ایک واشروم کے استعمال کا تنازع، ایک CSP افسر کی رخصتی

حافظ آباد کے ڈی پی او آفس میں ایک سیاسی بیٹھک تھی۔ کرسیوں پر کچھ سیاسی شخصیات موجود تھیں- کسی کو خبر نہ تھی کہ واشروم کا ایک دروازہ ایک افسر کے کیریئر کا موڑ بن جائے گا۔ دفتر میں موجود ایک ایم پی اے کے صاحبزادے جو آئندہ ایم پی اے کے امیدوار بھی ہیں اور ایک اور سیاسی شخصیت بھی تھی ان میں سے ایک صاحب اٹھے اور ڈی پی او کامران حمید کے واشروم کی طرف بڑھ گئے۔ ڈی پی او نے ٹوکا۔ “میرا پرسنل واشروم کس کی اجازت سے استعمال کرنے لگے؟” وہاں بیٹھے سیاستدان صاحب نے وضاحت دی تعارف کروایا “ ذرا لحاظ کریں۔” لحاظ نہ ہوا۔ بات بڑھی اور ڈی پی او کامران حمید نے کہا “Get Lost’’ سیاسی شخصیات وہاں سے چلی گئیں چند لمحوں کے بعد سوشل میڈیا پہ خبر چلی “ڈی پی او حافظ آباد کامران حمید تبدیل۔” خبر بے بنیاد تھی کامران حمید ابھی بھی ڈی پی او برقرار تھے۔ چند روز کی تگ و دو، چند فون کالز، اور کچھ بالائی سطح کی سرگرمی کے بعد وہ ہوا جو افواہ تھی، حقیقت بن گئی۔

کامران حمید کا تبادلہ ہو گیا۔ ان کی جگہ ایک نئے رینکر ایس پی کو چارج دے دیا گیا۔ لوگ ابھی یہ طے کر ہی رہے تھے کہ یہ واقعہ سچ ہے یا قیاس آرائی کہ اس سوال کا جواب خود آ گیا۔ ان صاحب نے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی “Now You Get Lost” بس اس ایک لائن نے ہر شک دور کر دیا جو کہانی افواہ لگتی تھی، وہ جشن بن گئی اور اس کے کرداروں نے اس پہ منہ بولتی مہر گا دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک CSP افسر کا تبادلہ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنے واشروم کے استعال کی اجازت نہ دی – واشروم بچا لیا مگر اختیار چھوڑ دیا