لاہور: برطانوی نژاد شہری کی بینک ڈکیتی، نیٹ فلیکس اور پب جی گیم کے اثرات سامنے آ گئے

لاہور کے علاقے جنوبی چھاؤنی میں ہونے والی بینک ڈکیتی کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے گرفتار ملزم سے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ واردات کا منصوبہ ویب سیریز دیکھنے اور آن لائن گیم پب جی سے متاثر ہو کر بنایا گیا۔

واردات کیسے ہوئی؟

واقعہ جمعہ کی صبح تقریباً 9 بج کر 19 منٹ پر بھٹہ چوک کے قریب واقع ایک نجی بینک میں پیش آیا، جہاں نقاب پوش مسلح ڈاکو نے دو سیکیورٹی گارڈز کو یرغمال بنا کر کیش کاؤنٹر سے 7 لاکھ روپے سے زائد رقم لوٹ لی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ڈاکو مہنگی گاڑی میں بینک پہنچتا دکھائی دیا، جو واردات کے دوران انگریزی میں گفتگو بھی کرتا رہا۔ فوٹیج کے مطابق ڈاکو نے پہلے اسلحے کے زور پر ایک گارڈ سے کار سے سوٹ کیس نکلوایا، پھر اسی گارڈ کو یرغمال بنا کر دوسرے گارڈ کا اسلحہ نیچے رکھوایا اور بالآخر پہلے گارڈ کو پستول کی نوک پر کیش کاؤنٹر تک لے گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق مکمل واردات محض 9 منٹ میں مکمل ہوئی۔

گرفتاری: سیف سٹی کیمروں کی مدد سے سراغ

ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق واردات کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیمیں فوری متحرک ہوئیں اور سیف سٹی کیمروں و نجی کیمروں کی مدد سے ملزم کا سراغ لگایا۔ ڈاکو واردات کے بعد سیدھا اپنے زیرِ تعمیر گھر پہنچا تھا، جہاں سے پولیس نے اسے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت سبحان علی کے نام سے ہوئی، جو برطانوی شہری ہے اور ماضی میں اسکاٹ لینڈ میں تقریباً چھ سال تک ٹیکسی چلا چکا ہے۔ ملزم کے قبضے سے 4 لاکھ 26 ہزار روپے نقدی، دو پستول، ایک 12 بور رائفل اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی۔

اسلحے کی خریداری کی تفصیلات

پولیس تفتیش کے مطابق ملزم اپریل میں پاکستان آنے پر سیالکوٹ سے 45 ہزار روپے میں پستول خرید چکا تھا، جبکہ اس کے لیے گولیاں 20 ہزار روپے میں ٹھوکر نیاز بیگ کے علاقے سے حاصل کی گئیں۔ پولیس نے اسلحہ فروخت کرنے والے افراد کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے اور ان چینلز کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جن کے ذریعے ملزم تک غیرقانونی اسلحہ پہنچا۔

منصوبہ بندی: ریکی سے فرار کے راستے تک

ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ ملزم 16 ستمبر کو برطانیہ سے پاکستان پہنچا تھا، جس کے پاس صرف 1200 پاؤنڈز موجود تھے۔ یہ رقم ختم ہونے پر اہلِ خانہ سے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا گیا، جسے مسترد کیے جانے پر خاندان سے جھگڑا بھی ہوا۔ تفتیش کے مطابق ملزم نے اسی دوران نیٹ فلیکس پر جرائم سے متعلق ویب سیریز دیکھ کر اور آن لائن گیم پب جی سے موصول ایک ’’ٹاسک‘‘ سے متاثر ہو کر واردات کا منصوبہ بنایا۔ پولیس کے مطابق اس نے واردات سے قبل باقاعدہ بینک کی ریکی کی اور پارکنگ کی سہولت اور نقل و حرکت میں آسانی کی بنیاد پر اسی بینک کا انتخاب کیا۔ ملزم نے فرار کے لیے بھی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، جس کے تحت وہ زیرِ تعمیر گھر میں گاڑی بدل کر اسلام آباد فرار ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔

اکیلی رہائش، اہلِ خانہ برطانیہ میں مقیم

تفتیشی حکام کے مطابق ملزم لاہور میں تنہا رہائش پذیر تھا جبکہ اس کا خاندان برطانیہ میں مقیم ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم کے رویے کی مزید وجوہات، بشمول مبینہ نشے کی عادت اور مالی مشکلات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ڈی آئی جی فیصل کامران نے واقعے کی تیزرفتار تفتیش اور گرفتاری میں شامل پولیس اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ لاہور پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