پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی عمارت گرنے سے درجنوں معصوم بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت کے بعد پولیس نے تھانہ آغہ میر جانی شاہ میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر عمارت تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار، اسکول کے مالکان اور شیئر ہولڈرز کے خلاف درج کی گئی ہے اور اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ تعمیر میں ناقص مواد استعمال ہوا، عمارت خستہ حال اور اسکول کے لیے غیر موزوں تھی، اور اس کی خرابی کی شکایات پہلے بھی سامنے آ چکی تھیں مگر شنوائی نہیں ہوئی۔ یہ سانحہ جمعرات 15 اکتوبر 2026ء کی صبح پیش آیا، جب بچے کلاسوں میں موجود تھے۔ پورا شہر سوگ میں ہے، اور سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی جانیں ضائع ہونے کا ذمہ دار کون ہے اور آئندہ ایسے واقعات کو کیسے روکا جائے۔
واقعے کی تفصیل کچھ یوں سامنے آئی ہے کہ صبح تقریباً پونے نو بجے تین منزلہ اسکول کی عمارت کی چھتیں گر گئیں۔ پولیس کے مطابق اس وقت عمارت میں سو سے زائد بچے موجود تھے، بعض رپورٹس میں 110 سے 120 بچوں کا ذکر ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق دوسری منزل پر قائم نرسری کلاس اور گراؤنڈ فلور کے کمروں کی چھتیں زمین بوس ہوئیں، جبکہ پولیس کے ابتدائی مؤقف میں تینوں منزلوں کی کلاسیں متاثر ہونے کی بات کی گئی۔ ایک عینی شاہد والد نے بتایا کہ انہیں گھر سے فون آیا تو وہ تقریباً نو بجے موقع پر پہنچے، جہاں انہوں نے تین کمسن بچیوں کو ملبے سے نکالنے میں مدد کی۔ ان کے اپنے چھ بچے اسی اسکول میں پڑھتے ہیں، اور انہیں ایک لمحے کو لگا کہ بیٹا بھی نہیں رہا، مگر وہ پانی پینے کلاس سے باہر نکل آیا تھا۔ ایسے بیانات اس سانحے کی انسانی شدت بیان کرتے ہیں۔
ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اوقات میں مختلف اعداد و شمار سامنے آئے، جو بڑے حادثات میں اکثر ہوتا ہے۔ ایف آئی آر میں 30 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت اور 52 افراد کے زخمی ہونے کا ذکر ہے۔ بعد کی رپورٹس میں لیڈی ریڈنگ اسپتال اور ایک دوسرے اسپتال کے اعداد جمع کرنے کے بعد تعداد 34 اور بعض ذرائع کے مطابق 35 تک پہنچ گئی، جن میں زیادہ تر بچے ہیں۔ دوسری طرف ابتدائی گھنٹوں میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے 17 اموات کی بات بھی سامنے آئی تھی، جو بعد میں ناکافی ثابت ہوئی۔ قارئین کو چاہیے کہ تازہ ترین اور حتمی تعداد کے لیے صوبائی حکومت یا اسپتال انتظامیہ کے سرکاری اعلانات دیکھیں، کیونکہ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی گئی تھی۔ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں میں اکثریت تیرہ برس سے کم عمر بچوں کی ہے، اور رپورٹس کے مطابق ان کا تعلق نسبتاً کم آمدنی والے گھرانوں سے تھا۔
مقدمے کی تفصیلات خاصی اہم ہیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق اسکول کی عمارت میں ناقص میٹریل استعمال ہوا اور عمارت بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ناقابلِ استعمال حالت میں تھی۔ اس میں یہ بھی درج ہے کہ دیواروں اور چھتوں کی خستہ حالی سے متعلق شکایات پہلے کی گئی تھیں، اور بچوں کی جانب سے خدشات کے اظہار کے باوجود مالکان نے مبینہ طور پر کوئی توجہ نہیں دی۔ یہ سارا کچھ ایف آئی آر میں مبینہ الزام کے طور پر درج ہے، یعنی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322، یعنی قتل بالسبب، اور دفعات 148 اور 149 شامل کی گئی ہیں۔ دفعہ 322 اس وقت لاگو ہوتی ہے جب موت ارادے کے بغیر کسی غیر قانونی کام یا غفلت کے نتیجے میں واقع ہو، جبکہ 148 اور 149 عموماً مسلح ہجوم اور مشترکہ غیر قانونی مقصد سے متعلق ہوتی ہیں۔ عمارت گرنے کے مقدمے میں ان دفعات کے اطلاق پر قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہو سکتی ہے، اور عدالت ہی یہ طے کرے گی کہ تفتیش کے بعد کون سی دفعات برقرار رہتی ہیں۔
