اسلام آباد: گوگل نے پاکستان میں اپنے باضابطہ کاروباری آپریشنز کے آغاز کے موقع پر ملک بھر کے طلبہ کے لیے ایک بڑی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق پاکستانی طلبہ کو ’’گوگل جیمنائی پلس‘‘ کی سبسکرپشن ایک سال تک مکمل مفت فراہم کی جائے گی، جس سے وہ جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز اپنی تعلیم اور تحقیقی سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں گے۔
18 اگست کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے نو رکنی وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت کمپنی کے نائب صدر برائے عالمی امور ولسن ایل وائٹ کر رہے تھے، جبکہ امریکی سفارتخانے کی چارج ڈی افیئرز نتالی بیکر بھی وفد کے ہمراہ موجود تھیں۔ وزیراعظم نے گوگل کے دفتر کی سنگِ بنیاد کی تختی کی نقاب کشائی کی اور اسے پاکستان کے ڈیجیٹل سفر میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ ولسن وائٹ نے بتایا کہ گوگل گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستان میں سرگرمِ عمل ہے اور اب تک کمپنی کی سرگرمیاں ملکی معیشت میں 3 ہزار 900 ارب روپے سے زائد کی اقتصادی سرگرمی اور 9 لاکھ 60 ہزار سے زائد ملازمتوں کی معاونت کر چکی ہیں۔
اسی تقریب میں ولسن وائٹ نے اعلان کیا کہ رواں ہفتے کے دوران گوگل باضابطہ طور پر پاکستان کے تمام طلبہ کے لیے ’’جیمنائی پلس‘‘ کی ایک سالہ مفت سبسکرپشن کا اعلان کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان کو 30 ارب ڈالر مالیت کی آئی ٹی ایکسپورٹ کا مرکز بنانے کا ہدف گوگل کے اپنے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گوگل نے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کروم بک اسمبلی لائن بھی قائم کی ہے، اور پاکستان میں اسمبل شدہ کروم بکس کو خطے کے دیگر ممالک کو برآمد کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔
مفت سبسکرپشن کے اعلان کے بعد سب سے اہم سوال اس کی رجسٹریشن اور اہلیت کے معیار سے متعلق ہے۔ فی الحال گوگل نے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا حتمی طریقہ کار جاری نہیں کیا۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے میڈیا کوآرڈینیٹر سعد قیصر خان کے مطابق اس بارے میں مزید تفصیلات رواں ہفتے متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گوگل کے باقاعدہ آپریشنز کے آغاز سے ملکی آئی ٹی انڈسٹری کو بھی فائدہ پہنچے گا، جس سے اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے امکانات بڑھنے کی توقع ہے۔ وفاقی وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شذرہ فاطمہ خواجہ نے بھی سوشل میڈیا پر گوگل کی پاکستان آمد کو خوش آئند قرار دیا۔
چونکہ موجودہ اسکیم کی حتمی شرائط ابھی سامنے نہیں آئیں، اس لیے گزشتہ سال کی پیشکش سے کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ برس گوگل نے 18 سال یا اس سے زائد عمر کے پاکستانی طلبہ کے لیے ’’اے آئی پرو پلان‘‘ متعارف کرایا تھا، جس کے لیے اہل جامعات کی ایک باضابطہ فہرست بھی جاری کی گئی تھی۔ اس وقت پیشکش سے فائدہ اٹھانے کے لیے طالب علم کا کسی اہل یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہونا لازمی تھا۔ ممکنہ طور پر نئی اسکیم میں بھی فعال گوگل اکاؤنٹ، کسی اہل جامعہ میں داخلہ اور یونیورسٹی ای میل یا اسٹوڈنٹ کارڈ کے ذریعے تعلیمی حیثیت کی تصدیق جیسی شرائط شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم یہ محض قیاس ہے اور حتمی شرائط گوگل کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی واضح ہوں گی۔
پاکستان میں اس وقت جیمنائی پلس کی ماہانہ سبسکرپشن کی قیمت تقریباً 850 روپے ہے، یعنی ایک سال کی مجموعی لاگت تقریباً 10 ہزار 200 روپے بنتی ہے۔ اگر یہ مفت سہولت پورے ایک سال کے لیے دستیاب ہوئی، تو اہل طلبہ کو سالانہ تقریباً 10 ہزار روپے کی خاصی بچت ہوگی۔
طلبہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ گوگل کی جانب سے باضابطہ رجسٹریشن کا طریقہ کار جاری ہونے تک انتظار کریں اور کسی بھی غیر سرکاری ویب سائٹ یا مشکوک لنک پر اپنا گوگل اکاؤنٹ، یونیورسٹی کی معلومات یا دیگر ذاتی ڈیٹا ہرگز فراہم نہ کریں۔ اسکیم کی حتمی شرائط اور رجسٹریشن کا درست طریقہ صرف گوگل کے سرکاری اعلان کے بعد ہی معتبر سمجھا جانا چاہیے۔