ممبئی کے علاقے جوہو میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے نے بھارتی فلمی صنعت اور ممبئی پولیس دونوں کو ایک بار پھر چوکنا کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق واقعہ اتوار کی شام جوہو کے پشپا نرسی پارک کے قریب پیش آیا، جہاں اداکار ہر اتوار فٹ بال کھیلنے جاتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ گاڑی کی طرف پانچ گولیاں چلائی گئیں۔ ٹائیگر شروف محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور کے بائیں ہاتھ میں گولی لگی اور موقعے پر موجود ایک اور شخص بھی زخمی ہوا۔ دونوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ ایک رپورٹ میں دوسرے زخمی کو آٹو رکشا ڈرائیور بتایا گیا ہے، جبکہ دوسری میں صرف گاڑی کے قریب کھڑا شخص لکھا گیا، اس لیے اس کی شناخت اور زخموں کی نوعیت کے بارے میں مزید تصدیق باقی ہے۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی ہے جس میں مشتبہ افراد کی پہلی تصاویر سامنے آئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق فوٹیج میں دو افراد نظر آتے ہیں جو ایک موٹر سائیکل پر آئے، فائرنگ کے بعد ایس وی روڈ کی طرف نکلے اور بعد میں موٹر سائیکل اندھیری ویسٹ ریلوے اسٹیشن کے باہر چھوڑ گئے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ابتدائی خبر میں واقعے میں تین افراد کے ملوث ہونے اور ان کی متعدد موٹر سائیکلوں کا ذکر تھا۔ یہاں ایک واضح فرق نظر آتا ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے: کہیں دو مشتبہ افراد کی بات ہے اور کہیں تین کی، اور بعض مقامات پر ایک موٹر سائیکل اور بعض جگہ ایک سے زیادہ کا ذکر ہے۔ ایسے ہنگامی واقعات میں ابتدائی اطلاعات اکثر بدلتی ہیں، اس لیے حتمی تعداد کے لیے پولیس کے باضابطہ بیان کا انتظار مناسب ہوگا۔
اس کے بعد پیش رفت تیزی سے ہوئی۔ دی ویک کی رپورٹ کے مطابق، جو ہندوستان ٹائمز اور اے این آئی کے حوالے دیتی ہے، پیر کی صبح تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق بہار سے اور ایک کا ہریانہ سے ہے، جبکہ تیسرا مبینہ طور پر نابالغ ہے اور اس کی شناخت کی تصدیق ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر واردات کے بعد اندھیری ویسٹ اسٹیشن کے قریب موٹر سائیکل چھوڑی، ٹرین میں سوار ہوئے اور بوریولی کی سمت روانہ ہوئے۔ ممبئی پولیس نے راجستھان پولیس کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا، کوٹہ کی ایس پی تیجسونی گوتم نے ٹیم اسٹیشن بھیجی، ریلوے پروٹیکشن فورس کو بھی خبردار کیا گیا، اور مشتبہ افراد کو پونے جے پور ٹرین کے جنرل ڈبے سے کوٹہ ریلوے اسٹیشن پر پکڑ لیا گیا۔ اس رپورٹ میں اسے ممبئی، راجستھان اور ریلوے پولیس کی مشترکہ کارروائی قرار دیا گیا۔ ان تینوں کے نام یہاں جان بوجھ کر نہیں لکھے جا رہے، کیونکہ ایک مبینہ نابالغ شامل ہے اور باقی دو ابھی صرف مشتبہ ہیں، جن کا جرم عدالت میں ثابت نہیں ہوا۔
پولیس ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ تینوں کو مجموعی طور پر 50 ہزار روپے پیشگی ملے تھے، اور کرائم برانچ کے ذرائع کے مطابق انھوں نے پہلے سے اداکار کی نقل و حرکت کی ریکی کی تھی۔ تفتیش کاروں کا ابتدائی اندازہ ہے کہ حملہ آوروں کو معلوم تھا کہ ٹائیگر ہر اتوار تقریباً دو گھنٹے اس پارک میں فٹ بال کھیلتے ہیں، اور ممکن ہے انھوں نے انھیں گیٹ پر انتظار کر کے یا پیچھا کر کے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہو۔ یہ دعوے ذرائع کی بنیاد پر ہیں اور عدالت میں شواہد سے ثابت ہونا باقی ہیں۔ رپورٹوں میں یہ بھی آیا ہے کہ ٹائیگر کی جانب سے پہلے کسی دھمکی آمیز کال کی شکایت درج نہیں ہوئی تھی۔
