جنوبی امریکی ملک کولمبیا سوموار کے روز ایک دہائی کے دوران آنے والے سب سے طاقتور زلزلے کی زد میں آ گیا، جس نے ملک کے مغربی حصے میں شدید تباہی مچا دی۔ 7.4 شدت کے اس زلزلے کے نتیجے میں اب تک 132 افراد جاں بحق اور 570 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم زلزلے کے مکمل پس منظر، تباہی کی تفصیلات، امدادی کارروائیوں اور بین الاقوامی ردعمل کا جامع جائزہ پیش کر رہے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور کولمبیا کے قومی جیولوجیکل ادارے کے مطابق زلزلے کا مرکز مغربی کولمبیا کے علاقے چوکو میں واقع قصبے سان خوسے ڈیل پالمار کے قریب تھا، جو دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 400 کلومیٹر (250 میل) مغرب میں واقع ہے۔ یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 7 بج کر 34 منٹ پر آیا اور اس کی گہرائی تقریباً 96 سے 107 کلومیٹر کے درمیان بتائی گئی ہے۔ سان خوسے ڈیل پالمار پہاڑی علاقے میں واقع ایک نسبتاً پسماندہ قصبہ ہے جس کی آبادی صرف چار ہزار آٹھ سو کے قریب ہے۔
زلزلے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد 5.0 شدت کا ایک زوردار آفٹر شاک بھی محسوس کیا گیا، جبکہ ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر اکیس سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے صرف کولمبیا تک محدود نہیں رہے بلکہ ہمسایہ ممالک ایکواڈور اور پانامہ میں بھی محسوس کیے گئے، تاہم وہاں نقصان کی شدت نسبتاً کم رہی۔
کولمبیا کے صدر ابیلاردو دی لا ایسپریئلا کے مطابق زلزلے سے ملک بھر میں سولہ سو سے زائد عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں سے کم از کم اکسٹھ عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں۔ اٹھارہ صحت مراکز، باون تعلیمی ادارے، سترہ کمیونٹی سینٹرز اور اٹھارہ سڑکیں بھی نقصان سے متاثر ہوئیں۔
ہلاکتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رِیسارالڈا رہا، جہاں کافی کی کاشت کے لیے مشہور شہر پیریرا میں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد ویلے ڈیل کاؤکا کا علاقہ متاثر ہوا، جہاں کولمبیا کے تیسرے بڑے شہر کالی میں کم از کم ستائیس افراد جاں بحق ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل تھے۔ کالی میں ایک اسپتال کی عمارت کا حصہ منہدم ہو گیا، جس میں بچوں اور نومولود بچوں کے وارڈز بھی شامل تھے، اور کئی مریض ملبے تلے دب گئے۔ زلزلے کے مرکز کے قریب واقع چوکو کے علاقے سے مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں کیونکہ مواصلاتی رابطہ کئی گھنٹوں تک منقطع رہا۔
کالی شہر میں شہریوں اور رضاکاروں نے مل کر گرنے والی عمارتوں کے ملبے سے کنکریٹ کے بڑے بڑے ٹکڑے ہٹانے کا سلسلہ شروع کیا، جبکہ ایک مقامی شخص نے میڈیا کو بتایا کہ زلزلے کے دوران عمارتیں گرنے سے شہر بھر میں گرد و غبار کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ ایک اور رہائشی نے بتایا کہ ایک عمارت کے گرنے کی آواز دھماکے جیسی محسوس ہوئی۔
اگرچہ زلزلے کا مرکز بوگوٹا سے کافی فاصلے پر تھا، مگر اس کے شدید جھٹکے دارالحکومت میں بھی واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ احتیاطاً عمارتوں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔ مختلف مقامات پر الارم بج اٹھے۔ تاہم بوگوٹا کے میئر کارلوس گالان کے مطابق دارالحکومت میں کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
کولمبیا کے نو منتخب صدر ابیلاردو دی لا ایسپریئلا نے واقعے کے فوراً بعد ملک میں قومی آفت کا اعلان کر دیا تاکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے فنڈز کی فوری فراہمی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود متاثرہ علاقے کا دورہ کریں گے اور ریسکیو آپریشنز کی نگرانی کے لیے سان خوسے ڈیل پالمار میں ایک مشترکہ کمانڈ پوسٹ قائم کرنے کا حکم دیا۔ صدر نے متاثرہ عوام کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کے لیے فوجی دستوں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ چوکو کے گورنر نے خبردار کیا ہے کہ علاقے کا پہاڑی اور دشوار گزار جغرافیہ ریسکیو کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے، جبکہ رِیسارالڈا کے گورنر کے مطابق پیریرا میں ایمرجنسی سروسز کالز کی بھرمار سے دباؤ کا شکار ہیں اور مزید نفری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق زلزلے سے متعدد ہوائی اڈوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
