بجلی کے بل پھر بڑھنے کو تیار: ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں 2.56 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست، نیپرا 29 اکتوبر کو سماعت کرے گا

ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک اور مہنگی خبر سامنے آئی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی یعنی سی پی پی اے نے ستمبر کی ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ اضافے کی باضابطہ درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں جمع کرا دی ہے۔ نیپرا اس درخواست پر 29 اکتوبر کو عوامی سماعت کرے گا، اور اس کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ صارفین سے کتنی رقم وصول کی جائے۔ اندازہ ہے کہ اگر درخواست مکمل طور پر منظور ہو گئی تو اس کا مجموعی بوجھ تقریباً 32 ارب 70 کروڑ روپے بنے گا، جو نومبر کے بلوں میں جھلکے گا۔ یہ ابھی صرف درخواست ہے، حتمی منظوری نہیں، لیکن گزشتہ مہینوں کے رجحان کو دیکھا جائے تو صارفین کو ایک بار پھر اضافی ادائیگی کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

اس درخواست کا حساب سمجھنا مشکل نہیں۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ہر مہینے کے لیے ایندھن کی ایک متوقع لاگت پہلے سے طے کر لی جاتی ہے، جسے ریفرنس لاگت کہا جاتا ہے۔ مہینہ ختم ہونے کے بعد جب اصل خرچ سامنے آتا ہے تو دونوں کا فرق نکالا جاتا ہے۔ اگر اصل لاگت زیادہ ہو تو یہ فرق صارفین سے اگلے ایک یا دو ماہ میں وصول کیا جاتا ہے، اور اگر کم ہو تو صارفین کو رعایت ملتی ہے۔ ستمبر کے لیے ریفرنس لاگت 7 روپے 46 پیسے فی یونٹ رکھی گئی تھی، جبکہ حقیقی اوسط لاگت 10 روپے 2 پیسے فی یونٹ رہی۔ ان دونوں کے درمیان فرق بالکل 2 روپے 56 پیسے بنتا ہے، یہی وہ رقم ہے جو سی پی پی اے وصول کرنا چاہتی ہے۔ ڈسکوز نے ستمبر میں صارفین کو مجموعی طور پر 12 ارب 76 کروڑ یونٹ بجلی فروخت کی، اور اگر اسی مقدار کو 2.56 روپے سے ضرب دیں تو کل بوجھ تقریباً 32.7 ارب روپے ہی نکلتا ہے۔

سی پی پی اے کی دستاویز کے مطابق ستمبر میں بجلی بنانے پر ایندھن کی مجموعی لاگت 127 ارب 87 کروڑ روپے رہی۔ اس میں مقامی کوئلے پر 7 ارب 95 کروڑ، درآمدی کوئلے پر 37 ارب 14 کروڑ، ڈیزل پر 13 ارب 26 کروڑ، فرنس آئل پر 11 ارب 81 کروڑ، مقامی گیس پر 13 ارب 89 کروڑ اور ایل این جی پر 31 ارب 93 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ ان مدوں کا الگ الگ مجموعہ پوری رقم سے کم بنتا ہے، یعنی خبر میں مذکور فہرست میں کچھ دوسرے ذرائع کی لاگت شامل نہیں، جن کی تفصیل مذکورہ رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ اعداد و شمار کا اہم پہلو یہ ہے کہ ایل این جی اور درآمدی کوئلہ سب سے مہنگی مدیں ہیں، اور ان کی قیمتیں عالمی منڈی اور سمندری راستوں کی صورتحال سے براہِ راست جڑی ہیں، جبکہ ڈیزل اور فرنس آئل بھی کافی مہنگے ہیں۔

