واٹس ایپ آئی فون پر ہر لنک ایپ کے اندر کھولنے کی تیاری میں: نیا اِن ایپ براؤزر کیا ہے اور صارفین کے لیے کیا بدلے گا؟

واٹس ایپ آئی فون صارفین کے لیے ایک ایسے فیچر پر کام کر رہا ہے جس کے بعد چیٹ میں ٹیپ کیا گیا ہر ویب لنک سفاری یا کسی دوسرے ڈیفالٹ براؤزر کے بجائے براہِ راست واٹس ایپ کے اندر کھل سکے گا۔ یہ بات واٹس ایپ کی آنے والی خصوصیات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ واٹس ایپ بیٹا انفو کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جس کے مطابق اس فیچر کے آثار ٹیسٹ فلائٹ پر دستیاب آئی فون بیٹا ورژن 26.41.10.72 میں ملے ہیں۔ یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے: ٹیسٹ فلائٹ ایپل کا وہ پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے ڈویلپر ایپس کے تجرباتی ورژن ٹیسٹرز تک پہنچاتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق فیچر کا کوڈ اس بیٹا ورژن میں دیکھا گیا ہے، لیکن یہ ابھی ٹیسٹرز کے لیے فعال نہیں کیا گیا۔ یعنی یہ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے، اور واٹس ایپ نے اس کے اجرا کی کوئی تاریخ نہیں بتائی۔ اس لیے "فیچر آ گیا ہے” کہنے کے بجائے "آنے والا ہے” کہنا زیادہ درست ہوگا۔

اس فیچر کو سمجھنے کے لیے پہلے اِن ایپ براؤزر کا تصور دیکھیں۔ عام طور پر جب آپ کسی میسجنگ ایپ میں لنک پر ٹیپ کرتے ہیں تو فون آپ کو سفاری، کروم یا کسی اور ڈیفالٹ براؤزر میں لے جاتا ہے۔ اِن ایپ براؤزر میں وہی صفحہ اسی ایپ کے اندر ایک چھوٹی ونڈو میں کھل جاتا ہے، اور آپ کو ایپ چھوڑنی نہیں پڑتی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ سہولت ہے: لنک دیکھ کر واپس چیٹ میں آنا آسان ہو جاتا ہے، اور بات چیت کا تسلسل نہیں ٹوٹتا۔ فیس بک، انسٹاگرام اور کئی دوسری ایپس برسوں سے یہی طریقہ استعمال کرتی ہیں۔

واٹس ایپ نے اس سمت میں پہلے بھی قدم اٹھایا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق مئی 2025 میں آئی فون بیٹا ورژن 25.14.10.72 میں کچھ منتخب ٹیسٹرز کو یہ سہولت دی گئی کہ وہ کاروباری ویب سائٹس کے لنک ایپ سے نکلے بغیر کھول سکیں۔ اس وقت اس کی شرائط سخت تھیں۔ ویب سائٹ کا HTTPS استعمال کرنا ضروری تھا، اور واٹس ایپ نے کاروباروں کے لیے کچھ اضافی معیار بھی رکھے تھے، جن کی تفصیل واضح نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے چیٹس میں بھیجے جانے والے زیادہ تر لنک اس سہولت کے اہل نہیں تھے۔ اس مرحلے میں بھی صارف تین نقطوں والے مینو سے صفحہ اپنے ڈیفالٹ براؤزر میں کھول سکتا تھا۔ ان رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ سہولت ٹیسٹرز کے ایک حصے کو ہی ملی اور بتدریج پھیلائی جانی تھی۔

