لاہور کے علاقے ڈیفنس میں پیش آنے والے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے کی تفتیش میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے اب تک متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ متاثرہ خاتون کا عدالت میں باضابطہ بیان بھی ریکارڈ ہو چکا ہے۔
کیس کا پس منظر
پولیس کے مطابق 20 سالہ آذربائیجانی خاتون، جن کی شناخت ڈیانا کے نام سے ہوئی ہے، واقعے سے کچھ روز قبل لاہور پہنچی تھیں۔ ایف آئی آر کے مطابق دو نامعلوم خواتین انہیں ایک کیفے لے گئیں، جہاں پہلے سے تین مرد موجود تھے۔ کچھ وقت گزارنے کے بعد یہ گروہ متاثرہ خاتون کو ڈیفنس کے ایک فلیٹ میں لے گیا، جہاں مبینہ طور پر انہیں نشہ آور مشروب دیا گیا اور بعد ازاں تین افراد نے ان سے مبینہ اجتماعی زیادتی کی۔ ایف آئی آر میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ ملزمان نے واقعے کے بعد متاثرہ خاتون کو ایئرپورٹ کے قریب چھوڑ کر فرار اختیار کیا، جبکہ ان کا آئی فون اور دیگر قیمتی موبائل فون بھی مبینہ طور پر ساتھ لے گئے۔ مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375-اے (اجتماعی زیادتی) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
گرفتاریاں اور تفتیشی پیش رفت
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کی زیرِ نگرانی خصوصی پولیس ٹیموں نے، جن کی قیادت ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ عاصم افتخار کر رہے تھے، تفتیش کا آغاز کیا۔ پولیس نے مرکزی ملزمان میں سے دو کو گرفتار کر کے ان سے مبینہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی، جبکہ بعد ازاں مزید تین افراد کو سہولت کاری کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق تیسرے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں، جبکہ پوچھ گچھ کے لیے 20 سے زائد دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان اس وقت عدالتی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔
متاثرہ خاتون کا عدالتی بیان اور طبی معائنہ
متاثرہ خاتون نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے تعزیراتِ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرایا، جس میں انہوں نے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان کے طبی معائنے کی رپورٹ میں جنسی زیادتی کے الزام سے مطابقت رکھنے والے شواہد سامنے آئے ہیں۔ پراسیکیوشن کی جانب سے شفاف تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے مقدمے کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے، جبکہ چوری شدہ موبائل فونز اور نقدی کی بازیابی کے لیے تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔
پنجاب اسمبلی کے دورے کی ویڈیو زیرِ تفتیش
تحقیقات کے دوران متاثرہ خاتون کی پاکستان میں سرگرمیوں اور نقل و حرکت سے متعلق ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی دوران ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ پنجاب اسمبلی کی عمارت کے اندر موجود دکھائی دیتی ہیں۔ تفتیشی حکام اس ویڈیو، نکاح نامے سے متعلق ایک دستاویز اور دیگر شواہد کا از سرِ نو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کیس سے متعلق مکمل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ حکام کے مطابق یہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی نتائج تک پہنچنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
خطے میں غیرملکی خواتین کے خلاف بڑھتے واقعات
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ رواں سال جولائی کے بعد لاہور میں غیرملکی خواتین کے خلاف اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے، جو شہر میں جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مقدمات کی شفاف اور تیز رفتار تفتیش کو یقینی بنایا جائے، اور متاثرین کی نجی زندگی اور وقار کا مکمل احترام کیا جائے۔