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ایندھن کی لاگت اتنی کیوں بڑھی۔ پاور ڈویژن کے مطابق اس کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ برینٹ کروڈ بعض مواقع پر 120 ڈالر فی بیرل سے اوپر گیا، جبکہ بنیادی ٹیرف میں تقریباً 70 ڈالر کا فرض کیا گیا تھا۔ ایک رپورٹ نے اس کی وجہ خطے میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کو قرار دیا۔ اس کے ساتھ قطر کی جانب سے فورس میجر کا اعلان بھی اہم ہے، کیونکہ پاکستان ایل این جی کا بڑا حصہ وہیں سے حاصل کرتا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق حکومت معاہدوں اور اسپاٹ مارکیٹ کے ذریعے ایل این جی حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی، لیکن اگر گیس کی فراہمی مزید کم ہوئی تو بجلی گھروں کو مہنگے فرنس آئل اور ڈیزل پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ دعوے متعلقہ ادارے کے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

پاور ڈویژن کا دعویٰ ہے کہ اگر کچھ اقدامات نہ کیے جاتے تو ستمبر کی ایڈجسٹمنٹ پانچ سے چھ روپے فی یونٹ تک جا سکتی تھی، اور ان اقدامات کی بدولت صارفین کو 3 روپے 44 پیسے فی یونٹ تک کا ریلیف ملا۔ ڈویژن کے مطابق دو اہم اقدامات تھے: ستمبر میں روزانہ تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے کی ہدفی لوڈ مینجمنٹ، جس سے فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر انحصار کم ہوا، اور درآمدی ایل این جی کو بجلی گھروں کو مقامی گیس کی قیمت پر فراہم کرنا، جس سے 83 پیسے فی یونٹ کا بوجھ کم ہوا۔ یہ ایک دلچسپ دلیل ہے، مگر اس کا دوسرا رخ بھی ہے: لوڈ مینجمنٹ کا مطلب یہ ہے کہ بعض علاقوں کے صارفین نے بجلی کی بندش جھیلی، اس لیے قیمت میں کمی کی ایک قیمت شہریوں اور صنعتوں کو دوسری شکل میں بھی ادا کرنا پڑی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مبینہ طور پر بچائی گئی رقم کا حساب ڈویژن کا اپنا اندازہ ہے، اور اس کی آزادانہ جانچ دستیاب نہیں۔

گزشتہ مہینوں کے رجحان سے بھی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے ستمبر کے دوران صرف مارچ میں معمولی منفی ایڈجسٹمنٹ، یعنی تقریباً ایک پیسہ فی یونٹ کی معمولی رعایت ملی، جبکہ باقی آٹھ مہینوں میں صارفین کو اضافی ادائیگی کرنا پڑی۔ بعض رپورٹوں نے اسے مسلسل چھٹا اضافہ بھی قرار دیا ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق سات مہینوں کی مثبت ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے تقریباً 140 ارب روپے، 18 فیصد جی ایس ٹی سمیت، وصول کیے جا چکے ہیں۔ اگست کے لیے نیپرا نے حال ہی میں ایک روپیہ 11 پیسے فی یونٹ کی مثبت ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی جو اکتوبر کے بلوں میں شامل ہوگی۔ اس کے مقابلے میں ستمبر کی درخواست ایک روپیہ 45 پیسے زیادہ ہے، اور یہی فرق ڈسکوز کے صارفین کے نومبر کے بل کو مہنگا کر سکتا ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ نیپرا ہمیشہ درخواست کی مکمل رقم منظور نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر جولائی کے لیے سی پی پی اے نے 2.5182 روپے فی یونٹ مانگے تھے مگر نیپرا نے تقریباً 2.0581 روپے منظور کیے، جو درخواست کا تقریباً 82 فیصد تھا۔ اگست کے لیے درخواست 1.7267 روپے کی بتائی گئی، جبکہ منظور شدہ رقم 1.11 روپے رہی۔ یعنی دونوں مہینوں میں منظور شدہ رقم مانگی گئی رقم سے کم رہی۔ اس رجحان کی بنیاد پر یہ توقع تو کی جا سکتی ہے کہ ستمبر کی منظوری بھی کچھ کم ہو، مگر یہ محض ایک اندازہ ہے، کیونکہ ہر مہینے کی تفصیلات اور ریگولیٹر کی جانچ مختلف ہوتی ہے۔ حتمی رقم سماعت کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

