آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 20 اکتوبر 2026 کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 16 پیسے فی لیٹر کمی کر کے اسے 381 روپے 14 پیسے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 69 پیسے سستا ہو کر 389 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے یہ نوٹیفکیشن پیر 19 اکتوبر کو جاری کیا، اور نئی قیمتوں کا اطلاق اسی رات 12 بجے کے بعد سے اگلے 24 گھنٹوں کے لیے ہوگا۔ یعنی یہ نرخ 20 اکتوبر کے لیے ہیں اور اس کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان متوقع ہے۔ نوٹیفکیشن کے بعد پیٹرول 386 روپے 30 پیسے سے کم ہو کر 381 روپے 14 پیسے پر آیا، اور ڈیزل 396 روپے 96 پیسے سے کم ہو کر 389 روپے 27 پیسے پر آ گیا۔
کمی کا حجم بظاہر نمایاں لگتا ہے، مگر اسے تناسب میں دیکھنا ضروری ہے۔ پیٹرول میں کمی تقریباً 1.34 فیصد ہے اور ڈیزل میں تقریباً 1.94 فیصد۔ ایک لیٹر پر 5 سے 8 روپے کا فرق ایک عام موٹر سائیکل سوار کو دس لیٹر پیٹرول ڈلوانے پر تقریباً 52 روپے کی بچت دیتا ہے، جبکہ ڈیزل پر دس لیٹر کے لیے تقریباً 77 روپے کی بچت بنتی ہے۔ یہ بچت اپنی جگہ مفید ہے، مگر "بڑی کمی” کی سرخی تبھی درست ہوگی جب اسے گزشتہ مہینوں میں قیمتوں کی بلندی کے سیاق میں پڑھا جائے۔ ڈیزل کی اس کمی کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں فرق صرف تقریباً 8 روپے رہ گیا ہے۔
اس وقت پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا نظام ماضی کے پندرہ روزہ طریقے سے مختلف ہے۔ رپورٹوں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے دوران حکومت ایندھن کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کر رہی ہے، البتہ ہفتہ اور اتوار کو قیمتیں عموماً تبدیل نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر 17 سے 19 اکتوبر کے لیے جمعے کو ایک ساتھ تین دن کے نرخ جاری کیے گئے تھے، جن میں پیٹرول 3 روپے 93 پیسے کمی کے ساتھ 386 روپے 30 پیسے اور ڈیزل بغیر تبدیلی کے 396 روپے 96 پیسے پر رکھا گیا تھا۔ اس سے پہلے 15 اکتوبر کو پیٹرول بڑھ کر 393 روپے 86 پیسے ہوا تھا اور ڈیزل معمولی کمی کے ساتھ 396 روپے 65 پیسے پر آیا تھا۔ اسی ہفتے ایک اور رپورٹ کے مطابق پیٹرول 3 روپے 63 پیسے سستا ہو کر 390 روپے 23 پیسے پر آیا تھا۔ یعنی پیٹرول کی قیمت چند ہی دنوں میں 393.86 روپے سے 381.14 روپے تک آ چکی ہے، جو تقریباً 12.7 روپے کی مجموعی کمی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 17 جولائی سے اب تک پیٹرول کی قیمت 27 مرتبہ کم اور 36 مرتبہ بڑھائی جا چکی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 26 مرتبہ کم اور 36 مرتبہ بڑھائی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک بنیادی حقیقت بتاتے ہیں: قیمتوں کا رجحان صرف نیچے نہیں، بلکہ اوپر نیچے ہوتا رہا ہے، اور بڑھنے کے مواقع کمی کے مواقع سے زیادہ رہے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق جولائی کے وسط میں، یعنی روزانہ قیمتوں کے آغاز سے پہلے، پیٹرول تقریباً 310.71 روپے اور ڈیزل تقریباً 323.30 روپے فی لیٹر تھا۔ اس بنیاد پر موجودہ نرخ اب بھی پیٹرول میں تقریباً 70 روپے (تقریباً 22.7 فیصد) اور ڈیزل میں تقریباً 66 روپے (تقریباً 20.4 فیصد) زیادہ ہیں۔ یہ موازنہ ایک ہی ذریعے کی جدول پر مبنی ہے، اس لیے اسے اندازے کے طور پر دیکھنا چاہیے، لیکن مجموعی تصویر واضح ہے کہ آج کی کمی کے باوجود قیمتیں جولائی سے خاصی اوپر ہیں۔
