مداحوں کے درمیان زیرِ بحث ضرور رہے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شوبز شخصیات کی ذاتی و مذہبی تبدیلیاں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو جاتی ہیں۔