انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کا امکان: بلومبرگ کی رپورٹ، ٹرمپ کے بیانات اور حقیقت کیا ہے؟

امریکی جریدے بلومبرگ کی 24 اکتوبر کی ایک رپورٹ نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بارے میں ایک بار پھر خدشات بڑھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شدت لانے کی تیاری کر رہے ہیں، اور یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل میں انتخابات مکمل ہونے کے بعد ہو سکتی ہے۔ اس خبر کو بعض اردو سرخیوں میں "قیامت خیز حملوں کا خدشہ” جیسے الفاظ دیے گئے، مگر رپورٹ کے مندرجات اس سے کہیں زیادہ محتاط ہیں۔ ان میں وقت غیر یقینی ہے، فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی، اور زیادہ تر دعوے گمنام ذرائع پر مبنی ہیں۔ اس لیے اسے ایک امکان اور تیاری کی خبر کے طور پر پڑھنا چاہیے، حتمی فیصلے کے اعلان کے طور پر نہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے اہم نکات یہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے خلیج فارس کی طرف تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑہ اور دس ہزار اضافی ملاحوں اور میرینز کو روانہ کیا ہے تاکہ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں کمانڈروں کے پاس زیادہ اختیارات ہوں۔ ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ کے ان اڈوں پر عملے کی تعداد کم کی گئی ہے جنھیں ایرانی جوابی حملوں میں شدید نقصان پہنچا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی فوج کو آبنائے ہرمز میں جہازوں کو گزارنے میں کچھ کامیابی ملی ہے۔ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کر کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی، اور محکمۂ خارجہ نے ریاض کے ہوائی اڈے اور توانائی کی تنصیبات پر حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب سے بعض سفارت کاروں اور ان کے خاندانوں کو نکلنے کا حکم دیا۔ یہ تمام پیش رفتیں ایک بڑے سیاق کا حصہ ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں کرتی کہ حملے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔

وقت کے سوال پر ٹرمپ کے اپنے بیانات مختلف سمتوں میں گئے ہیں۔ یکم اکتوبر کو بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر بمباری میں اضافہ "ممکن” ہے۔ پھر 8 اکتوبر کو ایکسیوس کے مطابق انھوں نے اپنے سماجی پلیٹ فارم پر لکھا کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا، ایران معاشی اور عسکری لحاظ سے کمزور حالت میں ہے، امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی اور آبنائے ہرمز سے تیل بڑی مقدار میں گزر رہا ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کئی دن تک لڑائی دوبارہ شروع کرنے پر غور کیا تھا اور پینٹاگون نے مرکزی کمان کو تیاری مکمل کرنے کو کہا تھا، اور ممکنہ ہدف ایران کی توانائی، انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات بتائے گئے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ تین چار ہفتوں میں دوبارہ لڑائی سے انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی رپورٹ میں ایکسیوس نے یہ بھی لکھا کہ ماضی میں ایران کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔

اس سلسلے میں ایک اور رپورٹ بھی گردش میں ہے۔ فری پریس جرنل کے مطابق فنانشل ٹائمز نے تین ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ اسرائیل نے 10 اکتوبر کے ہفتے کے آخر کے لیے ایران کے خلاف کئی روزہ بمباری کا منصوبہ تیار کیا تھا، جس کے ہدف میں بجلی گھر، جوہری مقامات اور حکومت سے منسلک ٹھکانے شامل بتائے گئے، اور ٹرمپ نے انتخابات سے پہلے ایک نئی جنگ کے خدشات کی وجہ سے اسے روک لیا۔ یہ سب گمنام ذرائع کی بات ہے، اور امریکی یا اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس کی تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں۔ ایک ذریعے نے آنے والے ہفتوں میں مشترکہ کارروائی کو "غیر معقول منظرنامہ نہیں” بتایا، مگر یہ واضح نہیں کہ امریکا اس میں شامل ہوگا یا نہیں۔ بلومبرگ کے مطابق نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایرانی خطرہ ختم کرنے کے لیے اس کی حکومت گرانا ہوگی، لیکن انھوں نے وقت کا اشارہ نہیں دیا۔

اب انتخابات کا پہلو دیکھیں۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہو رہے ہیں، اور امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہوں گے۔ اردو خبر میں دیے گئے اعداد کے مطابق امریکی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لیے مقابلہ ہوگا اور 36 ریاستوں میں گورنروں کا انتخاب بھی ہوگا۔ بلومبرگ نے لکھا کہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کم از کم ایک ایوان کھونے کا خطرہ ہے، اور اسی خطرے کی وجہ سے انتخابات سے پہلے حملے کا امکان کم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ جنگ نے ایندھن کی قیمتیں بڑھائیں اور مہنگائی میں اضافہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل اس سال 80 فیصد سے زیادہ بڑھ چکا ہے اور کشیدگی کے خدشات پر مزید اوپر جا رہا تھا، جبکہ امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔ پیو ریسرچ کے ایک سروے کے مطابق، جو 28 ستمبر سے 4 اکتوبر تک کیا گیا، تقریباً دو تہائی امریکی جنگ کے بارے میں ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش ہیں اور تقریباً آدھے کا خیال ہے کہ جنگ مزید ایک سال سے زیادہ چل سکتی ہے۔ یہ سروے رائے کا جائزہ ہے، پیش گوئی نہیں، مگر سیاسی دباؤ کی تصویر ضرور دیتا ہے۔