صارفین کے لیے سادہ حساب بھی دیکھ لیں۔ اگر 2.56 روپے فی یونٹ کا اضافہ مکمل طور پر منظور ہو جائے تو ایک سو یونٹ استعمال کرنے والے صارف کو تقریباً 256 روپے، دو سو یونٹ پر تقریباً 512 روپے، تین سو یونٹ پر تقریباً 768 روپے اور پانچ سو یونٹ پر تقریباً 1,280 روپے اضافی دینے پڑیں گے۔ یہ اعداد ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے پہلے کے ہیں، اور ان میں جی ایس ٹی اور دوسرے محصولات شامل ہو کر بل مزید بڑھا سکتے ہیں۔ یہ حساب اس مفروضے پر ہے کہ صارف نے ستمبر میں اتنے ہی یونٹ استعمال کیے ہوں، اور بل کی اصل رقم صارف کے سلیب، بقایا ایڈجسٹمنٹس اور دیگر چارجز پر منحصر ہوگی۔

یہ بھی ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کن صارفین پر اس کا اطلاق ہوگا۔ گزشتہ ایڈجسٹمنٹس میں لائف لائن صارفین، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنوں اور پری پیڈ ٹیرف پر موجود صارفین کو استثنیٰ دیا گیا تھا، اور وفاقی پالیسی کے تحت یکساں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کراچی کے صارفین پر بھی لاگو ہوتی رہی۔ اس بار بھی استثنیٰ اور اطلاق کی تفصیلات نیپرا کے فیصلے ہی سے طے ہوں گی، اس لیے ابھی تک یہ کہنا مناسب نہیں کہ کون سی کٹیگری مستثنیٰ ہوگی۔ اسی طرح انکریمنٹل کنزمپشن پیکج کے تحت اضافی بجلی پر اطلاق کا معاملہ بھی ریگولیٹر کے فیصلے کا منتظر ہے۔

صنعتی صارفین کی جانب سے بھی تحفظات سامنے آئے ہیں۔ بعض رپورٹوں کے مطابق صنعتی شعبہ کہتا ہے کہ مخصوص پیکج کے تحت اضافی کھپت پر مارجنل لاگت 22.96 روپے فی یونٹ رکھی گئی ہے جو صرف محدود صارفین کو فائدہ دیتی ہے، جبکہ ان کے اندازے کے مطابق حقیقی مارجنل لاگت تقریباً 34 روپے ہے، جس سے اوسط ٹیرف میں تقریباً 11 روپے کا اضافہ بنتا ہے۔ نیپرا نے گزشتہ ہفتے اس پیکج کو تبدیل یا معطل کرنے پر عوامی سماعت کی، اور اس پر بھی فیصلہ باقی ہے۔ صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت محض آپریٹنگ لاگت نہیں بلکہ برآمدی مسابقت کا معاملہ ہے، اس لیے اس بحث کا اثر ملکی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔

ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ بار بار ایندھن کی ایڈجسٹمنٹ کیوں صارفین کے لیے اتنا تکلیف دہ ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ نظام ایندھن کی عالمی قیمتوں کا خطرہ براہِ راست صارف کو منتقل کر دیتا ہے۔ جب قیمتیں بڑھیں تو صارف سے زیادہ وصول ہوتا ہے، مگر جب کمی آئے تو اس کے فائدے کی شرح اتنی نمایاں نہیں ہوتی۔ دوسرا، چونکہ یہ ایڈجسٹمنٹ ہر مہینے آتی ہے، اس لیے گھریلو بجٹ بنانا مشکل ہوتا ہے، اور بجلی کے بل میں ٹیکس، فکسڈ چارجز، سلیب اور دیگر مدیں پہلے ہی بوجھ بنی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرین کے مطابق ملک میں مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی توانائی، پن بجلی، شمسی توانائی اور ٹرانسمیشن کی بہتری جیسے طویل المدت حل ہی پائیدار ہو سکتے ہیں۔