اراضی کی ملکیت اور لیز کا ذکر بھی ایف آئی آر کا حصہ ہے۔ مقدمے کے مطابق اسکول 16 مرلے کے پلاٹ پر قائم تھا جو وحید اور جاوید کی ملکیت ہے۔ یہ زمین 2024ء میں لیز پر لی گئی اور اس کے بعد وہاں عمارت تعمیر کی گئی۔ اس تفصیل سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ لیز پر لی گئی زمین پر تین منزلہ تعلیمی عمارت کب، کس نقشے اور کس منظوری کے تحت بنی، اور آیا اسے رہائشی یا تجارتی استعمال سے تعلیمی استعمال میں تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے اجازت حاصل کی گئی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسکول اور مدرسہ ایک ہی عمارت میں چلایا جا رہا تھا اور اسے الخیر ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت بتایا گیا، لیکن اس کی سرکاری رجسٹریشن کی صورتحال ابھی واضح نہیں ہو سکی، اس لیے اس پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
اسکول کے مالک کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید نے اسے ’’بہت بڑی غفلت‘‘ قرار دیا اور کہا کہ عمارت کمزور تھی اور اس کی چھت پر ضرورت سے زیادہ بوجھ تھا۔ ان کے مطابق ایک تنگ گلی میں واقع کمزور عمارت میں تین کلاسیں بٹھانا سنگین کوتاہی تھی۔ ابتدائی معلومات میں اینٹوں کی لنٹل اور مٹی، گارڈروں اور دیگر مواد کی چھت کا ذکر آیا ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی وجہ صرف تکنیکی معائنے سے ہی سامنے آئے گی۔ ایک اور خبر میں اسکول کے مالک خان محمد کا مؤقف بھی آیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر کئی دنوں کی بارش کو عمارت گرنے کی وجہ قرار دیا۔ یہ دعویٰ بھی تفتیش میں پرکھا جائے گا۔ یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ کسی کی گرفتاری یا ایف آئی آر میں نامزدگی سے جرم ثابت نہیں ہوتا، اور ہر ملزم کو عدالت میں صفائی کا حق اور بے گناہی کا مفروضہ حاصل رہتا ہے۔
حکومتی سطح پر فوری اقدامات کا اعلان بھی ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے رپورٹ طلب کی، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کی ہدایت کی اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا۔ صدر آصف علی زرداری نے جامع تحقیقات اور تعلیمی عمارتوں کے لیے حفاظتی معیارات کی ضرورت پر زور دیا۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے، جو ان دنوں صوبے کے انتظامی امور میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جنازے میں شرکت کی، رپورٹ طلب کی اور صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کا ساختی حفاظتی آڈٹ کرانے کا حکم دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی حفاظت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ہر جاں بحق کے لیے دس لاکھ روپے اور ہر زخمی کے لیے دو لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا، اور اس نکتے کی نشاندہی کی کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ اسکول کو عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ کس نے جاری کیا۔
تحقیقات کے لیے کئی سطح پر کمیٹیاں اور انکوائریاں بنائی گئی ہیں۔ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک حقائق جانچنے والی کمیٹی تشکیل دی، جس میں پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور محکمے کے ڈپٹی سیکرٹری شامل ہیں، جبکہ چیف سیکرٹری نے ایک الگ کمیٹی بنائی جس میں ٹرانسپورٹ سیکرٹری اور سی اینڈ ڈبلیو کے چیف انجینئر جیسے ارکان ہیں اور اسے سات دن میں رپورٹ دینے کا کہا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بھی انکوائری کا حکم دیا۔ ان تمام کمیٹیوں سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نقشے کی منظوری، تعمیراتی معیار، اسکول کی رجسٹریشن، ماضی میں کی گئی شکایات اور حفاظتی معائنوں کا جائزہ لیں گی۔ ایک سے زیادہ کمیٹیوں کا مطلب یہ بھی ہے کہ ذمہ داریوں کا تعین واضح ہونا چاہیے، تاکہ رپورٹیں ایک دوسرے سے ٹکرا کر معاملے کو الجھا نہ دیں۔
