پاسداران انقلاب کا دعویٰ: عسکری طاقت ڈیڑھ گنا بڑھ گئی، جنگ بڑھی تو "سرپرائز” ملے گا — دعوے کی حقیقت اور خطے کا منظرنامہ

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور، جسے عام طور پر پاسداران انقلاب کہا جاتا ہے، کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ فورس کی عسکری صلاحیت ماضی کے مقابلے میں کم از کم ڈیڑھ گنا بڑھ چکی ہے اور اگر جنگ میں شدت آئی تو پاسداران کے پاس ایسے ہتھیار اور صلاحیتیں ہیں جو مخالفین کے لیے غیر متوقع ثابت ہوں گی۔ ان کے مطابق یہ اضافہ مقداری اور معیاری دونوں سطحوں پر ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میزائلوں، ڈرونز اور دیگر فوجی سازوسامان کی پیداوار جاری رہی بلکہ اس میں توسیع کی گئی، اور ہتھیاروں کی مار، نشانے کی درستی اور تباہ کن صلاحیت بہتر بنائی گئی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش اور سفارتی کوششیں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔

اس بیان کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ کس نوعیت کا دعویٰ ہے۔ یہ ایک فریق کے ترجمان کا اپنا بیان ہے، آزاد جائزہ یا تصدیق شدہ فوجی آڈٹ نہیں۔ "ڈیڑھ گنا” کا اندازہ کس بنیاد پر لگایا گیا، کس پیمانے پر ناپا گیا اور کس سال یا مرحلے سے موازنہ کیا گیا، اس کی کوئی وضاحت دستیاب رپورٹوں میں نہیں ملتی۔ فوجی طاقت کئی عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے، مثلاً میزائلوں اور ڈرونز کی تعداد، لانچروں کی دستیابی، کمان اور کنٹرول کا نظام، فضائی دفاع، ایندھن اور رسد، تربیت یافتہ افرادی قوت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جنگ کے دوران ان سب کو کتنے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان سب کو ایک عدد "ڈیڑھ گنا” میں سمیٹ دینا بنیادی طور پر ایک سیاسی اور نفسیاتی پیغام ہے۔ اس لیے اسے ایک دعویٰ ہی سمجھنا چاہیے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔

