مصروف طرزِ زندگی میں جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنا ہر فرد کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر روزمرہ معمول میں توازن پیدا کر لیا جائے تو نہ صرف صحت بہتر رہتی ہے بلکہ ذہنی سکون اور زندگی کا معیار بھی بلند ہوتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے ’8، 8 اور 8‘ کا اصول ایک آسان اور مؤثر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
’8، 8 اور 8‘ کا اصول کیا ہے؟
اس اصول کے مطابق پورے دن کے 24 گھنٹوں کو تین مساوی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلے آٹھ گھنٹے معیاری نیند کے لیے، اگلے آٹھ گھنٹے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں یا کام کے لیے جبکہ باقی آٹھ گھنٹے ذاتی زندگی، آرام، ورزش، متوازن غذا، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے اور پسندیدہ سرگرمیوں کے لیے مختص کیے جاتے ہیں۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معمول سے زندگی میں توازن پیدا کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
معیاری نیند کی اہمیت
ماہرین کے مطابق اس اصول کا سب سے اہم حصہ مکمل اور معیاری نیند ہے۔ مناسب نیند جسم کو دن بھر کی تھکن سے بحال کرتی ہے، مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے، ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھتی ہے اور دماغی صلاحیتوں میں بہتری لاتی ہے۔
دوسری جانب اگر نیند مسلسل پوری نہ ہو تو موٹاپا، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل پیدا ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ صرف آٹھ گھنٹے سونا کافی نہیں بلکہ روزانہ مقررہ وقت پر سونا اور جاگنا بھی یکساں اہمیت رکھتا ہے۔
کام اور آرام میں توازن رکھنا کیوں ضروری ہے؟
طویل اوقات تک مسلسل کام کرنا جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریباً آٹھ گھنٹے کام کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ذہنی دباؤ، تھکن، بے چینی اور دیگر صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔
البتہ ایسے افراد جو ایمرجنسی سروسز، طبی شعبے یا مختلف شفٹوں میں کام کرتے ہیں، ان کے لیے مقررہ اوقات پر عمل کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے افراد کو اپنی جسمانی بحالی اور مناسب آرام پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
ذاتی زندگی کے لیے وقت نکالنا بھی ضروری
دن کا آخری حصہ اپنی جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اس وقت میں باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، کتابوں کا مطالعہ، پسندیدہ مشاغل، مراقبہ اور کھلی فضا میں چہل قدمی جیسی سرگرمیوں کو شامل کیا جائے۔
یہ تمام عادات نہ صرف ذہنی سکون فراہم کرتی ہیں بلکہ مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہیں۔
ہر شخص اپنی ضروریات کے مطابق معمول ترتیب دے
صحت کے ماہرین کے مطابق ’8، 8 اور 8‘ کا اصول کوئی سخت قانون یا جادوئی نسخہ نہیں بلکہ متوازن زندگی گزارنے کی ایک سادہ یاد دہانی ہے۔ ہر فرد کی عمر، صحت، پیشہ اور روزمرہ ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص اپنی ضروریات اور حالات کے مطابق ایسا معمول اختیار کرے جس پر مستقل مزاجی سے عمل کرنا ممکن ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب جسمانی وزن برقرار رکھنا، ذہنی دباؤ کو کم کرنا اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ کروانا بھی صحت مند زندگی کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں۔