لاہور: فلکیات کے شائقین کے لیے یہ ہفتہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ بدھ 12 اگست 2026 کو زمین ایک ایسے کہکشانی منظر کی گواہ بنے گی جو یورپ نے ستائیس برس سے نہیں دیکھا — ایک مکمل سورج گرہن، جس میں چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ کر دن میں چند لمحوں کے لیے اندھیرا کر دے گا۔
عام سورج گرہنوں کے برعکس، اس بار چاند کا سایہ مشرق سے مغرب کی بجائے قطبِ شمالی کے اوپر سے گزرے گا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق گرہن کا آغاز روس کے سائبیریا میں واقع تائیمیر جزیرہ نما کے قریب ہوگا، جہاں آرکٹک سرکل کے اندر گرمیوں میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا، اس لیے یہاں گرہن رات کے قریب گیارہ بج کر انسٹھ منٹ پر شروع ہوگا۔
اس کے بعد چاند کا سایہ زمین کے قطبی خطے سے ہوتا ہوا مشرقی گرین لینڈ، پھر بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے آئس لینڈ کے مغربی ساحل، اور آخر میں اسپین کے شمالی علاقوں اور پرتگال کے ایک چھوٹے سے حصے تک پہنچے گا۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق مکمل گرہن (Totality) درج ذیل علاقوں سے صاف نظر آئے گا:
-
- گرین لینڈ کا مشرقی ساحلی پٹی
- آئس لینڈ، خصوصاً دارالحکومت ریکجاوک اور جزیرہ نما سنائے فیلزنس
اسپین کے شمالی شہر جیسے کہ لیون، زاراگوزا اور والنسیا
- پرتگال کا شمال مشرقی کونا
ماہرین کے تخمینے کے مطابق اس گرہن کے دوران مکمل تاریکی کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ دو منٹ اٹھارہ سیکنڈ تک رہے گا، جو گرین لینڈ کے قریب بحرِ اوقیانوس کے اوپر ریکارڈ کیا جائے گا۔ آئس لینڈ میں یہ دورانیہ تقریباً ایک منٹ اور اسپین کے مختلف شہروں میں اس سے بھی کم ہوگا کیونکہ وہاں گرہن غروبِ آفتاب سے کچھ دیر پہلے واقع ہوگا۔
فلکیاتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ نقشوں کے مطابق یہ سورج گرہن پاکستان، بھارت یا جنوبی ایشیا کے کسی بھی حصے سے دکھائی نہیں دے گا، چاہے وہ جزوی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ چاند کا سایہ صرف آرکٹک، شمالی یورپ اور بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے گزرے گا۔ البتہ شمالی امریکہ کے کچھ حصوں (الاسکا، کینیڈا اور امریکہ کی شمالی ریاستوں)، برطانیہ، آئرلینڈ، بیشتر یورپی ممالک اور شمال مغربی افریقہ میں لوگ سورج کا ایک حصہ چاند سے ڈھکا ہوا دیکھ سکیں گے، جسے جزوی سورج گرہن کہا جاتا ہے۔
پاکستانی شائقین کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ خلائی ادارے اس نایاب واقعے کو براہِ راست نشر کریں گے، جس سے دنیا بھر کے لوگ گھر بیٹھے یہ منظر دیکھ سکیں گے۔
جب چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے تو دن میں چند لمحوں کے لیے آسمان تاریک ہو جاتا ہے، درجہ حرارت میں معمولی کمی محسوس ہوتی ہے اور پرندے بھی وقتی طور پر خاموش ہو جاتے ہیں۔ اسی دوران سورج کا وہ بیرونی ہالہ، جسے کورونا کہا جاتا ہے، چاند کے گرد چمکدار حلقے کی صورت میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ کورونا عام حالات میں سورج کی روشنی کی شدت کے باعث دکھائی نہیں دیتا، اسی لیے ماہرینِ فلکیات کے نزدیک مکمل گرہن سورج کے اس پراسرار حصے کا مطالعہ کرنے کا نایاب موقع ہوتا ہے۔
ماہرینِ صحت اور فلکیات دونوں ہی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گرہن کے جزوی مراحل میں سورج کو براہِ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے مستقل نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے:
- عام دھوپ کی عینک کبھی استعمال نہ کریں، صرف مخصوص ایکلپس گلاسز یا سرٹیفائیڈ سولر فلٹر استعمال کریں۔
- کیمرے، دوربین یا ٹیلی سکوپ سے بغیر مخصوص فلٹر کے سورج کی طرف براہِ راست نہ دیکھیں۔
- صرف مکمل تاریکی (Totality) کے چند لمحوں میں، جب سورج مکمل طور پر ڈھک چکا ہو، ننگی آنکھ سے دیکھنا محفوظ ہوتا ہے — اس کے فوراً بعد دوبارہ حفاظتی عینک پہن لیں۔
- گھر پر پن ہول پروجیکٹر بنا کر بھی بالواسطہ طور پر گرہن دیکھا جا سکتا ہے۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق 1999 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مکمل سورج گرہن یورپی سرزمین سے دیکھا جا سکے گا، جبکہ جزیرہ نما آئبیریا (اسپین، پرتگال) میں تو ایک صدی سے زائد عرصے بعد یہ نظارہ ممکن ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے فلکیات کے شائقین اور سیاح پہلے ہی آئس لینڈ اور اسپین کا رخ کر چکے ہیں تاکہ اس تاریخی لمحے کے گواہ بن سکیں۔
مقامی موسمیاتی رپورٹس کے مطابق آئس لینڈ اور گرین لینڈ کا زیادہ تر راستہ بادلوں کے باعث متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ اسپین میں موسم نسبتاً صاف رہنے کی توقع ہے، اس لیے ماہرین اسپین کو گرہن دیکھنے کے لیے سب سے موزوں مقام قرار دے رہے ہیں۔