پولیس کی طرف سے ممبئی پولیس نے مقدمہ بھارتی نیائے سنہیتا کی دفعہ 109(1) (قتل کی کوشش)، دفعہ 3(5) (مشترکہ ارادے کے تحت جرم) اور اسلحہ ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا ہے، جیسا کہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا۔ فرانزک ماہرین نے موقعے سے نمونے جمع کیے۔ پندرہ پولیس ٹیموں کے سڑک، ریل اور فضائی راستوں پر مشتبہ افراد کی تلاش کی بھی خبر آئی تھی، اور یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ کیس ممبئی کرائم برانچ کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ گرفتاری کی خبر آنے کے بعد مقدمے کی اگلی کارروائی، تفتیشی ریمانڈ اور مزید گرفتاریوں کا انتظار ہے۔
اس واقعے کا سب سے حساس پہلو یہ ہے کہ تحقیقات کار لارنس بشنوئی گینگ سے ممکنہ تعلق کی جانچ کر رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق کسی سوشل میڈیا پوسٹ میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، مگر پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ اسی لیے اسے حتمی طور پر کسی گروہ سے جوڑنا درست نہیں۔ بھارت میں ایسے واقعات کے بعد عموماً گروہوں کے نام تیزی سے گردش کرتے ہیں، مگر پولیس کی تحقیقات سے پہلے ایسے دعوے سنجیدہ تصدیق کے محتاج رہتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق پولیس اس حملے کا موازنہ فلم ساز روہت شیٹی کے گھر کے باہر فائرنگ کے ایک سابقہ واقعے سے کر رہی ہے۔ اس کیس میں بھی گرفتاریاں ہوئیں اور بشنوئی گینگ سے ممکنہ تعلق کی اطلاعات آئی تھیں، اور ملزمان کو خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
بالی ووڈ کے لیے یہ کوئی بالکل نیا خطرہ نہیں۔ اپریل 2024 میں اداکار سلمان خان کے باندرہ کے گھر کے باہر فائرنگ ہوئی تھی، اور اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے نے سلمان خان سے ملاقات کی تھی۔ ٹائیگر شروف کو ماضی میں بھی دھمکی کی خبریں ملی ہیں؛ ایک پرانی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ایک شخص نے ممبئی پولیس کو کال کر کے ٹائیگر کو جان سے مارنے کی اطلاع دی تھی، اور بعد میں وہ کال جعلی نکلی۔ ایسی خبریں بتاتی ہیں کہ نامور فنکار بیک وقت شہرت اور عدم تحفظ دونوں کا سامنا کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پرانی دھمکی کی کال اور اس نئے واقعے کے درمیان کوئی ثابت شدہ تعلق نہیں، اور اسے جوڑنا قیاس ہوگا۔
اس دوران مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ٹائیگر شروف کی رہائش گاہ جا کر ان سے ملاقات کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے واقعے کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا، ممبئی پولیس کمشنر دیون بھارتی سے بات کرنے کا ذکر کیا اور کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، اور یہ کہ کوئی گینگ، چاہے وہ کوئی بھی ہو، بخشا نہیں جائے گا۔ شندے کے مطابق ٹائیگر نے بھی پولیس کمشنر سے بات کی۔ ٹائیگر شروف کا اپنا براہِ راست بیان رپورٹوں میں نہیں ملتا۔ ایک سیاسی رہنما کا اداکار کی رہائش گاہ پر جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت اس واقعے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، مگر ناقدین عموماً یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا ایسی ملاقاتیں قانونی کارروائی کی رفتار پر اثر ڈالتی ہیں یا محض علامتی ہوتی ہیں۔ اس کا فیصلہ پولیس کی تفتیش اور عدالتی نتائج ہی کریں گے۔
