ایران جنگ نے امریکی فوج کو تھکا دیا: اعلیٰ فوجی کمانڈرز کا پینٹاگون کو سخت انتباہ

امریکی مسلح افواج کی اعلیٰ ترین قیادت نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری طویل فوجی مہم اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے سربراہان کے علاوہ یورپ، بحرالکاہل اور لاطینی امریکہ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے فور اسٹار کمانڈرز نے بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس طرزِ عمل سے امریکی ہوم لینڈ سمیت دنیا کے دیگر خطوں میں لاحق خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔

یہ تحفظات 14 اگست کو جاری ہونے والی خفیہ "سیکرٹری آف ڈیفنس آرڈرز بک” (SDOB) میں تفصیل سے درج ہیں۔ یہ دستاویز عموماً ماہ میں دو مرتبہ تیار کی جاتی ہے اور اس میں امریکی جنگی جہازوں، طیاروں، فوجی اہلکاروں اور دیگر عسکری وسائل کی دنیا بھر میں دستیابی سے متعلق حساس معلومات درج ہوتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دستاویز میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کچھ فوجیوں کو ستمبر تک، جبکہ بعض یونٹس کو 2027 تک خطے میں موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، جن میں 82ویں ایئربورن ڈویژن کے تقریباً دو ہزار فوجی بھی شامل ہیں جو مارچ میں تعینات کیے گئے تھے۔رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ کے سب سے سینئر افسر، ایڈمرل ڈیرل کاڈل، کے علاوہ یورپی کمانڈ، پیسیفک کمانڈ اور سدرن کمانڈ کے سربراہان نے تعیناتی میں توسیع کے فیصلے پر باضابطہ طور پر "عدم اتفاق” (non-concur) ریکارڈ کروایا ہے۔ فوجی نظام کے تحت اگرچہ وہ اعلیٰ حکام کے احکامات پر عمل کرنے کے پابند ہیں، تاہم ان کا یہ اقدام پینٹاگون کے اندر پائے جانے والے گہرے اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب آرمی اور ایئر فورس کی قیادت نے تعیناتی میں توسیع سے اصولی اتفاق تو کیا، مگر ساتھ ہی خبردار کیا کہ اس فیصلے کے ساتھ سنگین خطرات جڑے ہوئے ہیں۔

امریکی بحریہ کے سربراہ کے مطابق اس وقت بحریہ کے تباہ کن جہازوں (ڈسٹرائیرز) کے پورے بیڑے میں سے محض ایک چوتھائی ہی فوری طور پر تعیناتی کے قابل ہے، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں واضح کمی ہے۔ اسی طرح امریکی فضائیہ کو اپنے ری پر ڈرون بیڑے کے تقریباً 25 فیصد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ خطے میں موجود امریکی اڈوں کو ایرانی جوابی حملوں سے اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ THAAD اور پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کے ساتھ ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک میزائلوں کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی ایک وجہ یوکرین کے لیے پہلے سے کیے گئے وعدے بھی بتائے جاتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اسلحہ کی قلت سے متعلق رپورٹس درست نہیں ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع نے اس رپورٹ پر باضابطہ طور پر ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایئر فورس نے دستاویز کی خفیہ نوعیت کا حوالہ دیتے ہوئے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے بھی سوالات کا جواب دینے کے بجائے معاملہ ہیگسیتھ کے دفتر کی طرف موڑ دیا۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سینئر رکن راجہ کرشنامورتی نے بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ چین کے ساتھ کسی ممکنہ تنازع کے لیے تیار ہے، تو ان کا مختصر جواب تھا کہ امریکہ اس کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے بحرالکاہل سے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے جانے کی مثال دی اور کہا کہ روس اور چین کے خلاف ضروری پیٹریاٹ میزائلوں اور دیگر اسلحے کے ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ خیال رہے کہ چینی صدر نے اپنی فوج کو 2027 تک تائیوان پر ممکنہ کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دے رکھی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مہم فروری کے آخر میں شروع ہوئی تھی اور اب تک جاری ہے۔ اس وقت خطے میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہائی الرٹ پر موجود ہیں۔ امریکی فوج اب تک ایران کے اندر گیارہ ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکی ہے، جن میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اس جنگ کو اپنے لیے سازگار شرائط، بشمول آبنائے ہرمز کی بحالی، پر ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

فوجی ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو امریکہ کے لیے ایک ہی وقت میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ جاری رکھنا اور دنیا کے دیگر خطوں، خصوصاً بحرالکاہل اور یورپ میں اپنی عسکری تیاری برقرار رکھنا مشکل تر ہوتا جائے گا۔ یہ اندرونی اختلافات ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک نیا سیاسی و عسکری چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں، جبکہ ایران بھی امریکی دباؤ، عوامی ردعمل اور وسائل کی کمی کو اپنے حق میں ایک اہم عنصر تصور کر رہا ہے۔