سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک مقامی رہائشی جاں بحق اور آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ یہ معلومات سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) کے بیان کے مطابق ہیں، جس میں کہا گیا کہ تمام زخمیوں کو فوراً اسپتال منتقل کیا گیا اور ہوائی اڈے کی املاک کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق زخمیوں کی حالت معمولی سے لے کر تشویش ناک تک بتائی گئی، تاہم مرنے والے کی قومیت اور زخمیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ حملے کی نوعیت، ہتھیار کی قسم، ذمہ دار فریق اور محرک کے بارے میں گاکا یا دوسرے سرکاری حکام کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ اس لیے اس خبر کا سب سے ایماندارانہ خلاصہ یہی ہے کہ جانی نقصان کی تصدیق ہو چکی ہے، مگر حملہ کس نے اور کس ہتھیار سے کیا، یہ ابھی نامعلوم ہے۔
واقعے کے وقت کے بارے میں رپورٹوں میں معمولی فرق ہے جو قاری کو معلوم ہونا چاہیے۔ ایک رپورٹ میں اسے بدھ 22 اکتوبر کی شام کا واقعہ بتایا گیا، جبکہ دوسری رپورٹوں کے مطابق حملہ بدھ 21 اکتوبر کی شام دیر گئے ہوا اور گاکا نے جمعرات 22 اکتوبر کی صبح اس کی تصدیق کی۔ کیلنڈر کے لحاظ سے 21 اکتوبر 2026 بدھ کا دن ہے، اس لیے دوسرا بیان زیادہ قرینِ قیاس ہے، اور مضمون میں اسی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ایکسپریس کی خبر کی ڈیٹ لائن 22 اکتوبر کی ہے، جس کی وجہ یہی ہے کہ تصدیق جمعرات کو آئی۔
یہ پہلی بار نہیں کہ دمام کا یہ ایئرپورٹ نشانے پر آیا ہو۔ رپورٹوں کے مطابق 11 اکتوبر کو بھی اس ہوائی اڈے پر حملے کی تصدیق ہوئی تھی۔ ایک رپورٹ میں اس وقت کسی جانی نقصان کا ذکر نہیں تھا اور صرف یہ بتایا گیا کہ نقصان کے جائزے اور حفاظتی معائنے جاری ہیں۔ اسی دن ریاض کے ہوائی اڈے پر بھی حملے میں ایک پاکستانی رہائشی ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے۔ یعنی اکتوبر کے دوران کئی ہوائی اڈوں کے حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے: 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملہ جس میں 13 ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، 11 اکتوبر کو ریاض اور دمام پر مزید حملے، اور اب 21 اکتوبر کو دمام پر یہ واقعہ۔ یہ سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ سول ہوا بازی کی تنصیبات بار بار نشانہ بن رہی ہیں، اگرچہ ہر واقعے کی نوعیت اور ذمہ دار فریق ایک جیسا ہونا ضروری نہیں۔
اسی دن کے دوسرے واقعات کو الگ سمجھنا ضروری ہے تاکہ ان میں خلط ملط نہ ہو۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق ملک کے مشرق میں متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب شیبہ تیل کے میدان کی طرف آنے والے ایک ڈرون کو روکا گیا، لیکن اس کے ملبے سے دو افراد، ایک فلپائنی اور ایک نیپالی کارکن، ہلاک اور دو زخمی ہوئے، جن میں ایک رپورٹ کے مطابق ایک پاکستانی اور ایک بھارتی تھا۔ وزارت نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کس نے بھیجا۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ مشرقی صوبے اور مدینہ کے علاقے میں چھ ڈرونز روکے گئے، اور اس بیان میں بھی بھیجنے والے کا نام نہیں تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس دن سعودی عرب میں تین اموات ہوئیں، جن میں دمام کی ایک اور شیبہ کی دو شامل ہیں۔ دمام ایئرپورٹ کا حملہ اور شیبہ کا واقعہ دو الگ واقعات ہیں، اور ان کا ایک ہی حملہ آور ہونا کسی رپورٹ سے ثابت نہیں۔
ذمہ داری کے سوال پر رپورٹیں متضاد ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر زیادہ تر حملوں کا الزام یمن کے حوثیوں پر لگایا جاتا رہا ہے، اور ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ مملکت حوثیوں کے مسلسل حملے کی زد میں ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے تردید کی کہ ان کی فورسز نے سعودی سرزمین کے اندر دور تک کارروائیاں کی ہیں۔ دوسری رپورٹ نے لکھا کہ حوثیوں نے دمام حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، اور اس میں تردید کا ذکر نہیں تھا۔ یہ دونوں باتیں ایک ساتھ درست ہو سکتی ہیں: کسی گروہ کا ذمہ داری قبول نہ کرنا اور گروہ کا عمومی تردید کرنا الگ چیزیں ہیں۔ بہرحال امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ حوثی فورسز نے سعودی عرب پر حملے تیز کیے ہیں، جن میں شہری ہوائی اڈے اور بنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔ یہ عمومی بیان ہے، دمام کے مخصوص حملے کی ذمہ داری کا اعلان نہیں۔ جب تک سعودی حکام تحقیقات کے بعد کسی کا نام نہیں لیتے، دمام کے حملے کو کسی خاص گروہ سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔
دمام کا جغرافیائی مقام بھی اس سوال کو دلچسپ بناتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ریاض تک پہنچنے کے لیے میزائلوں کو ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑا تھا، اور دمام خلیج کے ساحل پر مشرقی صوبے میں واقع ہے، جو یمن کی سرحد سے اور بھی دور ہے۔ یہ جغرافیائی مشاہدہ ہے، کسی رپورٹ کا دعویٰ نہیں، اور اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ حملہ کسی خاص طرف سے ہوا۔ مگر اس سے یہ احتیاط ضروری ہو جاتی ہے کہ ہوائی اڈے کے حملے کی تفصیل، یعنی میزائل یا ڈرون اور اس کا راستہ، تحقیقات کے بعد ہی طے ہوگی۔