پس منظر یہ ہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے، جن میں رپورٹوں کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر اور کئی اعلیٰ حکام ہلاک ہوئے۔ ایران نے اسرائیل، امریکی اڈوں اور امریکا کے اتحادی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا اور آبنائے ہرمز بند کر دی، جس سے عالمی تجارت متاثر ہوئی۔ آٹھ اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی نافذ ہوئی۔ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات، جن کی قیادت امریکا کی طرف سے نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، تقریباً 21 گھنٹے چلے مگر کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے۔ اس کے بعد امریکا نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے جانے والے جہازوں کی بحری ناکہ بندی شروع کی۔ جون میں 60 روزہ جنگ بندی کا اعلان ہوا اور 17 جون کو "اسلام آباد میمورنڈم” پر دستخط ہوئے، جس میں جنگ ختم کرنے اور حتمی شرائط پر 60 دن میں مذاکرات کی بات تھی۔ مگر آٹھ جولائی کو دونوں طرف کے حملوں کے بعد جنگ بندی ٹوٹ گئی اور اس کے بعد وقفے وقفے سے کم شدت کی لڑائی جاری رہی۔ اکتوبر کے آغاز میں ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھنے کا مؤقف سامنے آیا۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا اسلام آباد میمورنڈم پر مبنی ایران کی سات شرائط یا "سات روزہ منصوبہ” قبول نہیں کرتا۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران سفارت کاری اور اپنے دفاع دونوں میں سنجیدہ ہے، اور اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران پہلے سے بہتر تیار ہے۔ قالیباف نے یہ بھی کہا کہ ایران "عسکری میدان میں موجود” ہے اور نئے "سرپرائز” دے گا۔ دوسری طرف رپورٹوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کی آبنائے کھولنے کی تجویز چند گھنٹوں میں مسترد کر دی تھی، اور وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی ایران کو "تباہ” کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ یہ سارا پس منظر بتاتا ہے کہ محبی کا بیان الگ تھلگ نہیں بلکہ ایک مسلسل بیانیاتی جنگ کا حصہ ہے۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان اس سے پہلے بھی اسی نوعیت کے بیانات دے چکے ہیں۔ دو جون کو ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے رپورٹ ہوا کہ حسین محبی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار ہیں، اور حالیہ لڑائی نے انھیں مخالفین کے سازوسامان، فضائی دفاع، اڈوں اور حکمتِ عملی کی کہیں زیادہ تفصیلی سمجھ دی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے جنگ بندی کا وقت اپنی صلاحیتوں کی تعمیرِ نو اور توسیع کے لیے استعمال کیا، اور اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو کارروائیوں کی نوعیت، مقامات اور ہتھیار مختلف ہوں گے۔ انھوں نے آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری برقرار رہنے کو بھی پاسداران کی طاقت کی علامت کہا تھا۔ یعنی "جنگ بڑھی تو سرپرائز” کا جملہ ایک دہرایا جانے والا پیغام ہے، اور اس کی تازہ شکل میں ڈیڑھ گنا کا عدد شامل کیا گیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آزاد ذرائع اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔ مئی میں سی این این کی ایک رپورٹ، جو ایران واچ نے شائع کی، امریکی انٹیلی جنس کے جائزوں کے حوالے سے بتاتی ہے کہ ایران نے اپریل کی جنگ بندی کے دوران ڈرونز کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی اور اس کی بحالی کی رفتار امریکی ایجنسیوں کے پہلے اندازوں سے تیز ہے۔ ایک امریکی اہل کار کے مطابق ایران اپنی حملہ آور ڈرون صلاحیت چھ ماہ میں مکمل طور پر بحال کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے ساحلی دفاع کے کروز میزائلوں کا بڑا حصہ بچا لیا۔ اسی رپورٹ میں اسرائیلی وزیرِ اعظم اور کچھ ذرائع کی طرف سے یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ چین نے میزائل سازی میں استعمال ہونے والے پرزے فراہم کیے، جس کی چین کی وزارتِ خارجہ نے تردید کی۔ دوسری جانب اسی رپورٹ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل براڈ کوپر کا یہ بیان بھی ہے کہ بمباری میں ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کا 90 فیصد حصہ تباہ ہوا۔ ان دونوں باتوں میں تضاد ہے: ایک طرف بڑے پیمانے پر تباہی کا دعویٰ، دوسری طرف تیز بحالی کی رپورٹیں۔ یہ تضاد ہی بتاتا ہے کہ ایران کی اصل فوجی حالت پر اندازے مختلف ہیں اور کسی فریق کے دعوے کو حتمی نہیں مانا جا سکتا۔

اس تضاد کو سمجھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ تباہی اور بحالی دونوں جزوی طور پر سچ ہو سکتی ہیں۔ فضائی حملوں میں فیکٹریاں، ذخائر اور لانچر تباہ ہو سکتے ہیں، مگر ڈرون جیسی نسبتاً سادہ اور سستی ٹیکنالوجی جلد دوبارہ بنائی جا سکتی ہے، جبکہ جدید بیلسٹک میزائلوں کے انجن، گائیڈنس سسٹم اور ایندھن کی تیاری میں زیادہ وقت اور مہارت لگتی ہے۔ ماہرین عموماً کہتے ہیں کہ تعداد میں اضافہ اور معیار میں اضافہ دو الگ چیزیں ہیں۔ تعداد بڑھانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، مگر درستی اور رینج بہتر کرنے کے لیے ٹیسٹنگ درکار ہوتی ہے، جو پابندیوں اور ناکہ بندی کے ماحول میں مشکل ہے۔ اس لیے محبی کا "معیاری اضافہ” کا دعویٰ سب سے زیادہ تصدیق طلب ہے۔ اگر ایران نے واقعی نئے ہتھیار بنائے ہیں تو ان کا اصل امتحان تبھی ہوگا جب انھیں استعمال کیا جائے، اور تب تک یہ ایک غیر ثابت شدہ دعویٰ رہے گا۔

"سرپرائز” کی زبان بھی ڈیٹرنس کی ایک روایتی شکل ہے۔ جب کوئی فریق اپنی صلاحیتوں کی تفصیل نہیں بتاتا مگر ان کی موجودگی کا اشارہ دیتا ہے تو مخالف کے حسابات میں غیر یقینی پیدا ہوتی ہے۔ مخالف کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ اگر وہ حملہ کرے تو جواب کتنا شدید اور کس شکل کا ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی ایسے بیانات داخلی سامعین کے لیے بھی ہوتے ہیں۔ ایران کے اندر، جہاں جنگ، پابندیوں اور معاشی دباؤ نے عام لوگوں کی زندگی مشکل کی ہے، قیادت کے لیے یہ دکھانا ضروری ہوتا ہے کہ فوجی طاقت کمزور نہیں ہوئی۔ اسی طرح مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے پہلے اپنی پوزیشن مضبوط ظاہر کرنا بھی ایک سفارتی حربہ ہے۔ اس لیے بیان کے دو پہلو ہیں: ایک بیرونی انتباہ اور دوسرا اندرونی حوصلہ افزائی۔