اسرائیلی انتخابات کا تعلق بھی اس بحث میں آتا ہے۔ بلومبرگ کے تجزیے کے مطابق جنگ کی تجدید نیتن یاہو کو قومی اتحادی حکومت بنانے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ اگر وہ اپنے حریف گیڈی آئزن کوٹ سے ہار جائیں تو آئزن کوٹ جنگ دوبارہ شروع کرنے میں زیادہ دلچسپی نہ لیں۔ بین الاقوامی کرائسس گروپ کے علی وائز کی رائے کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں جنگ کو سیاسی فرار کا راستہ سمجھ سکتے ہیں، جبکہ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے بریڈلی بومین کا مشورہ ہے کہ صدر کو موجودہ حکمت عملی کو کام کرنے دینا چاہیے۔ بروکنگز کی اسلی ایدن تاش باش کے مطابق جنگ کی بحالی متوقع ہے مگر وقت غیر یقینی ہے۔ یہ سب ماہرین کی آرا ہیں، اور ان کے درمیان اختلاف ہی بتاتا ہے کہ صورتِ حال کتنی غیر واضح ہے۔ بلومبرگ اکنامکس نے بھی کہا کہ صورتِ حال فروری کی جنگ سے پہلے کی حالت سے "عجیب حد تک مشابہ” ہے، مگر اس سے جنگ کے دوبارہ ہونے کے امکان کو بلند سمجھا جاتا ہے۔

ایران کی طرف کا موقف بھی دیکھنا ضروری ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کہہ چکے ہیں کہ ایران صرف اسی صورت میں سفارت کاری پر غور کرے گا جب امریکا کی سنجیدگی کا واضح ثبوت ملے، اور وہ پیش رفت کی زیادہ امید نہیں رکھتے۔ بلومبرگ کے مطابق ایران اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت پورے خطے میں جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے اور ہرمز کے قریب جہازوں پر اس کے حملے زیادہ شدید ہو گئے ہیں، اور ان میں گائیڈڈ میزائل استعمال ہو رہے ہیں۔ ان دعووں کے ذرائع، رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر گمنام ہیں، جن میں تہران کی سوچ سے واقف ایک شخص اور متحدہ عرب امارات کی حکومت کی سوچ سے واقف ایک شخص شامل ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ نے کہا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان "نتیجہ خیز بات چیت” ہو رہی ہے، مگر ایکسیوس کے مطابق اس بات کے آثار نہیں کہ بنیادی اختلافات کم ہو رہے ہوں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ہم نے انھیں بری طرح مارا ہے” اور امریکا مزید بھی کر سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس منظرنامے کے کئی پہلو ہیں۔ پاکستان اس بحران میں ثالث کی حیثیت رکھتا ہے، اپریل کی جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی اسی کردار کا حصہ تھے۔ ساتھ ہی سعودی عرب پر حوثی حملوں کے سبب مکہ دفاعی معاہدے اور پاک فوج کی سعودی عرب میں موجودگی کے سوالات بھی سامنے ہیں۔ اگر امریکا یا اسرائیل کی طرف سے ایران پر نیا بڑا حملہ ہوا تو اس کے اثرات خطے کے توانائی کے بہاؤ، تیل کی قیمتوں، بلوچستان کی سرحد اور سعودی عرب میں پاکستانیوں کی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں پہلے ہی عالمی منڈی سے جڑی ہیں، اور تیل مزید مہنگا ہوا تو اس کا اثر براہِ راست عام صارف تک پہنچے گا۔ یہ تجزیاتی نکات ہیں، کسی ایک رپورٹ کے دعوے نہیں۔

آخر میں، قاری کے لیے اصل نکتہ یہ ہے کہ بلومبرگ کی رپورٹ ایک ممکنہ منظرنامے کی نشاندہی کرتی ہے، فیصلہ نہیں۔ فوجی تعیناتیاں، ماہرین کی آرا، تیل اور سیاسی دباؤ سب اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انتخابات کے بعد کا دور نہایت نازک ہو سکتا ہے۔ ایک گمنام ذریعے کے مطابق انتخابات اور جنوری میں نئی کانگریس کے آغاز کے درمیان کا عرصہ سب سے مشکل ہوگا۔ مگر ٹرمپ کے اپنے بیانات میں بھی تضاد رہا ہے، اور دفاعی تیاری کا مطلب لازمی جنگ نہیں ہوتا۔ اس لیے "قیامت خیز” جیسے الفاظ کے بجائے ٹھوس سوالات پر نظر رکھنی چاہیے: کیا 27 اکتوبر کے اسرائیلی نتائج سے سیاسی سمت بدلتی ہے؟ کیا 3 نومبر کے بعد امریکی حکومت کا موقف بدلتا ہے؟ کیا ثالثی کی کوششیں کسی نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہیں؟ اور کیا ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز اور حملوں کی صورتِ حال میں تبدیلی آتی ہے؟ ان سوالوں کے جواب ہی بتائیں گے کہ یہ خدشات حقیقت بنتے ہیں یا نہیں۔