اس معاملے کا عالمی تناظر بھی نظرانداز نہیں ہو سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، خلیج میں جہاز رانی کے خطرات اور تیل و گیس کی غیر یقینی فراہمی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، مگر پاکستان جیسے درآمدی ملکوں پر اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔ حال ہی میں ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے، آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں کو نشانہ بنائے جانے اور امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کی خبریں توانائی کی منڈی میں بے یقینی بڑھاتی ہیں۔ جب تک یہ غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی، ایندھن کی لاگت اور اس کے نتیجے میں بجلی کی ایڈجسٹمنٹس پر دباؤ رہنے کا امکان ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ عام صارف کیا کر سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایڈجسٹمنٹ کا حساب بجلی کے یونٹوں کے استعمال پر ہوتا ہے، اس لیے کھپت کم کرنے سے ہی اس کا اثر کم کیا جا سکتا ہے۔ توانائی بچانے والے آلات کا استعمال، ائیر کنڈیشنر کی مناسب سیٹنگ، غیر ضروری لائٹس اور پنکھوں کی بندش اور بھاری آلات کو کم کھپت کے اوقات میں استعمال کرنا چند عملی تجاویز ہیں۔ ساتھ ہی صارفین اپنا بل غور سے دیکھیں، سلیب کی حد کا خیال رکھیں اور غلط ریڈنگ کی صورت میں متعلقہ ڈسکو سے رجوع کریں۔ جو لوگ شمسی توانائی کی طرف جا سکتے ہیں، انہیں پہلے متعلقہ پالیسی اور نیٹ میٹرنگ کی شرائط معلوم کر لینی چاہئیں، کیونکہ قواعد وقتاً فوقتاً بدلتے رہتے ہیں۔

عوامی سماعت میں صارفین، تاجر انجمنیں اور صنعتی نمائندے اپنا مؤقف پیش کر سکتے ہیں۔ نیپرا کی سماعتوں میں اکثر یہ نکات اٹھائے جاتے ہیں کہ کیا ایندھن کی لاگت کا حساب درست ہے، کیا پیداوار میں سب سے سستی بجلی کو ترجیح دی گئی، اور کیا کسی پلانٹ کی نااہلی یا غیر ضروری مہنگے ایندھن کے استعمال کا بوجھ صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔ اگر ریگولیٹر ان سوالات کی روشنی میں رقم کم کرتا ہے تو صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے۔ یوں 29 اکتوبر کی سماعت صرف ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ اس بات کا موقع ہے کہ حساب کتاب کی شفافیت اور ایندھن کے انتخاب پر سوالات اٹھائے جائیں۔

حکومت کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہے۔ عام طور پر توانائی کے شعبے میں لاگت کی وصولی اور گردشی قرضے کو قابو میں رکھنے کا دباؤ موجود رہتا ہے، اس لیے ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس ایندھن کی بڑھتی لاگت کو صارفین کے بجائے خود برداشت کرنے کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف عوام مہنگائی اور آمدنی کے دباؤ کا شکار ہیں اور ہر نیا اضافہ ان کے صبر کا امتحان بن رہا ہے۔ اس لیے پالیسی سازوں کے سامنے راستہ یہ ہے کہ وہ مختصر مدت میں کمزور طبقات کو تحفظ دیں اور طویل مدت میں توانائی کے مرکب کو بہتر بنائیں، تاکہ عالمی جھٹکوں کا اثر کم ہو۔

بل میں اضافے کا وقت بھی صارفین کو الجھا دیتا ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ ہمیشہ گزرے ہوئے مہینے کی ہوتی ہے، اور وہ اس وقت بل میں شامل ہوتی ہے جب نیپرا فیصلہ دے اور نوٹیفکیشن جاری ہو جائے۔ یعنی ستمبر میں جو بجلی استعمال ہوئی، اس کی اضافی رقم عموماً نومبر کے بل میں آتی ہے، جبکہ اگست کی ایڈجسٹمنٹ اکتوبر کے بل میں آ رہی ہے۔ اس طرح ہر بل میں دو مختلف قسم کے اثرات نظر آتے ہیں: موجودہ مہینے کی کھپت کا بنیادی چارج اور گزشتہ مہینوں کی ایندھن سے متعلق اضافی رقم۔ بعض رپورٹوں میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا بھی ذکر ہے، جو الگ مد ہے اور مختلف مہینوں میں پھیلا کر وصول کی جاتی ہے۔ ان سب کو ایک ساتھ دیکھنا عام صارف کے لیے مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے بجلی کے بل کی تفصیل پڑھنا ضروری ہے۔

