کرکٹ کی دنیا کے سب سے بڑے ایونٹ، آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈکپ 2027، کی تیاریوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ ایک نئے، وسیع تر فارمیٹ کے ساتھ منعقد ہوگا جس میں 14 ٹیمیں شریک ہوں گی — جو 2023 کے مقابلے میں چار ٹیموں کا اضافہ ہے۔ دس ٹیمیں پہلے ہی براہ راست کوالیفیکیشن حاصل کر چکی ہیں، جبکہ باقی چار مقامات کا فیصلہ ایک الگ کوالیفائنگ عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس آرٹیکل میں ہم کوالیفیکیشن کی مکمل تفصیل، نئے فارمیٹ، میزبان ممالک اور اہم تاریخوں کا جامع جائزہ پیش کر رہے ہیں۔
آئی سی سی کے قواعد کے مطابق میزبان ممالک جنوبی افریقا اور زمبابوے کو ٹورنامنٹ میں خودکار رسائی حاصل ہے۔ ان دونوں کے علاوہ، 30 ستمبر 2026 کو آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں سرِفہرست آٹھ ٹیموں کو براہ راست کوالیفیکیشن ملے گی۔ افغانستان نے حال ہی میں آئرلینڈ کے خلاف بیلفاسٹ میں اہم کامیابی حاصل کرکے اپنی ٹاپ ایٹ پوزیشن تقریباً یقینی بنا لی ہے، جس کے بعد دفاعی چیمپئن آسٹریلیا سمیت بھارت، نیوزی لینڈ، پاکستان، سری لنکا، انگلینڈ، بنگلادیش اور افغانستان ان دس ٹیموں میں شامل ہو چکے ہیں جو براہ راست ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کر گئی ہیں۔
دو مرتبہ کی سابق عالمی چیمپئن ویسٹ انڈین ٹیم اس وقت ون ڈے رینکنگ میں دسویں نمبر پر موجود ہے۔ کٹ آف تاریخ سے قبل ان کے پاس بھارت کے خلاف صرف دو ون ڈے میچز باقی ہیں، تاہم دونوں میچز جیتنے کے باوجود بھی وہ ٹاپ ایٹ میں واپسی کے لیے کافی نہیں سمجھے جا رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آٹھویں نمبر پر موجود افغانستان اور بارہویں نمبر پر موجود آئرلینڈ کے درمیان جاری سیریز کا نتیجہ بھی رینکنگ کی ترتیب پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ نتیجتاً ویسٹ انڈیز کو فروری 2027 میں شیڈول کوالیفائر ٹورنامنٹ کے ذریعے ہی ورلڈکپ میں جگہ بنانا ہوگی — ایک ایسی صورتحال جو کیریبیئن کرکٹ کے شائقین کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
آئی سی سی کے کوالیفیکیشن پاتھ وے کے تحت باقی ماندہ چار مقامات کا تعین ایک کثیر مرحلہ ٹورنامنٹ کے ذریعے کیا جائے گا:
چیلنج لیگ: ایسوسی ایٹ ممالک کی 12 ٹیمیں دو گروپس میں تقسیم ہوں گی، جہاں سے ہر گروپ کی سرِفہرست دو ٹیمیں اگلے مرحلے، یعنی کوالیفائر پلے آف، میں رسائی حاصل کریں گی۔
کرکٹ ورلڈکپ لیگ 2: اس مرحلے کی آٹھ ٹیموں میں سے سرِفہرست چار ٹیمیں براہ راست ورلڈکپ کوالیفائر میں شریک ہوں گی۔
ورلڈکپ کوالیفائر: 22 فروری سے 23 مارچ 2027 تک شیڈول اس دس ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ میں دو نچلی درجہ بندی کی مکمل رکن (فل میمبر) ٹیمیں — جن میں ممکنہ طور پر ویسٹ انڈیز بھی شامل ہوگی — چیلنج لیگ اور لیگ 2 سے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں کے ساتھ مدِمقابل ہوں گی۔ اس مرحلے سے آخری چار ٹیمیں منتخب کی جائیں گی جو مرکزی ورلڈکپ کا حصہ بنیں گی۔
نئے فارمیٹ کے تحت کوالیفائر جیتنے والی ٹیم براہ راست ورلڈکپ کے مرکزی مرحلے (گروپ راؤنڈ) میں پہنچے گی، جبکہ دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیمیں "سُپر سیریز” نامی ایک اضافی راؤنڈ میں مقابلہ کریں گی جہاں سے صرف ایک ٹیم آگے بڑھنے میں کامیاب ہوگی۔
آئی سی سی نے 15 جولائی 2026 کو ورلڈکپ کے لیے ایک نئے سہ مرحلہ فارمیٹ کا اعلان کیا تھا، جو 2023 کے راؤنڈ رابن طرز سے یکسر مختلف ہے اور 2003 کے فارمیٹ سے مشابہت رکھتا ہے:
راؤنڈ 1 — سُپر سیریز: چودہ کوالیفائی کرنے والی ٹیموں میں سے سب سے کم درجہ بندی کی تین ٹیمیں راؤنڈ رابن بنیاد پر مدِمقابل ہوں گی۔ صرف سرِفہرست ٹیم اگلے مرحلے میں پہنچے گی۔