نیا فیچر اسی تجربے کی وسیع شکل ہے۔ واٹس ایپ بیٹا انفو کے مطابق اس میں لنک کی قسم پر پابندی نہیں ہوگی، اور چیٹ میں بھیجا یا موصول ہونے والا ہر لنک اِن ایپ براؤزر میں کھل سکے گا۔ اسے آن کرنے کے لیے ایپ کی سیٹنگز میں "اِن ایپ براؤزر” کے نام سے ایک نیا آپشن آئے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہ آپشن سیٹنگز کے چیٹس والے حصے میں ہوگا۔ جب صارف اسے پہلی بار آن کرے گا تو اسکرین کے نچلے حصے میں ایک پیغام ظاہر ہوگا جو بتائے گا کہ اب لنک سفاری یا دوسرے ڈیفالٹ براؤزر کی جگہ واٹس ایپ میں کھلیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فیچر خودکار طور پر مسلط نہیں ہوگا بلکہ صارف کے انتخاب پر منحصر ہوگا۔ دستیاب رپورٹوں میں یہ صراحت نہیں کہ فیچر پہلے سے آن ہوگا یا نہیں، تاہم اس کی ساخت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اختیاری ہوگا۔

اس فیچر کو فعال کرنا مستقل فیصلہ نہیں ہوگا۔ صارف جب چاہے سیٹنگز میں جا کر اسے بند کر سکے گا اور لنک دوبارہ اپنے ڈیفالٹ براؤزر میں کھلنے لگیں گے۔ اس کے علاوہ کسی ایک لنک کو ڈیفالٹ براؤزر میں کھولنے کے لیے اِن ایپ براؤزر کے مینو میں متبادل ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق براؤزر کی ایک الگ سیٹنگ اسکرین بھی ہوگی جس میں براؤزنگ ڈیٹا کا انتظام کیا جا سکے گا، یعنی کوکیز، کیش اور دوسرا ذخیرہ شدہ ڈیٹا صاف کرنے کا اختیار۔ براؤزنگ سیشن چیٹ سے الگ ہوں گے۔

پرائیویسی اس فیچر کا سب سے حساس پہلو ہے، اور یہی وہ سوال ہے جو واٹس ایپ جیسے ایپ کے بارے میں سب سے پہلے اٹھے گا۔ واٹس ایپ بیٹا انفو کے مطابق کمپنی چیٹ میں شیئر کیے گئے لنک یا صارف کے کھولے گئے لنک کو نہیں دیکھ سکے گی، اور براؤزنگ ڈیٹا مقامی طور پر ڈیوائس پر محفوظ ہوگا، جیسا کہ سفاری میں ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ اہم ہے، مگر اس پر دو احتیاطیں لازم ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ بیان بیٹا انفو کے ٹیسٹ فلائٹ کے مشاہدے کی بنیاد پر ہے، واٹس ایپ کی طرف سے رسمی وضاحت نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اس پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا۔ دوسری یہ کہ اجرا کے بعد ہی واضح ہوگا کہ عملی طور پر کون سا ڈیٹا کہاں محفوظ ہوتا ہے اور کون سی سروسز کس حد تک رسائی رکھتی ہیں۔ اس لیے صارفین کو سرکاری پرائیویسی وضاحت اور آزاد ماہرین کے جائزوں کا انتظار کرنا چاہیے۔

اِن ایپ براؤزر کے حق میں اور خلاف دونوں طرح کی آرا موجود ہیں۔ حق میں کہنے والے سہولت اور رفتار کی بات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی دوست کا بھیجا ہوا خبر کا لنک، ٹکٹ کی بکنگ کا صفحہ یا کسی کاروبار کی ویب سائٹ دیکھ کر فوراً چیٹ میں واپس آیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے، جو واٹس ایپ کے ذریعے گاہکوں کو پراڈکٹ لنک بھیجتے ہیں، یہ سہولت گاہک کا تجربہ بہتر بنا سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی چھوٹے دکان دار اور آن لائن فروخت کنندگان بڑی تعداد میں واٹس ایپ پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے لنک کا چیٹ ہی میں کھل جانا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

