فٹبال کی تاریخ کے سب سے متنازع اور یادگار لمحے سے جڑی ایک نایاب یادگار ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔ ارجنٹائن کے عظیم فٹبالر ڈیاگو میراڈونا کے مشہورِ زمانہ ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول میں استعمال ہونے والی اصل گیند امریکی نیلامی گھر ہیریٹیج آکشنز کے ذریعے تقریباً 33 لاکھ 50 ہزار ڈالر (25 لاکھ پاؤنڈ) میں فروخت ہوگئی۔
یہ تاریخی لمحہ 22 جون 1986 کو میکسیکو سٹی کے اسٹیڈیو ایزٹیکا میں 1986 فیفا ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میچ کے دوران پیش آیا تھا، جہاں ارجنٹائن کا مقابلہ انگلینڈ سے تھا۔ میچ کے 51ویں منٹ میں میراڈونا نے انگلینڈ کے گول کیپر پیٹر شلٹن کے ساتھ ہوا میں مقابلہ کرتے ہوئے اپنے بائیں ہاتھ سے گیند کو گول میں پہنچا دیا۔ میچ آفیشلز اس ہاتھ کی مداخلت کو بھانپ نہ سکے اور گول کو درست قرار دے دیا گیا۔ بعد ازاں میراڈونا نے خود اعتراف کیا کہ گول "تھوڑا میراڈونا کے سر سے اور تھوڑا خدا کے ہاتھ سے” ہوا تھا — اسی جملے سے اس گول کو دنیا بھر میں ’ہینڈ آف گاڈ‘ کا نام ملا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی میچ میں چار منٹ بعد میراڈونا نے اپنی ٹیم کا دوسرا گول بھی کیا، جس میں انہوں نے انگلینڈ کے پانچ کھلاڑیوں کو ڈرِبل کرتے ہوئے پیچھے چھوڑا۔ یہ گول بعد میں فیفا کی جانب سے ’گول آف دی سنچری‘ قرار دیا گیا۔ ارجنٹائن نے یہ میچ 2-1 سے جیتا اور بالآخر اسی سال ورلڈ کپ کا فائنل بھی جیت کر عالمی چیمپئن بننے میں کامیاب رہا۔
امریکی ریاست ٹیکساس میں قائم نیلامی گھر ہیریٹیج آکشنز نے اس گیند کی نیلامی کا آغاز 25 لاکھ ڈالر کی بولی سے کیا تھا، جبکہ ادارے کی جانب سے قبل از نیلامی امید ظاہر کی گئی تھی کہ یہ گیند 1 کروڑ ڈالر (تقریباً 73 لاکھ پاؤنڈ) تک فروخت ہوسکتی ہے۔ تاہم ہفتے کی رات اختتام پذیر ہونے والی نیلامی میں یہ گیند صرف 33 لاکھ 50 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی، جو متوقع قیمت سے تقریباً 67 لاکھ ڈالر کم ہے۔
ماہرین کے مطابق قیمت کے توقعات سے کم رہنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ نیلامی 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے اختتام کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد منعقد ہوئی، جبکہ ارجنٹائن اس بار ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے میں ناکام رہا، جس سے شائقین اور جمع کنندگان کا جوش کچھ ماند پڑ گیا۔
ہیریٹیج آکشنز کے اسپورٹس شعبے کے نائب صدر ڈین ایملر نے نیلامی سے قبل اس گیند کو "فٹبال کی دنیا کی سب سے تاریخی گیند” قرار دیا تھا، جبکہ ادارے کے ماہر مائیک پروونزالے نے اسے "حقیقی معنوں میں یکتا و منفرد شے” اور شاید فٹبال کی تاریخ کی سب سے اہم یادگار قرار دیا۔

اس میچ کے ریفری، تیونس سے تعلق رکھنے والے علی بن ناصر، نے میچ کے اختتام پر یہ گیند اپنے پاس رکھ لی تھی اور اسے کئی دہائیوں تک ذاتی طور پر محفوظ رکھا۔ بن ناصر نے بعد میں اعتراف کیا تھا کہ ہاتھ سے کیے گئے گول کے وقت شلٹن اور میراڈونا دونوں ان کی طرف پیٹھ کیے کھڑے تھے، جس کی وجہ سے وہ واقعے کو واضح طور پر نہیں دیکھ سکے تھے۔ 2022 میں بن ناصر نے پہلی بار یہ گیند گراہم بڈ آکشنز کے ذریعے 23 لاکھ 70 ہزار ڈالر میں فروخت کی تھی۔ اگلے سال اسے دوبارہ نیلامی کے لیے پیش کیا گیا تھا، مگر اس وقت بولی 20 لاکھ 40 ہزار ڈالر تک ہی پہنچ سکی جو مقررہ کم از کم قیمت (ریزرو پرائس) سے کم تھی، اس لیے وہ سودا مکمل نہ ہوسکا۔ اس سال 2026 کے ورلڈ کپ کی گہما گہمی کے دوران اسے تیسری بار نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔
یہ گیند فٹبال میموریبیلیا کی مہنگی ترین اشیاء کی فہرست میں نمایاں مقام تو رکھتی ہے، لیکن ریکارڈ توڑنے میں ناکام رہی۔ اسی میچ میں میراڈونا کی پہنی ہوئی قمیض — جو انگلینڈ کے مڈفیلڈر اسٹیو ہاج کے پاس تھی — 2022 میں سوتھبیز نیلامی گھر میں 93 لاکھ ڈالر (71 لاکھ پاؤنڈ) میں فروخت ہوکر کھیلوں کی تاریخ کی سب سے مہنگی جرسی کا عالمی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ گیند اس ریکارڈ کے قریب بھی نہ پہنچ سکی۔
کھیلوں کی گیندوں کے حوالے سے فروخت کا عالمی ریکارڈ اب بھی امریکی بیس بال اسٹار شوہی اوہتانی کی 50ویں ہوم رن گیند کے پاس ہے، جو 2024 میں 43 لاکھ 92 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی تھی
ڈیاگو میراڈونا کو دنیائے فٹبال کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ نومبر 2020 میں 60 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، مگر ان کی یادگاریں آج بھی کروڑوں روپے میں نیلام ہوتی ہیں، جو ان کی عالمی مقبولیت اور کھیل کی تاریخ میں ان کے مقام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میراڈونا کا ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان دیرینہ فٹبالی مقابلے سے گہرا تعلق رہا، اور یہی رقابت 2026 کے فیفا ورلڈ کپ میں بھی ایک بار پھر زندہ ہوئی جب دونوں ٹیمیں ایک بار پھر ایک دوسرے کے مدِمقابل آئیں۔
اگرچہ ’ہینڈ آف گاڈ‘ گیند اپنی متوقع قیمت اور میراڈونا کی جرسی کے ریکارڈ تک نہیں پہنچ سکی، تاہم 25 لاکھ پاؤنڈ کی خطیر رقم میں اس کی فروخت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ میراڈونا سے جڑی یادگاریں آج بھی جمع کنندگان اور فٹبال شائقین کی نظر میں بے پناہ قدر و قیمت رکھتی ہیں۔ یہ گیند نہ صرف ایک متنازع گول کی یاد دلاتی ہے بلکہ فٹبال کی تاریخ کے ایک ایسے باب کی نمائندگی بھی کرتی ہے جس پر آج، چالیس سال بعد بھی، دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