آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی نے ایک نئی اور خطرناک شکل اختیار کر لی ہے، جسے عالمی میڈیا اب "ٹینکر جنگ” کا نام دے رہا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکہ سے منسلک اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے اس حصے میں کی گئی جسے ایران نے پہلے ہی "ممنوع اور غیر محفوظ” قرار دے رکھا ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آئی آر جی سی نے یہ تازہ کارروائی امریکی فوج کی جانب سے پانچ ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو تباہ کرنے کے جواب میں کی۔ امریکی فوج نے یہ اقدام صدر ٹرمپ کی منظور کردہ نئی "ٹینکر کے بدلے ٹینکر” پالیسی کے تحت اٹھایا تھا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی حملوں کی روک تھام کرنا بتایا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق منگل کو کی جانے والی کارروائی میں تقریباً سو اہداف نشانہ بنائے گئے، جن میں آئی آر جی سی کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور اینٹی شپ کروز میزائل لانچرز شامل تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ہفتے کے روز آئی آر جی سی نے امریکی طیارہ بردار جنگی جہاز اور میزائل شکن تباہ کن جہاز کی جانب بیلسٹک میزائل داغے، تاہم دونوں امریکی جہاز محفوظ رہے اور کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔ جواب میں امریکی افواج نے ایرانی تیل بردار جہازوں "ایم ٹی ڈاؤنی” اور "ایم ٹی اسٹارک ون” کو ناکارہ بنا دیا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی جہازوں پر فائرنگ کی تو امریکہ اس سے کہیں زیادہ اقتصادی نقصان پہنچاتے ہوئے مزید ایرانی ٹینکر تباہ کرے گا۔
اس تناظر میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ "متناسب ردعمل کا دور اب ختم ہو چکا ہے” اور امریکہ کے کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب مزید تیز، شدید اور تکلیف دہ انداز میں دیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول سے کہیں کم ہو چکی ہے۔ منگل کے روز صرف چھ تجارتی جہاز اس اہم سمندری راستے سے گزرے، جبکہ گزشتہ دس دنوں کی اوسط یومیہ تقریباً 12 جہاز رہی ہے۔ خیال رہے کہ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 25 فیصد سمندری تیل کی تجارت اور 20 فیصد مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اسی آبنائے سے گزرتی تھی، تاہم فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد جہازوں کی تعداد تقریباً صفر تک پہنچ گئی تھی۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے مطابق آبنائے ہرمز کے باہر، بشمول خلیج کے بعض حصوں میں، ایک نئے پابند علاقے کا اعلان چند روز میں متوقع ہے۔ امریکی افواج بحری جہازوں کو آبنائے سے گزرنے میں رہنمائی فراہم کر رہی ہیں کیونکہ تہران اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتے ہوئے بعض جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم مجموعی طور پر بحری ٹریفک انتہائی کم سطح پر برقرار ہے۔اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی خام تیل کی قیمت (برینٹ کروڈ) سو ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ آبنائے ہرمز، جو اپنے تنگ ترین مقام پر محض 34 کلومیٹر چوڑی ہے، روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل کی ترسیل کا اہم ترین عالمی راستہ ہے، اس لیے یہاں کی صورتحال براہِ راست عالمی توانائی منڈی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔سی دوران ایک اور پیش رفت میں امریکی سینٹکام نے تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے مبینہ طور پر قبضے میں لیا گیا ایک زیرِ آب امریکی ڈرون دراصل "خراب” تھا اور اس میں کوئی حساس ڈیٹا یا خفیہ سازوسامان موجود نہیں تھا۔ امریکی بحریہ کے مطابق یہ ڈرون فنی خرابی کے باعث ایک دن سے زائد عرصہ قبل ناکارہ ہو گیا تھا۔
خیال رہے کہ یہ جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی، جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر مشترکہ امریکی-اسرائیلی فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ جون میں دونوں ممالک کے وفود نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی معاہدے پر بات چیت بھی کی تھی، تاہم اس کے باوجود دونوں فریقین کے مابین حملوں کا تبادلہ مسلسل جاری ہے اور آبنائے ہرمز اس تنازع کا مرکزی نکتہ بنا ہوا ہے۔ ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے ترجمان حسن غشغاوی نے ان حملوں کو "امریکہ کے ساتھ وجودی جنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کو سرے سے وجود میں ہی نہیں آنا چاہیے تھا۔
فی الحال دونوں فریقین کی جانب سے کسی بڑی جوابی کارروائی یا مذاکرات کی طرف واپسی کا کوئی واضح اشارہ سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی توانائی سپلائی اور قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ خطے میں کسی بڑے تصادم کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔ ایرانی حکام کے دعوے میں نشانہ بنائے گئے جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی اس بارے میں کوئی فوری تبصرہ موصول نہیں ہوا۔