مخالف رائے رکھنے والے کچھ اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ ایک یہ کہ ڈیفالٹ براؤزر میں صارف کے محفوظ شدہ پاس ورڈ، آٹو فِل، اشتہار روکنے والے ٹولز اور ایکسٹینشنز ہوتے ہیں، جو اِن ایپ براؤزر میں دستیاب نہ ہوں تو تجربہ محدود ہو جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ ایپ کے اندر کھلا ہوا صفحہ ایڈریس بار اور سکیورٹی اشاروں کی وہ مکمل تصویر نہیں دکھاتا جو عام براؤزر دکھاتا ہے، اس لیے جعلی یا فشنگ ویب سائٹ کی پہچان مشکل ہو سکتی ہے۔ تیسری یہ کہ پرائیویسی کے معاملے میں صارفین اس وقت زیادہ محتاط ہوتے ہیں جب لنک اسی ایپ میں کھلے جو پہلے ہی ان کی گفتگو رکھتی ہو۔ یہ اعتراضات اس فیچر پر ثابت شدہ الزامات نہیں، بلکہ عمومی طور پر اِن ایپ براؤزرز کے بارے میں ٹیکنالوجی ماہرین کی تشویشیں ہیں، اس لیے واٹس ایپ کے مخصوص نفاذ کو اجرا کے بعد ہی جانچا جا سکے گا۔

سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے ایک اور بات اہم ہے۔ پاکستان سمیت کئی ملکوں میں واٹس ایپ پر دھوکا دہی کے پیغامات اور جعلی لنک عام ہیں، جیسے انعام کے جھوٹے دعوے، جعلی بینک لنک اور فراڈ پر مبنی آن لائن سروسز کے صفحات۔ اگر اِن ایپ براؤزر میں ہر لنک کھل جائے تو صارف کو اور زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوگی، کیونکہ لنک کھولنا اتنا آسان ہو جائے گا کہ بغیر سوچے ٹیپ کرنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کی عمومی نصیحت یہی ہے کہ کسی نامعلوم شخص کے لنک پر کبھی بھروسا نہ کیا جائے، ویب ایڈریس کو غور سے دیکھا جائے، بینک یا ذاتی معلومات کسی لنک کے ذریعے درج نہ کی جائیں، اور شک ہو تو لنک کو ڈیفالٹ براؤزر میں کھول کر ایڈریس دیکھ لیا جائے۔ واٹس ایپ کے نئے فیچر میں ایک ہی لنک کو ڈیفالٹ براؤزر میں کھولنے کا آپشن اسی وجہ سے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ واٹس ایپ کے بیٹا فیچرز ہمیشہ عام صارفین تک اسی شکل میں نہیں پہنچتے۔ کئی خصوصیات ٹیسٹ فلائٹ میں نظر آنے کے بعد مہینوں زیرِ تجربہ رہتی ہیں، اور بعض میں تبدیلی ہو جاتی ہے یا انھیں روک دیا جاتا ہے۔ جو ورژن نمبر 26.41.10.72 بتایا گیا ہے وہ ایک بیٹا ورژن ہے، نہ کہ عام صارفین کے لیے اسٹور پر دستیاب اپ ڈیٹ۔ اس لیے اگر آپ کے آئی فون پر ابھی یہ آپشن نظر نہیں آ رہا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی ایپ میں کوئی خرابی ہے۔ عام صارفین کے لیے جب تک واٹس ایپ باضابطہ اعلان نہ کرے، انتظار ہی بہتر ہے۔

آخر میں، یہ پیش رفت ایک وسیع رجحان کا حصہ ہے جس میں میسجنگ ایپس خود کو صرف گفتگو کے ذریعے سے بڑھا کر ایک مکمل پلیٹ فارم بنانا چاہتی ہیں، جہاں چیٹ، ادائیگی، خریداری اور ویب براؤزنگ ایک ہی جگہ ہو۔ صارفین کے لیے اس میں سہولت بھی ہے اور کنٹرول کا سوال بھی۔ اگر واٹس ایپ نے اسے اختیاری رکھا، براؤزنگ ڈیٹا کے انتظام کی شفاف سہولت دی اور ایک لنک کو ڈیفالٹ براؤزر میں کھولنے کا راستہ برقرار رکھا، تو یہ فیچر زیادہ تر صارفین کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ فیصلہ بہرحال صارف کے پاس رہنا چاہیے کہ وہ سہولت چاہتا ہے یا اپنے پسندیدہ براؤزر کا مکمل ماحول۔