سلام آباد: ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک اور مہنگائی کی خبر سامنے آگئی ہے، جہاں کراچی سمیت پورے پاکستان میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا کو باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔
درخواست کے مطابق بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جس پر مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت غور کیا جائے گا۔ نیپرا اس درخواست پر سماعت کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا۔
اگر ریگولیٹری اتھارٹی اس اضافے کی منظوری دے دیتی ہے تو ملک بھر کے بجلی صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، جس کا اثر آئندہ بجلی کے بلوں میں نظر آئے گا۔
سی پی پی اے کی رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران ملک میں 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ اس عرصے میں بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ ریفرنس فیول لاگت 8 روپے 43 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی، جس کے باعث فیول لاگت میں فرق سامنے آیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مئی کے دوران بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ پانی سے حاصل کیا گیا، جبکہ مقامی اور درآمدی کوئلے، قدرتی گیس اور فرنس آئل سے بھی بجلی پیدا کی گئی۔ مختلف ذرائع سے پیداوار کی لاگت میں فرق کے باعث مجموعی فیول ایڈجسٹمنٹ میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
اب نیپرا سی پی پی اے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار اور دلائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ منظور کیا جائے یا نہیں۔ اگر درخواست منظور ہو جاتی ہے تو اس کا اطلاق متعلقہ صارفین کے آئندہ بجلی کے بلوں پر ہوگا۔