ایک مثال سے بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ فرض کریں کہ ایک گھرانہ ہر ماہ تین سو یونٹ استعمال کرتا ہے۔ اگست کی ایک روپیہ گیارہ پیسے والی ایڈجسٹمنٹ پر اسے اکتوبر کے بل میں ٹیکس سے پہلے تقریباً 333 روپے اضافی دینے پڑیں گے۔ اگر ستمبر کی ایڈجسٹمنٹ پوری 2.56 روپے منظور ہو جائے تو نومبر کے بل میں تقریباً 768 روپے مزید شامل ہوں گے۔ یعنی دو مہینوں میں صرف ایندھن کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک گھرانے کے بل پر تقریباً 1,100 روپے کا بوجھ پڑ سکتا ہے، اور اس میں ٹیکس شامل نہیں۔ یہ محض تخمینی حساب ہے، مگر اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک متوسط گھرانے کے ماہانہ بجٹ میں چھوٹے چھوٹے اضافے کس طرح جمع ہو کر نمایاں بوجھ بن جاتے ہیں۔

شفافیت کا سوال بھی اہم ہے۔ سی پی پی اے اور نیپرا کی دستاویزات میں ایندھن کی لاگت، پیداوار کے مرکب اور ریفرنس قیمت کی تفصیل موجود ہوتی ہے، لیکن عام شہری کے لیے انہیں سمجھنا آسان نہیں۔ اگر ہر مہینے کی ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ ایک سادہ وضاحت شائع ہو، جس میں بتایا جائے کہ کون سا ایندھن کتنا استعمال ہوا، اس کی قیمت کتنی بڑھی اور حکومت نے بوجھ کم کرنے کے لیے کیا قدم اٹھایا، تو صارفین کے لیے اعتماد کرنا آسان ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ہر ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ یہ واضح کیا جائے کہ کن صارفین کو استثنیٰ حاصل ہے اور کن پر مکمل بوجھ پڑے گا۔ ایسی معلومات کے بغیر ہر نیا اضافہ ایک غیر یقینی صورتحال کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

اس بحث میں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بجلی کے شعبے کے مسائل صرف ایندھن کی قیمت تک محدود نہیں۔ پیداواری صلاحیت کے معاہدے، ترسیل و تقسیم کے نقصانات، بلوں کی وصولی اور بجلی چوری جیسے عوامل بھی مجموعی لاگت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایندھن کی ایڈجسٹمنٹ ان مسائل کا صرف ایک حصہ ہے، مگر چونکہ یہ ہر مہینے بل میں نظر آتی ہے، اس لیے عوام اسی سے سب سے زیادہ متاثر محسوس کرتے ہیں۔ ایک مستقل حل کے لیے ان تمام پہلوؤں پر ایک ساتھ اصلاحات کی ضرورت ہے، ورنہ ہر مہینے ایک نئی ایڈجسٹمنٹ نئے بوجھ کی صورت میں آتی رہے گی۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بجلی کی قیمت میں 2.56 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست محض ایک عدد نہیں بلکہ عالمی ایندھن کی منڈی، خطے کی جنگی صورتحال اور ملکی توانائی پالیسی کے باہمی تعلق کی عکاس ہے۔ اب تک جو کچھ سامنے آیا ہے وہ سی پی پی اے کی درخواست اور پاور ڈویژن کے مؤقف پر مبنی ہے، جبکہ حتمی فیصلہ نیپرا کی سماعت کے بعد ہوگا۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ 29 اکتوبر کے بعد آنے والے فیصلے کا انتظار کریں، اپنے بل کے حساب پر نظر رکھیں اور اپنی کھپت کو معقول رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر نیپرا درخواست کم کر دے تو نومبر کے بل میں اضافہ کم ہوگا، اور اگر مکمل منظور کر لے تو صارفین کو ایک اور مہنگے بل کے لیے تیار رہنا ہوگا۔