امدادی کارروائی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ریسکیو 1122 نے 16 ایمبولینسیں، دو ڈیزاسٹر رسپانس گاڑیاں اور 60 سے زائد اہلکار روانہ کیے، جبکہ پولیس، مقامی لوگوں اور فوج کے اہلکاروں نے بھی مدد کی۔ تنگ گلیاں اور بچی کھچی ڈھانچے کا غیر مستحکم ہونا بھاری مشینری کے استعمال میں رکاوٹ بنا، اس لیے بہت سا کام ہاتھوں سے کرنا پڑا۔ ریسکیو کا عمل چار سے پانچ گھنٹے جاری رہا اور بعد میں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ پورا ملبہ ہٹا دیا گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے ایمبولینسوں کے لیے گرین کوریڈور بنانے کی ہدایت کی۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی اور بڑی تعداد میں زخمیوں کو لایا گیا، جن میں سے کئی کو علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ والدین کا ملبے سے بچوں کو نکالنے کے لیے دوڑ پڑنا اس سانحے کی سب سے دردناک تصویر تھی۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف پاکستان نے متاثرہ بچوں، خاندانوں اور برادریوں کے لیے نفسیاتی معاونت کی پیشکش کی اور اسکولوں میں عمارتی حفاظتی معیارات کے سخت نفاذ کا مطالبہ کیا۔ نفسیاتی مدد کا پہلو اکثر بحران کے بعد نظرانداز ہو جاتا ہے، حالانکہ جو بچے اس حادثے میں زخمی ہوئے یا انہوں نے اپنے ہم جماعتوں کو کھویا، انہیں طویل عرصے تک صدمے کا سامنا رہ سکتا ہے۔ اسکولوں میں دوبارہ واپسی، ہم جماعتوں کی کمی اور خوف جیسے مسائل کے لیے ماہرینِ نفسیات اور اساتذہ کی تربیت بھی ضروری ہوگی۔
یہ سانحہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ حالیہ مہینوں میں ملک میں اسی نوعیت کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جون میں لاہور میں ایک تعلیمی عمارت کے گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے، اور اگست میں اسلام آباد کے ایک اسپتال میں آگ لگنے سے نوزائیدہ بچوں کی اموات کی خبر آئی۔ ان واقعات کی الگ الگ وجوہات ہو سکتی ہیں، مگر ایک مشترکہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے عوامی اور نجی اداروں میں عمارتوں کی حفاظت، معائنے اور جوابدہی کا نظام مؤثر ہے۔ جب تک عمارت کے نقشے کی منظوری، تعمیراتی معیار، استعمال کی تبدیلی اور سالانہ حفاظتی معائنے کو لازمی اور شفاف نہیں بنایا جاتا، ایسے حادثات کے دوبارہ ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
اس معاملے میں نجی اسکولوں کی نگرانی کا سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں نجی اسکول اور مذہبی مدارس تنگ جگہوں پر اور کرائے یا لیز کی عمارتوں میں چل رہے ہیں، جہاں والدین کم فیس یا قربت کی وجہ سے بچوں کو بھیجتے ہیں۔ والدین کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ عمارت کی ساختی مضبوطی کا اندازہ لگا سکیں، اس لیے یہ ذمہ داری ریگولیٹرز اور اسکول انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک مؤثر نظام میں رجسٹریشن کے وقت اور اس کے بعد باقاعدگی سے ساختی معائنہ ہونا چاہیے، اور کسی عمارت میں منزلوں کا اضافہ یا استعمال کی تبدیلی صرف انجینئر کی تصدیق کے بعد ہونی چاہیے۔ اگر کوئی عمارت غیر محفوظ قرار پائے تو اسے فوراً خالی کرانے کا اختیار بھی ہونا چاہیے۔
والدین اور مقامی لوگوں کا غصہ بھی قابلِ فہم ہے۔ رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاندانوں نے انتظامیہ کی جانب سے عمارت کی حالت پر خدشات کو نظرانداز کیے جانے کا الزام لگایا ہے اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ ایف آئی آر میں بھی اسی طرح کا الزام درج ہے کہ بچوں نے خود عمارت کی خرابی کی شکایت کی تھی۔ اگر یہ بات عدالت میں ثابت ہو گئی تو یہ نہ صرف ایک انتظامی کوتاہی ہوگی بلکہ ایسی کھلی غفلت ہوگی جس کے نتائج کو روکا جا سکتا تھا۔ لیکن ابھی تک یہ الزام ہے، اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔
