امارات میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد

ابوظہبی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2026ء) متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ مضر اثرات سے بچانے کے لیے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے، کابینہ نے ایک نئی قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ خلیجی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے ملک بھر میں بچوں کی حفاظت اور ان کی ذہنی و تعلیمی صحت کو بہتر بنانے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، 2024ء کے ایک سروے کے مطابق یو اے ای میں بچے روزانہ اوسطاً تین گھنٹے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گزارتے ہیں، جس کے پیشِ نظر حکومت نے یہ سخت فیصلہ کیا۔

 

بتایا گیا ہے کہ اماراتی کابینہ کی جانب سے جاری کردہ قرارداد کے تحت دو الگ الگ زمروں میں قواعد لاگو ہوں گے، جن کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا پر ذاتی اکاؤنٹ بنانے یا پلیٹ فارمز کے مکمل فیچرز تک رسائی حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی، جب کہ 15 سے 16 سال کی عمر کے نوجوانوں کو سوشل میڈیا تک محدود اور مشروط رسائی دی جائے گی، جس کے لیے ان کے اکاؤنٹس پر اضافی حفاظتی اقدامات لاگو ہوں گے۔

معلوم ہوا ہے کہ ہ 15 سے 16 سال کی عمر کے نوجوانوں کیلئے کیے جانے والے اقدامات میں صرف عمر کے لحاظ سے مناسب مواد تک رسائی، نامعلوم افراد سے بات چیت کو بلاک کرنا، استعمال کے دورانیے کو ریگولیٹ کرنا، والدین کو اپنے بچوں کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی ٹولز فراہم کرنا شامل ہے تاکہ ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول یقینی بنایا جا سکے۔ بتایا جارہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے بچوں کی حفاظت کے لیے سوشل میڈیا کے قوانین کو سخت کیا ہے، جن میں برطانیہ، آسٹریلیا اور ملائیشیا جیسے ممالک پہلے ہی شامل ہیں، حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ان نئے معیارات کو 12 ماہ کے اندر مرحلہ وار نافذ کریں۔ 

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کا طویل عرصے تک سوشل میڈیا کے استعمال سے جڑے رہنا انہیں کئی طرح کے چیلنجز سے دوچار کرسکتا ہے، جن میں ذہنی صحت متاثر ہونے سے بے چینی کا شکار ہونا، توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات اور تعلیمی کارکردگی میں گراوٹ، بعض صورتوں میں بچوں کی بولنے کی صلاحیت میں تاخیر کا مشاہدہ بھی کیا گیا ہے۔