راؤنڈ 2 — گروپ مرحلہ (30 میچز): باقی ماندہ بارہ ٹیمیں دو گروپس (چھ، چھ ٹیموں پر مشتمل) میں تقسیم ہو کر راؤنڈ رابن بنیاد پر کھیلیں گی۔ ہر گروپ کی سرِفہرست تین ٹیمیں، ساتھ ہی دونوں گروپس میں سے اگلی بہترین کارکردگی والی ایک ٹیم، سُپر 7 مرحلے میں رسائی حاصل کرے گی۔
راؤنڈ 3 — سُپر 7 (21 میچز): سات ٹیمیں راؤنڈ رابن بنیاد پر مدِمقابل ہوں گی، جہاں سے سرِفہرست چار ٹیمیں سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ پہلے نمبر پر آنے والی ٹیم چوتھے نمبر کی ٹیم کے خلاف کھیلے گی، جبکہ دوسری اور تیسری پوزیشن کی ٹیمیں دوسرے سیمی فائنل میں آمنے سامنے ہوں گی۔
آئی سی سی کے مطابق اس نئے، پیچیدہ مگر دلچسپ فارمیٹ کا مقصد ٹورنامنٹ کے ابتدائی مراحل کو بھی زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز اور پرکشش بنانا ہے، تاکہ ہر میچ کی اہمیت برقرار رہے۔
آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈکپ 2027 کی مشترکہ میزبانی جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا کریں گے، اور یہ ٹورنامنٹ 4 اکتوبر سے 21 نومبر 2027 تک جاری رہے گا۔ یہ تیسری مرتبہ ہے جب کوئی افریقی ملک ورلڈکپ کی میزبانی کرے گا، اور نمیبیا کے لیے یہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ وہ ورلڈکپ میچز کی میزبانی کرے — جو تقریباً چھبیس لاکھ کی آبادی اور ابھرتے ہوئے کرکٹ انفراسٹرکچر کے حامل اس ملک کے لیے ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ جنوبی افریقا اور زمبابوے اس سے قبل 2003 میں بھی کینیا کے ساتھ مل کر ورلڈکپ کی مشترکہ میزبانی کر چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹورنامنٹ کے لیے تین ممالک میں مجموعی طور پر بارہ اسٹیڈیمز کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں جنوبی افریقا میں آٹھ، زمبابوے میں تین اور نمیبیا کے دارالحکومت ونڈہوک میں ایک میدان شامل ہے۔ جنوبی افریقا میں سب سے زیادہ تقریباً چوالیس میچز کھیلے جانے کی توقع ہے، جبکہ زمبابوے میں تقریباً دس میچز شیڈول کیے جانے کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ نمیبیا اگرچہ میزبان ملک ہوگا، مگر اسے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کی خودکار رسائی حاصل نہیں، کیونکہ وہ آئی سی سی کا مکمل رکن (فل میمبر) نہیں اور اسے دیگر ایسوسی ایٹ ممالک کی طرح معیاری کوالیفیکیشن مراحل ہی سے گزرنا ہوگا۔
گزشتہ ورلڈکپ 2023 میں صرف دس ٹیمیں راؤنڈ رابن بنیاد پر ایک دوسرے سے مدِمقابل ہوئی تھیں، جس کے بعد سرِفہرست چار ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچی تھیں۔ اس کے برعکس 2027 کا ایڈیشن نہ صرف چودہ ٹیموں پر مشتمل ہوگا بلکہ اس میں تین الگ الگ راؤنڈز کا سہ مرحلہ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جو ٹورنامنٹ کو 2003 کے روایتی فارمیٹ سے قریب تر لے آتا ہے، جب زیادہ ٹیموں کے درمیان گروپ مرحلے اور سُپر سکس جیسے راؤنڈز رائج تھے۔ کرکٹ ماہرین کے مطابق اس توسیعی فارمیٹ کا مقصد ایسوسی ایٹ اور ابھرتی ہوئی کرکٹ کھیلنے والی اقوام کو زیادہ مواقع فراہم کرنا اور عالمی کپ کی اپیل کو مزید وسعت دینا ہے۔
اہم نکات — ایک نظر میں
- ورلڈکپ 2027 میں 14 ٹیمیں شرکت کریں گی — 2023 سے چار زیادہ
- میزبان جنوبی افریقا و زمبابوے کے علاوہ 30 ستمبر 2026 کی رینکنگ کی بنیاد پر ٹاپ 8 ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کریں گی
- اب تک کوالیفائی کرنے والی ٹیمیں: آسٹریلیا، بھارت، نیوزی لینڈ، پاکستان، سری لنکا، انگلینڈ، بنگلادیش، افغانستان، جنوبی افریقا، زمبابوے
- ویسٹ انڈیز کو فروری 2027 کے کوالیفائر سے گزرنا پڑے گا
- باقی 4 نشستیں چیلنج لیگ، ورلڈکپ لیگ 2 اور فروری-مارچ 2027 کے کوالیفائر کے ذریعے طے ہوں گی
- ٹورنامنٹ 4 اکتوبر تا 21 نومبر 2027 جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا
- نیا سہ مرحلہ فارمیٹ: سُپر سیریز، گروپ مرحلہ، سُپر 7، پھر سیمی فائنلز اور فائنل
- نمیبیا کی تاریخ میں پہلی بار ورلڈکپ میچز کی میزبانی