اس بیان کا پاکستان سے بھی براہِ راست تعلق ہے۔ پاکستان اس پورے بحران میں ثالث کے طور پر نمایاں رہا ہے۔ اس نے اپریل کی جنگ بندی کی ثالثی کی، اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کی، اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ابتدائی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ پاکستان اور چین نے مارچ کے آخر میں ایک پانچ نکاتی امن اقدام بھی پیش کیا تھا۔ اسی کے ساتھ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے، اور پاک فوج کے ترجمان حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں مگر حرمین شریفین کا تحفظ سرخ لکیر ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے، اس لیے اسلام آباد کے لیے توازن قائم رکھنا ایک نازک سفارتی امتحان ہے۔ ایرانی ترجمان کا "جنگ بڑھی تو سرپرائز” والا بیان اس توازن کی ضرورت کو اور اہم بنا دیتا ہے، کیونکہ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات توانائی، سرحدوں اور ترسیلاتِ زر پر پڑ سکتے ہیں۔

عالمی معیشت کے لیے آبنائے ہرمز کی بندش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ عام حالات میں دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق یہ آبنائے سات ماہ سے زیادہ عرصے سے بڑی حد تک بند یا متاثر ہے، جس نے دہائیوں کی بدترین بحری رسد کی رکاوٹوں میں سے ایک پیدا کی ہے۔ اس سے تیل کی قیمتیں، جہاز رانی کے اخراجات اور درآمدی ممالک کی معیشتیں متاثر ہوتی ہیں، اور پاکستان جیسے ملک، جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، سب سے زیادہ دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی نئے فوجی اضافے یا "سرپرائز” کی بات عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کرتی ہے۔

یہاں احتیاط کی ایک اور بات ضروری ہے۔ پاسداران انقلاب کے بیانات کو نہ پوری طرح رد کیا جا سکتا ہے، نہ پوری طرح قبول۔ ایران کی میزائل اور ڈرون صنعت ایک حقیقت ہے جسے مغربی انٹیلی جنس بھی سنجیدہ خطرہ مانتی رہی ہے، اور جنگ کے دوران ایران نے خطے میں بڑے پیمانے پر حملے کر کے اپنی صلاحیت دکھائی۔ دوسری طرف اس صنعت کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بھی ٹھوس دعوے موجود ہیں۔ اس لیے محبی کا "ڈیڑھ گنا” ایک تشریح طلب سیاسی جملہ ہے، سائنسی پیمائش نہیں۔ یہی بات مخالف فریق کے بیانات پر بھی لاگو ہوتی ہے، چاہے وہ ایرانی دفاعی صنعت کی 90 فیصد تباہی کا دعویٰ ہو یا ٹرمپ کی "تباہ کر دینے” کی دھمکی۔ جنگ کے دوران ہر فریق اپنی صلاحیت بڑھا کر اور مخالف کی گھٹا کر پیش کرتا ہے۔

آنے والے دنوں میں دیکھنے کی چیزیں واضح ہیں۔ کیا امریکا اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بات چیت دوبارہ سنجیدہ مرحلے میں داخل ہوتی ہے؟ کیا آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران کی شرائط اور امریکا کے مطالبات میں کوئی درمیانی راستہ نکلتا ہے؟ کیا بحری ناکہ بندی میں نرمی آتی ہے؟ اور کیا واقعی کوئی نیا ہتھیار یا نئی حکمتِ عملی میدان میں سامنے آتی ہے؟ ان سوالوں کے جواب ہی طے کریں گے کہ "سرپرائز” کا اعلان محض بیان بازی تھا یا آنے والی حقیقت کا اشارہ۔ فی الحال سب سے محفوظ نتیجہ یہی ہے کہ دونوں طرف سے دباؤ اور ڈیٹرنس کی زبان استعمال ہو رہی ہے، اور خطے کے ممالک اور عوام کے مفاد میں یہی ہے کہ یہ زبان عمل میں نہ ڈھلے، بلکہ مذاکرات کا راستہ کھلا رہے۔