حکام اور امدادی اداروں نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ اور غیر محفوظ عمارتوں میں داخل ہونے سے گریز کریں اور آفٹر شاکس کے پیش نظر کھلی جگہوں پر رہیں۔ انجینئرز کی ٹیمیں عمارتوں کے سٹرکچرل معائنے میں مصروف ہیں تاکہ نقصان کا حتمی تخمینہ لگایا جا سکے۔
زلزلے کے بعد خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے یکجہتی اور امداد کی پیشکش کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ چلی، جو خود زلزلوں کے حوالے سے دنیا کے حساس ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے، کے صدر خوزے انتونیو کاسٹ نے کولمبیا کے عوام سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے بھی امدادی سامان اور ریسکیو ٹیمیں بھیجنے کی پیشکشیں سامنے آ رہی ہیں۔
یہ زلزلہ محض ایک تنہا واقعہ نہیں بلکہ لاطینی امریکہ میں حالیہ مہینوں میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ رواں سال جون کے آخر میں ہمسایہ ملک وینزویلا میں پے در پے دو زلزلے — 7.2 اور 7.5 شدت کے — آئے تھے، جن میں سینکڑوں عمارتیں تباہ اور چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل 2023 میں بھی بوگوٹا میں 6.3 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔ کولمبیا جغرافیائی طور پر بحرالکاہل کے "رنگ آف فائر” کے قریب واقع ہے، جو دنیا کا سب سے زیادہ زلزلوں سے متاثرہ خطہ تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے یہاں شدید زلزلوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
ماہرین اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ آفٹر شاکس کا سلسلہ ابھی جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے پہلے سے کمزور ہو چکی عمارتوں کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ زلزلے کے مرکز کے قریب واقع دور دراز اور پہاڑی بستیوں تک رسائی اب بھی محدود ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کچھ علاقے مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں، جہاں تک امدادی ٹیمیں ابھی تک نہیں پہنچ سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ریسکیو کارروائیاں ان دور افتادہ علاقوں تک وسعت پائیں گی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
- 7.4 شدت کا زلزلہ سان خوسے ڈیل پالمار، چوکو کے قریب مرکز کے ساتھ آیا
- ہلاکتیں 132، زخمی 570 سے زائد، تعداد میں اضافے کا خدشہ
- سولہ سو سے زائد عمارتیں متاثر، اکسٹھ مکمل منہدم
- کالی میں اسپتال کا بچوں کا وارڈ بھی متاثرہ عمارتوں میں شامل
- سب سے زیادہ ہلاکتیں رِیسارالڈا (40) اور ویلے ڈیل کاؤکا (27) میں
- 5.0 شدت کا آفٹر شاک اور مجموعی طور پر 21 سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ
- صدر نے قومی آفت کا اعلان کر دیا، فوج امدادی کارروائیوں میں شامل
- خطے میں یہ ایک دہائی کا سب سے طاقتور زلزلہ، وینزویلا میں جون کے زلزلوں کے بعد ایک اور بڑی تباہی
کولمبیا میں آنے والا یہ زلزلہ نہ صرف جانی نقصان کے لحاظ سے بلکہ تباہی کے پیمانے کے اعتبار سے بھی ملک کی حالیہ تاریخ کے سنگین ترین قدرتی حادثات میں شمار ہو رہا ہے۔ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور حکام کے مطابق دور دراز علاقوں تک رسائی ملنے کے بعد ہی نقصانات کا حتمی تخمینہ لگایا جا سکے گا۔ خطے میں حالیہ مہینوں میں آنے والے پے در پے شدید زلزلے اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ لاطینی امریکہ کا یہ خطہ زلزلوں کے اعتبار سے کس قدر حساس ہے، اور مستقبل میں ایسے واقعات کے لیے مؤثر تیاری کتنی اہم ہے۔