امریکی ریاست ٹینیسی میں تقریباً دو سو سال بعد کسی خاتون کو سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہو جانے کے بعد یہ کیس عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ 50 سالہ کرسٹا گیل پائیک کو بدھ کی رات جان لیوا انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی، تاہم پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیے جانے کے باوجود وہ زندہ بچ گئیں۔
1995ء کا پراسرار اور وحشیانہ قتل
کرسٹا پائیک کو 1995ء میں ٹینیسی کے شہر ناکس ول میں اپنی 19 سالہ ہم جماعت کولین سلیمر کے بہیمانہ قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ دونوں نوجوان لڑکیاں ’’جاب کور‘‘ نامی ایک تربیتی پروگرام میں ساتھ زیرِ تعلیم تھیں۔ واقعے کے وقت کرسٹا کی عمر محض 18 برس تھی۔
حسد اور افواہوں کا نتیجہ
استغاثہ کے مطابق کرسٹا اپنے بوائے فرینڈ ٹیڈیرل شپ کے حوالے سے انتہائی حساس اور مالکانہ رویہ رکھتی تھی۔ کرسٹا کو شبہ تھا کہ کولین اس کے بوائے فرینڈ کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ٹیڈیرل شپ نے کرسٹا کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہوئے خود کولین کے ساتھ تعلقات استوار کیے تھے۔ اسی شک اور حسد نے بالآخر ایک منصوبہ بند قتل کی شکل اختیار کر لی۔
وحشیانہ قتل کی تفصیلات
کرسٹا نے اپنی ایک اور ساتھی، 18 سالہ شیڈولا پیٹرسن، کے ساتھ مل کر کولین کو یونیورسٹی آف ٹینیسی کے قریب ایک ویران و متروکہ اسٹیم پلانٹ کے جنگلاتی علاقے میں بلانے کا منصوبہ بنایا۔ موقع پر پہنچتے ہی کرسٹا اور ٹیڈیرل شپ نے کولین پر حملہ کر دیا، جبکہ شیڈولا پہرہ دیتی رہی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق کرسٹا نے باکس کٹر کی مدد سے کولین کو بار بار زخمی کیا اور تقریباً 30 سے 60 منٹ تک جاری رہنے والے اس تشدد کے دوران اس کے سینے پر پینٹاگرام (پانچ کونوں والے ستارے) کی علامت بھی کندہ کی، جسے عموماً شیطان پرستی سے منسلک کیا جاتا ہے۔ آخرکار کرسٹا نے پتھر کے ایک بڑے ٹکڑے سے کولین کی کھوپڑی کچل کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا اور بعد میں اس کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا اپنے پاس بھی رکھ لیا۔
عدالتی کارروائی اور سزائیں
22 مارچ 1996ء کو کرسٹا پائیک کو اوّل درجے کے قتل، قتل کی سازش اور اقدامِ قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔ ٹیڈیرل شپ، جو واقعے کے وقت 17 سال کے تھے، سزائے موت کے اہل نہیں تھے، اس لیے انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی، اور وہ نومبر میں پیرول کے لیے اہل ہو رہے ہیں۔ ایک اور ساتھی ملزمہ کو جرم کے بعد معاونت کے الزام میں قصوروار قرار دیا گیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ کرسٹا جیل میں قید کے دوران بھی ایک اور قیدی پر حملہ کر چکی ہیں، جس کے باعث 2004ء میں انہیں اقدامِ قتل کے ایک اضافی مقدمے میں بھی سزا سنائی گئی تھی۔
ناکام سزائے موت: کیا ہوا؟
بدھ کی شام تقریباً 8 بجے جیل حکام نے کرسٹا کو پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دیں، تاہم وہ زندہ بچ گئیں۔ ان کے وکلا کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ دونوں انجیکشن دیے جانے کے باوجود کرسٹا زندہ تھیں اور خراٹے لے رہی تھیں۔ انہیں بعدازاں نیش ول کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ بے ہوش، وینٹی لیٹر پر اور دونوں بازوؤں پر شدید زخموں کی حالت میں تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہیں۔ ٹینیسی ڈیپارٹمنٹ آف کریکشن کا مؤقف ہے کہ عملے نے مقررہ پروٹوکول کے مطابق ہی کارروائی کی۔ اگر یہ سزا کامیابی سے عملدرآمد ہو جاتی تو کرسٹا پائیک تقریباً 200 سال بعد ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون بن جاتیں، کیونکہ ریاست میں آخری بار کسی خاتون کو 1820ء کے لگ بھگ سزائے موت دی گئی تھی۔
گورنر کا سخت ردعمل، باقی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا گیا
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے واقعے کے بعد اس ناکام کارروائی کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، جبکہ ریاست نے رواں سال کے لیے مقرر دیگر تمام سزاؤں پر عمل درآمد بھی روک دیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ رواں سال ٹینیسی میں سزائے موت پر عمل درآمد کی ناکام ہونے کی دوسری کوشش تھی، اس سے قبل مئی میں بھی ایک مجرم کی سزا پر عمل درآمد اس وجہ سے نہیں ہو سکا تھا کیونکہ عملے کو مناسب رگ نہیں مل سکی تھی۔ کرسٹا کے وکلا پہلے ہی عدالت کو خبردار کر چکے تھے کہ ان کی طبی حالت، بشمول خون کا ایک عارضہ، انہیں ایک انتہائی تکلیف دہ موت سے دوچار کر سکتی ہے۔
مقتولہ کے اہلِ خانہ کا ردعمل
کولین سلیمر کی والدہ مے مارٹینیز نے کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد کی حمایت کی ہے اور اس کے جلد از جلد نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