جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف دی گئی ملک گیر ہڑتال کی کال پر آج پورے پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ کراچی سے لاہور، اسلام آباد اور پشاور تک بازار اور تجارتی مراکز بند رہے، جبکہ کراچی میں نامعلوم افراد کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ اسی دوران حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان معاملے کے حل کے لیے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے یہ اعلان لاہور کے مال روڈ پر جاری دھرنے کے بارہویں دن مظاہرین سے خطاب کے دوران کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ پیٹرولیم لیوی کو "بھتہ خوری” قرار دیتے ہوئے حکمرانوں کو اپنی مراعات ختم کر کے عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج دھرنوں سے نکل کر بازاروں اور سڑکوں تک پھیلایا جائے گا اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جماعت اسلامی کی مہم کے نتیجے میں حکومت کو آئی پی پیز کے معاملے پر بجلی کے بلوں میں ریلیف دینا پڑا تھا، جسے پارٹی اپنی گزشتہ کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
کراچی میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف ہڑتال کے باعث بیشتر کاروباری مراکز بند رہے۔ کورنگی کراسنگ کے قریب نامعلوم افراد نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں، ٹائر نذر آتش کیے اور دو موٹر سائیکلیں بھی جلا دیں۔ اسی طرح موسمیات چورنگی، صفورا چورنگی اور گردونواح میں بھی نامعلوم افراد کی جانب سے دکانیں اور پیٹرول پمپس زبردستی بند کروائے گئے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے متعدد بار اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ہڑتال مکمل طور پر پرامن رہے گی اور اس میں کسی قسم کے تشدد یا توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ کراچی میں پیش آنے والے واقعات کا تعلق نامعلوم عناصر سے بتایا جا رہا ہے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن نے بھی جماعت اسلامی اور تاجروں کی اعلان کردہ ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔ بار کے مطابق سندھ ہائی کورٹ سے پریس کلب تک مہنگائی کے خلاف پرامن ریلی نکالی جائے گی، جبکہ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ہڑتال کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سے متاثر ہونے والے وکلاء اور سائلین کی عدم حاضری پر کوئی سخت حکم جاری نہ کیا جائے۔
وفاقی دارالحکومت میں امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر کاروباری و تجارتی مراکز جزوی طور پر بند رہے۔ سپر مارکیٹ، آبپارہ، جی ایٹ اور جی نائن سمیت مختلف علاقوں میں زیادہ تر دکانیں بند رکھی گئیں۔ لاہور میں کوئینز روڈ، عابد مارکیٹ، ہال روڈ، مال روڈ، نسبت روڈ مارکیٹ، فیروزپور روڈ اور برانتھ روڈ سمیت متعدد کاروباری علاقے بند رہے، جس سے شہر میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل حافظ نعیم الرحمٰن راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے لیے جانا چاہتے تھے، تاہم حکومت کی جانب سے باغ کو تالے لگا دیے جانے کے بعد یہ پروگرام ممکن نہ ہو سکا تھا۔
خیبرپختونخوا میں بھی پیٹرولیم لیوی، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف ہڑتال کا اثر دیکھنے میں آیا۔ پشاور کے اشرف روڈ پر جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج کیا گیا جس میں مقامی تاجروں نے بھی شرکت کی اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے پیٹرول و ڈیزل پر عائد لیوی ٹیکس کو مسترد کیا۔ ضلع دیر میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز مکمل بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر غائب ہو گئی، جس سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں نے جماعت اسلامی کی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا، جبکہ وکلاء برادری نے بھی بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا تھا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے دو روز قبل اپنے خطاب میں کہا تھا کہ کراچی کی تمام مارکیٹ تنظیموں اور لاہور کے تاجروں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لیوی بھتہ اور بجلی کے فکسڈ چارجز سے ہر شخص پریشان ہے اور یہ تحریک کسی جماعتی مفاد کے بجائے عوامی حقوق کے لیے ہے۔
پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان آج منصورہ میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ کر رہے ہیں، جن کے ہمراہ ڈپٹی سیکریٹری فراست شاہ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری اور نوید علی بیگ شامل ہیں۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور بلال کیانی شامل ہیں، جن کے ساتھ اعلیٰ سرکاری افسران بھی بریفنگ کے لیے موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے عوام کے لیے کوئی قابلِ عمل ریلیف پیکج پیش کیا گیا تو امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن خود بھی حکومتی وفد سے ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل حافظ نعیم الرحمٰن یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جماعت اسلامی نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تاہم اسے مذاکرات کی کوئی عجلت نہیں اور حکومت کو حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔
اگر آج کے مذاکرات میں کوئی حل تلاش نہ کیا جا سکا تو جماعت اسلامی کی قیادت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی، جس میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں نئے دھرنوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کی جانب ممکنہ لانگ مارچ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحریک ملک میں جاری معاشی دباؤ اور مہنگائی کے خلاف عوامی بے چینی کی ایک بڑی علامت بن چکی ہے، اور اگر بنیادی مطالبات پورے نہ ہوئے تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