اس واقعے سے دو سوال خاص طور پر ابھرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ایک مصروف رہائشی اور تفریحی علاقے میں کھلے عام فائرنگ کا امکان کس طرح پیدا ہوا اور کیا اداکاروں کی سکیورٹی کا موجودہ نظام کافی ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر واقعی کرائے کے افراد استعمال ہوئے، جیسا کہ پیشگی رقم کی رپورٹ کا مفہوم ہے، تو ان کے پیچھے کون سا نیٹ ورک تھا اور اسے توڑنا کتنا مشکل ہوگا۔ بھارتی پولیس کے لیے ایک اور چیلنج یہ ہے کہ ایسے گروہ اکثر کم عمر یا بیرونِ ریاست کے لوگوں کو استعمال کرتے ہیں تاکہ تفتیش کا دائرہ بکھر جائے۔ اس معاملے میں ایک مبینہ نابالغ کی گرفتاری اسی رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے، مگر یہ فی الحال ایک تجزیہ ہے، ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔

قانونی لحاظ سے دفعہ 109(1) سنگین نوعیت کی ہے کیونکہ اس میں قتل کی کوشش کا الزام شامل ہے، چاہے کوئی جان ضائع نہ ہوئی ہو۔ مشترکہ ارادے کی دفعہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر ثابت ہو جائے کہ ایک سے زیادہ افراد نے طے شدہ منصوبے کے تحت کام کیا تو ہر ایک کو اجتماعی ذمہ داری کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسلحہ ایکٹ کی دفعات غیر قانونی ہتھیار کے حصول اور استعمال سے متعلق ہوتی ہیں۔ مگر مقدمہ درج ہونا الزام کا آغاز ہے، سزا نہیں۔ اس مرحلے پر پولیس عموماً تفتیشی ریمانڈ مانگتی ہے تاکہ ہتھیار کی برآمدگی، رقم کے لین دین اور رابطوں کی کڑیاں جوڑی جا سکیں۔ نابالغ ملزم کے معاملے میں بھارت کا قانون الگ طریقۂ کار رکھتا ہے، اس لیے اس کی شناخت ظاہر کرنا یا اسے عام ملزم کی طرح پیش کرنا مناسب نہیں ہوتا۔
ٹائیگر شروف کے مداحوں کے لیے ایک عملی بات یہ ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر ویڈیو، تصویر یا پوسٹ کو مستند نہ سمجھیں۔ ایسے واقعات کے بعد پرانی ویڈیوز، ترمیم شدہ فوٹیج اور بغیر تصدیق کے دعوے بہت تیزی سے پھیلتے ہیں، اور بعض اوقات کسی بے قصور شخص کو بھی مشتبہ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ قابلِ اعتماد خبر وہی ہے جو پولیس کے باضابطہ بیان یا کسی معتبر رپورٹر کے ذرائع کی وضاحت کے ساتھ آئے۔
آخر میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیس کس رخ پر جاتا ہے۔ پولیس کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ گرفتار افراد واقعی حملے میں ملوث تھے، ہتھیار کہاں سے آیا، رقم کس نے دی اور حکم کس نے دیا۔ ملزمان کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور تب تک انھیں بے گناہ تصور کیا جائے گا۔ ٹائیگر شروف اور ان کے ڈرائیور کا محفوظ ہونا اس واقعے کا سب سے مثبت پہلو ہے، مگر مقدمے کے اصل سوالات، یعنی محرک اور پشت پناہی، ابھی کھلے ہیں۔ جب تک پولیس باضابطہ طور پر مکمل تفصیل جاری نہیں کرتی، قارئین کے لیے بہتر ہے کہ مصدقہ حقائق، ذرائع کے دعوؤں اور سوشل میڈیا کی افواہوں کو الگ الگ رکھیں۔