ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی: "جب چاہیں دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ جب چاہے دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے اور کسی بھی نئی مہم کا دورانیہ زیادہ طویل نہیں ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے یکم ستمبر کو آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر تازہ حملے کیے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بتایا کہ یکم ستمبر کو کی جانے والی تازہ امریکی کارروائی دراصل ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں (مائنز) بچھانے کی "ناکام کوشش” اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی۔ ٹرمپ کے مطابق ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے کی جانب آٹھ میزائل داغے تھے، جنہیں کامیابی سے مار گرایا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اس "منصفانہ” کارروائی کا جواب دیا تو اسے مزید شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم یہ اس "سب سے بڑے حملے” کے مقابلے میں کم ہوگا جو ابھی محفوظ رکھا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی واضح مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہرگز نہیں ہونے چاہئیں اور امریکہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اسی دوران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی کی ایک خفیہ سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق معلومات دینے اور بیس سے زائد جوہری مقامات تک رسائی دینے سے انکاری ہے۔ واضح رہے کہ جون 2025 میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے کئی ایرانی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے بعد ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری ہے اور روزانہ لاکھوں بیرل تیل اس اہم بحری گزرگاہ سے منتقل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ کی معاونت سے اوسطاً روزانہ تیس بحری جہاز اس آبنائے سے گزر رہے ہیں۔ تاہم ایران کے سابق سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محسن رضائی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے۔ ایک ایرانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ جب تک امریکہ کی جانب سے "اقتصادی جنگ” جاری رہے گی، ایران ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں کرے گا۔

خیال رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی معاہدہ (MOU) طے پایا تھا، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو بحری ٹریفک کے لیے دوبارہ کھولا گیا اور جوہری پروگرام سمیت حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کی مہلت مقرر کی گئی تھی۔ پاکستان اور قطر نے ثالثی کے لیے کردار ادا کیا، تاہم دونوں فریقین اس دورانیے میں جوہری معاملات پر خاطر خواہ پیش رفت نہ کر سکے اور 17 اگست کو مہلت ختم ہونے کے باوجود اسے آگے نہیں بڑھایا گیا، جس کے بعد دونوں جانب سے فوجی دھمکیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔

اسی دوران صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کر کے "آبنائے ٹرمپ” رکھنے کی غیر روایتی تجویز بھی دی، جسے اسرائیل کی حمایت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے خطے کے عرب ممالک کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے اپنی سرزمین سے امریکی افواج کو نہ نکالا تو انہیں "کچل دینے والے” ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صدر ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر امریکہ جون کے معاہدے کی طرف واپس آتا ہے تو تہران بھی فوری طور پر جوابی اقدام کرے گا۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں یا یہ کشیدگی ایک اور مکمل جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب امریکی فوجی قیادت پہلے ہی طویل جنگ کے باعث وسائل پر پڑنے والے دباؤ سے متعلق خبردار کر چکی ہے۔