نئے ہجری سال پر غلافِ کعبہ تبدیل، روح پرور مناظر دلوں میں اُتر گئ

ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جون2026ء) سعودی عرب میں نئےہجری سال کے آغاز پر غلافِ کعبہ تبدیل کر دیا گیا، غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے لیے تیاریاں پیر کی شام سے شروع ہوئیں اور منگل کی صبح کسوہ کی تبدیلی کا عمل مکمل کیا گیا۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں نئے ہجری سال کے آغاز کے موقع پر کعبۃ اللہ کے غلاف کی تبدیلی کا وہ تاریخی عمل سرانجام دیا گیا ہے جس کا سال میں صرف ایک بار دنیا بھر کے مسلمان انتہائی شدت سے انتظار کرتے ہیں، کسوہ فیکٹری سے نیا غلافِ کعبہ ایک باقاعدہ قافلے کی صورت میں مسجد الحرام منتقل کیا گیا جہاں سعودی ماہرین نے اپنی روایتی اور منفرد مہارت کے ساتھ اس مقدس ذمہ داری کو نبھایا۔غلاف کی تبدیلی کا عمل ایک انتہائی مربوط نظام اور تکنیکی باریکیوں کے تحت شروع کیا گیا، کسوہ کی تبدیلی کے عمل کا آغاز پرانے غلاف کو اتارنے سے کیا گیا، جس میں سب سے پہلے سونے کے تاروں سے کڑھائی کیے گئے آیاتِ قرآنی کے طغرے انتہائی مہارت اور احتیاط کے ساتھ اتارے گئے، اس کے بعد خانہ کعبہ کے دروازے کا وہ تاریخی اور خوبصورت پردہ اتارا گیا جس کی لمبائی 6.35 میٹر اور چوڑائی 3.33 میٹر ہے، غلاف کے مختلف سمت کے حصوں کو کعبے کی چھت پر لے جانے اور پھر پرانے حصوں کو نیچے لانے کا عمل نہایت ترتیب کے ساتھ مکمل کیا گیا۔

کنگ عبدالعزیز کمپلیکس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ اس بار تیار کیے گئے غلافِ کعبہ کا کل وزن 1410 کلوگرام ہے، اور اس کی تیاری میں دنیا کا مہنگا ترین اور خالص ترین مواد استعمال کیا گیا ہے، کسوہ کی تیاری کے لیے لگ بھگ 825 کلوگرام خام ریشم اور 410 کلوگرام خام روئی استعمال کی گئی ہے، غلاف پر کڑھائی کے لیے 60 کلوگرام خالص چاندی جبکہ 120 کلوگرام چاندی کی ایسی تار استعمال کی گئی ہے جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا۔ 

اس شاہکار غلاف کو بنانے کے لیے سعودی عرب کے مایہ ناز کاریگر طویل عرصے سے مصروفِ عمل تھے، مجموعی طور پر 150 سعودی کاریگروں اور ہنرمندوں نے مسلسل 11 ماہ کی شب و روز محنت سے سیاہ ریشم کے 47 خوبصورت ٹکڑے تیار کیے، ان ریشمی ٹکڑوں پر قرآنِ پاک کی 30 مبارک آیات کو چاندی کے دھاگے سے کشیدہ کیا گیا تھا، اور بعد ازاں اس دھاگے پر 24 قیراط سونے کی تہہ چڑھائی گئی تھی، جو خانہ کعبہ کی دیواروں پر منگل کی صبح مکمل شان و شوکت کے ساتھ چمکتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