اس واقعے کے ساتھ ایک اور بڑی خبر امریکی سفارتی عملے کے انخلا کی ہے۔ ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ واشنگٹن نے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کے تمام عملے اور ان کے خاندانوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا، اور یہ بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں بھی سفارت خانوں کے عملے کے خاندانوں کو جانے کا کہا گیا۔ تاہم امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق یہ حکم صرف سعودی عرب پر لاگو ہوتا ہے، دیگر خلیجی ممالک پر نہیں، اور اس کا اطلاق غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے خاندانوں پر ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی اہلکاروں کا تحفظ محکمے کی ترجیح ہے۔ ان دونوں بیانات میں واضح فرق ہے، اس لیے سرکاری وضاحت کو ترجیح دینا مناسب ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانہ ہوائی اڈوں پر مزید حملوں کے بارے میں خبردار کر چکا ہے، اور امریکی سرکاری ملازمین کو سعودی ہوائی اڈوں کے استعمال کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔
فضائی سفر پر اثر بھی نمایاں ہے۔ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق دمام ایئرپورٹ کی پروازیں دوسری طرف موڑی گئیں، مگر خلل کی حد واضح نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو اس ماہ کئی بار نشانہ بنا اور 10 اکتوبر کو بند ہو گیا تھا، جزوی طور پر دوبارہ کھل چکا ہے، اور فلائٹ ایویئر کے اعداد کے مطابق سعودیہ اور فلائی ناس کی پروازیں چل رہی تھیں۔ لوفتھانزا اور ایئر فرانس نے وسط نومبر تک اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ پاکستانی مسافروں اور خاندانوں کے لیے یہ اطلاعات اس لیے اہم ہیں کہ بڑی تعداد میں پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں، اور مشرقی صوبہ، جس میں دمام، الخبر اور ظہران شامل ہیں، صنعتی اور تیل کی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔ اگر کوئی پاکستانی سفر کرنے والا ہے تو بہتر یہ ہے کہ ایئرلائن اور ایئرپورٹ کے سرکاری اعلانات سے تازہ ترین صورتِ حال کی تصدیق کرے۔
سفارتی سطح پر بھی سرگرمی جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے ریاض کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جو اس ماہ حوثیوں کے حملے تیز ہونے کے بعد کسی مغربی رہنما کا پہلا دورہ بتایا گیا۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ سعودی عرب کے لیے قاہرہ کی مجوزہ عسکری معاونت سعودی علاقے کے دفاع کے لیے ہوگی اور اس میں یمن پر حملہ شامل نہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران سفارت کاری کے لیے کھلا ہے مگر اگر امریکا نے جنگ کو سفارت کاری پر ترجیح دی تو نتیجہ ایک اور بڑی اسٹریٹجک ناکامی ہوگا۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر کے ایک مشیر کے مطابق ایران اور اسرائیل ایک "صفر گھڑی” کے قریب جا رہے ہیں۔ یہ سب بیانات الگ الگ فریقوں کے ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی دمام حملے کی براہِ راست وضاحت نہیں کرتا۔ یہ واقعہ اسی بڑی علاقائی کشیدگی کا حصہ ہے جس کے لیے ایک رپورٹ نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کو "دن 235” کا عنوان دیا۔
معاشی اثرات کا سوال بھی اٹھتا ہے۔ ایک ادارے کپلر کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح 23.3 ملین بیرل روزانہ سے بڑھ کر 24 ملین بیرل روزانہ سے اوپر پہنچ چکی ہیں۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ بحران کے باوجود خطے کی برآمدات متاثر ہونے کے بجائے اوپر گئی ہیں، جو ایک غیر متوقع پہلو ہے۔ اس کی تفصیل اور وجوہات اس رپورٹ میں نہیں، اس لیے اس سے کوئی نتیجہ نکالنا مناسب نہیں۔ البتہ دمام اور اس کے گرد مشرقی صوبہ سعودی تیل کی صنعت کا مرکز ہے، اس لیے وہاں کے ہوائی اڈے اور تیل کی تنصیبات پر ہر حملے کی خبر منڈیوں میں بھی توجہ حاصل کرتی ہے۔
آخر میں یہ دیکھنا ہوگا کہ سعودی حکام کیا تفصیل جاری کرتے ہیں۔ کیا حملے کی نوعیت اور ہتھیار کا اعلان ہوگا؟ کیا ذمہ دار فریق کا نام لیا جائے گا؟ مرنے والے کی شناخت اور زخمیوں کی حالت کیا ہے؟ اور کیا ہوائی اڈے کی سروس مکمل بحال ہوتی ہے؟ ان سوالات کے ساتھ ایک بنیادی نکتہ یہ بھی ہے کہ شہری ہوائی اڈوں پر حملے عام شہریوں، مسافروں اور کارکنوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں، اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا سنگین مسئلہ ہے۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، خبروں کو احتیاط، تصدیق اور توازن کے ساتھ پڑھنا ہی بہتر ہے، اور افواہوں یا غیر مصدقہ ویڈیوز پر یقین کرنے کے بجائے سرکاری اعلانات اور معتبر خبر رساں اداروں کی رپورٹوں پر انحصار کرنا چاہیے۔