خلائی سائنس اور فلکیات کی دنیا میں ایک نادر اور دلچسپ واقعہ رونما ہونے جا رہا ہے۔ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا ایک متروک اور ناکارہ راکٹ اب چاند کی سطح سے براہِ راست ٹکرانے والا ہے — ایک ایسا واقعہ جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر کے سائنس دان اور فلکیات کے شوقین بے تابی سے منتظر ہیں۔
خلائی نگرانی کے معروف ماہر بل گرے، جو "پراجیکٹ پلوٹو” نامی سافٹ ویئر چلاتے ہیں اور برسوں سے خلائی اجسام کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں، کے مطابق اسپیس ایکس کا یہ ناکارہ راکٹ بدھ کے روز رات گئے چاند کی سطح سے ٹکرائے گا۔ یہ ٹکراؤ چاند کے سورج کی روشنی میں نہائے مغربی کنارے پر واقع مشہور آئن اسٹائن کریٹر کے قریب پیش آئے گا۔
چونکہ یہ واقعہ رات کے آخری پہر میں پیش آنے والا ہے، اس لیے امریکا اور کینیڈا کے مشرقی حصوں کے ساتھ ساتھ جنوبی امریکہ کے بیشتر علاقوں کو اس نایاب مظہر کا بہترین نظارہ کرنے کا موقع ملے گا۔
بل گرے کے مطابق راکٹ کا بالائی حصہ تقریباً 5,400 میل فی گھنٹہ، یعنی 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حیران کن رفتار سے چاند کی سطح سے ٹکرائے گا — یہ رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً سات گنا زیادہ ہے۔ اتنی زبردست رفتار کے باعث تصادم کے نتیجے میں چاند کی سطح پر ایک نیا گڑھا (کریٹر) بن جائے گا، جبکہ گرد و غبار اور چٹانی ملبے کا ایک بڑا بادل کئی میل بلند خلا میں بکھر جائے گا۔
خلائی محقق فرنینڈو کے اندازے کے مطابق اس تصادم سے بننے والا گڑھا تقریباً 90 فٹ (27 میٹر) چوڑا اور 16 فٹ (تقریباً 5 میٹر) گہرا ہوگا۔ اگرچہ یہ گڑھا زمین سے دوربینوں کے ذریعے براہِ راست دیکھنے کے لیے بہت چھوٹا ہوگا، تاہم خلائی جہازوں کے ذریعے اسے واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔
یہ راکٹ کا حصہ، جس کی لمبائی تقریباً 40 فٹ اور وزن قریباً 10,000 پاؤنڈ (تقریباً 4.5 ٹن) بتایا جاتا ہے، 15 جنوری 2025 کو دو نجی قمری لینڈرز کو خلا میں روانہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ مشن کی تکمیل کے بعد سے یہ بالائی راکٹ اسٹیج ایک سال سے زائد عرصے سے بغیر کسی مقصد کے خلا میں بے ترتیب انداز میں گردش کر رہا تھا، یہاں تک کہ اب اس کی رفتار اور مدار اسے چاند کی کشش ثقل کی زد میں لے آئے۔
اس نایاب واقعے کی سائنسی اہمیت کے پیشِ نظر امریکی خلائی ادارے ناسا کا "لیونر ری کونیسنس آربیٹر” اور جنوبی کوریا کا قمری مصنوعی سیارہ "دانوری” بھی اس تصادم سے پہلے اور بعد کی تصاویر حاصل کریں گے، تاکہ سائنس دان تصادم کے مقام میں آنے والی تبدیلیوں کا تفصیلی تجزیہ کر سکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محققین کی ٹیم کے مطابق "دانوری” مصنوعی سیارہ تصادم سے محض دو منٹ قبل اسپیس ایکس راکٹ سے صرف ایک سے دو میل (چند کلومیٹر) کے فاصلے سے گزرے گا، جس سے اسے اس نایاب واقعے کا انتہائی قریبی مشاہدہ کرنے کا موقع ملے گا۔
بل گرے کے مطابق اگرچہ خلائی ملبے کا یہ مخصوص ٹکڑا کسی فوری خطرے کا باعث نہیں، تاہم یہ واقعہ ایک اہم سائنسی موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں دلچسپی کی ایک بڑی وجہ یہ سمجھنا ہے کہ مستقبل میں خلا بازوں کے لیے اس نوعیت کے ملبے کے تصادم کتنا بڑا خطرہ بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ، چین اور دیگر ممالک آئندہ برسوں میں انسان بردار قمری مشنز بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بل گرے، جو اس نظارے کو کینیڈا کے نیو برنزوک سے خود دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، کے مطابق "خلا میں اب چیزیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں” — یعنی زمین کے مدار اور اس سے آگے خلائی ملبے کی بھرمار ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ انسانی ساختہ خلائی ملبہ چاند سے ٹکرایا ہو۔ اس سے قبل مارچ 2022 میں بھی ایک متروک راکٹ بوسٹر تقریباً 5,800 میل فی گھنٹہ (9,300 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے چاند کی دور والی سطح سے ٹکرایا تھا۔ اس وقت ابتدائی طور پر اسپیس ایکس کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، مگر بعد ازاں تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ دراصل ایک چینی خلائی مشن کا حصہ تھا، جسے چین نے تاحال باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق زمین کے قریبی مدار میں موجود خلائی ملبے کو نسبتاً آسانی سے ٹریک کیا جا سکتا ہے، مگر گہری خلا میں بھیجے گئے اجسام اکثر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور صرف چند شوقین ماہرین ہی ان پر نظر رکھتے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات وقتاً فوقتاً خبردار کرتے رہے ہیں کہ یہ بڑھتا ہوا خلائی ملبہ مستقبل میں ضروری خدمات فراہم کرنے والے مصنوعی سیاروں، جیسے مواصلاتی اور موسمیاتی سیاروں، کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے تصادم سے چاند کے مدار یا اس کی ساخت پر کسی قسم کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑتا۔ چونکہ چاند کے پاس تقریباً کوئی حقیقی فضا موجود نہیں، اس لیے یہ صدیوں سے شہابیوں، سیارچوں اور کبھی کبھار خلائی جہازوں کے تصادم کا سامنا کرتا رہا ہے۔ چاند پر موسمی تبدیلی اور کٹاؤ کا عمل نہ ہونے کے باعث یہاں بننے والے گڑھے ہمیشہ کے لیے برقرار رہتے ہیں — یہی وجہ ہے کہ چاند کی سطح ہزاروں چھوٹے بڑے گڑھوں سے بھری پڑی ہے، جن میں سے کچھ کی چوڑائی 1,600 میل تک بھی جا سکتی ہے۔