شفاف تفتیش کے لیے ضروری ہے کہ ماہرینِ تعمیرات اور انجینئرز کی آزاد ٹیم ملبے اور مواد کے نمونوں کا فرانزک معائنہ کرے۔ سیمنٹ، سریا، اینٹوں کی کوالٹی، چھت کی ساخت، لنٹل کا ڈیزائن اور اضافی بوجھ جیسے پہلو الگ الگ جانچے جائیں۔ نقشے کی منظوری، متعلقہ ادارے کے معائنے کے ریکارڈ اور این او سی کے اجرا کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے آنی چاہئیں، تاکہ یہ واضح ہو کہ ذمہ داری صرف مالکان اور ٹھیکیدار تک محدود ہے یا سرکاری اداروں کی کوتاہی بھی شامل ہے۔ اگر کسی سرکاری اہلکار نے ناقص عمارت کو منظوری دی یا شکایت پر کارروائی نہیں کی تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضہ ایک ضروری مگر ناکافی قدم ہے۔ دس لاکھ روپے کسی بچے کی جان کی قیمت نہیں ہو سکتے، اور زخمیوں کے علاج اور بحالی کے اخراجات طویل مدت تک جاری رہ سکتے ہیں۔ اس لیے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ زخمی بچوں کے مکمل علاج، تعلیم کے تسلسل اور ذہنی صحت کی سہولیات کی ذمہ داری بھی لے۔ بعض خاندانوں کے لیے ایک سے زائد بچوں کا نقصان ہوا ہوگا، اور ان کی مالی اور جذباتی مدد کے لیے الگ لائحہ عمل کی ضرورت ہوگی۔ حکومت کے لیے ایک اور امتحان یہ ہے کہ وہ ان تمام وعدوں پر عمل کر کے دکھائے جو سانحے کے فوراً بعد کیے گئے۔
اب سوال یہ ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کا ساختی آڈٹ، جس کا حکم گورنر نے دیا ہے، شفاف اور مقررہ مدت میں مکمل ہونا چاہیے، اور اس کے نتائج عوام تک پہنچنے چاہئیں۔ خطرناک قرار پانے والی عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرانے اور متبادل جگہ پر بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کا بندوبست ہونا چاہیے۔ دوسرا، اسکولوں کی رجسٹریشن اور این او سی کے نظام میں یہ شرط لازمی ہو کہ عمارت کی مضبوطی کا سرٹیفکیٹ کسی مستند انجینئر نے جاری کیا ہو۔ تیسرا، والدین اور اساتذہ کو ایسا شکایتی نظام ملنا چاہیے جس میں عمارت کی خرابی کی شکایت پر مقررہ وقت میں کارروائی ہو۔ چوتھا، ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، کیونکہ جب تک سزائیں یا کم از کم شفاف عدالتی فیصلے سامنے نہیں آتے، احتساب کا پیغام ادھورا رہتا ہے۔
والدین کے لیے بھی اس سانحے میں چند عملی سبق ہیں، اگرچہ بنیادی ذمہ داری ریگولیٹرز اور اسکول انتظامیہ کی ہے۔ بچوں کو کسی اسکول میں داخل کرانے سے پہلے والدین یہ پوچھ سکتے ہیں کہ اسکول کے پاس رجسٹریشن اور متعلقہ محکمے کی اجازت ہے یا نہیں، عمارت کتنی منزلہ ہے اور کیا ہنگامی صورت میں انخلا کا کوئی راستہ اور منصوبہ موجود ہے۔ اگر عمارت میں دراڑیں، رستی ہوئی چھتیں یا جھکی ہوئی دیواریں نظر آئیں تو تحریری شکایت دے کر اس کی رسید رکھنا بہتر ہے، اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ ضلعی انتظامیہ یا تعلیمی ریگولیٹری ادارے سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ عام والدین عمارت کی ساختی مضبوطی کا فیصلہ نہیں کر سکتے، اس لیے اصل حل مضبوط ریاستی نگرانی ہی ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے صارفین کے لیے بھی ایک اخلاقی نکتہ اہم ہے۔ ایسے سانحات میں متاثرہ بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز بغیر اجازت پھیلانا ان کے اہلِ خانہ کے دکھ کو بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح غیر مصدقہ دعوے، جیسے کسی فرد کو بغیر ثبوت قصوروار ٹھہرانا یا ہلاکتوں کے من گھڑت اعداد پھیلانا، تحقیقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ سرکاری اعلانات، اسپتال کے بیانات اور مستند خبر رساں اداروں کی اطلاعات پر انحصار کیا جائے، اور ہمدردی کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کا مظاہرہ بھی کیا جائے۔
پشاور کا یہ سانحہ صرف ایک عمارت کے گرنے کی خبر نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے امتحان کی علامت ہے۔ جن بچوں کو صبح ہنستے کھیلتے اسکول بھیجا گیا تھا، ان کے والدین کے لیے اب سوگ ہے اور انصاف کی امید۔ مقدمہ درج ہو چکا ہے، گرفتاری کی اطلاعات ہیں، کمیٹیاں بن چکی ہیں اور معاوضوں کا اعلان ہوا ہے، لیکن اصل آزمائش یہ ہوگی کہ تحقیقات کتنی شفاف ہوتی ہیں اور حفاظتی اصلاحات کتنی سنجیدگی سے نافذ ہوتی ہیں۔ اگر اس سانحے کے بعد بھی عمارتوں کا معائنہ رسمی کارروائی تک محدود رہا تو کل کسی اور شہر میں کوئی اور اسکول ایسی ہی خبر بن سکتا ہے۔ اس لیے اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ انصاف بھی ہو اور اصلاح بھی، تاکہ آئندہ کوئی ماں اپنے بچے کو اسکول بھیج کر اس کی سلامتی کے خوف میں مبتلا نہ ہو۔