قیمتوں میں ردوبدل کی وجہ کیا ہے؟ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ایڈجسٹمنٹ عالمی تیل کی قیمتوں، پلیٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلی کی عکاس ہے۔ پلیٹس خلیجی خطے کی تیل کی قیمتوں کا عالمی حوالہ ہے، جسے پاکستان درآمدی لاگت طے کرنے میں استعمال کرتا ہے۔ جمعے کو عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.34 فیصد بڑھ کر 106.28 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 0.19 فیصد کم ہو کر 97.78 ڈالر رہی۔ منڈی پر اثر انداز عوامل میں مشرقِ وسطیٰ کی سپلائی کے بارے میں غیر یقینی، امریکی خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی، اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مزید ڈیزل جاری کرنے کے اقدام کے بعد یورپ میں ڈیزل منافع کے مارجن میں کمی شامل تھے۔ یہ اعداد جمعے کے ہیں، یعنی 20 اکتوبر کے نرخ کے وقت کی منڈی ان سے مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے انھیں رجحان کے اشارے کے طور پر دیکھنا مناسب ہے۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کا ایک بڑا حصہ عالمی بنیاد سے الگ ہوتا ہے۔ اس میں ان لینڈ فریٹ ایکوئلائزیشن مارجن، ڈیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کے مارجن، اور سب سے بڑھ کر حکومت کی عائد کردہ پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس شامل ہوتے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی حکومت کا مالیاتی ذریعۂ آمدن ہے اور پمپ کی قیمت میں شامل ہوتی ہے، الگ بل کی صورت میں نہیں لی جاتی۔ 20 اکتوبر کے نوٹیفکیشن سے متعلق دستیاب رپورٹوں میں لیوی کی مقدار یا اس میں تبدیلی کا ذکر نہیں، اس لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ آج کی کمی میں لیوی کا کوئی کردار تھا۔ قیمت کا وہ حصہ جس پر حکومت کا مکمل اختیار ہے، یعنی لیوی اور ٹیکس، ہر نوٹیفکیشن میں درج ہوتا ہے، اور دلچسپی رکھنے والے قارئین اوگرا یا پیٹرولیم ڈویژن کے سرکاری نوٹیفکیشن میں اس کی مقدار دیکھ سکتے ہیں۔
پیٹرولیم لیوی کا معاملہ سیاسی بحث کا موضوع بھی بنا ہوا ہے۔ جماعتِ اسلامی ہفتوں سے اس لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس نے احتجاجی دھرنے، سڑکوں کی بندش اور کراچی سے اسلام آباد تک مارچ جیسے اقدامات کیے۔ حکومت اور جماعت کے درمیان مذاکرات اور کمیٹیوں کی تشکیل کی خبریں آتی رہی ہیں، اور ایکسپریس کی ایک ذیلی خبر کے مطابق جماعتِ اسلامی اور حکومتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کا امکان ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ حکومت اپنا وعدہ پورا کرے، جبکہ حکومت نے مزید وقت مانگا ہے۔ ان رپورٹوں میں لیوی کی فی لیٹر مقدار واضح نہیں، اس لیے مضمون میں کوئی عدد نہیں دیا جا رہا۔ یہ کہنا بھی قبل از وقت ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا۔
عوام کو براہِ راست ریلیف کے لیے حکومت نے 13 ستمبر کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کی طرف سے ایک خصوصی اسکیم کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت اہل صارفین، یعنی موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں رکھنے والوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جاتی ہے۔ یہ رعایت رجسٹرڈ مستحقین کے لیے ہے، عام صارف کے لیے نہیں، اس لیے آج کی کمی کا فائدہ سب کو ملے گا مگر مستحقین کے لیے رعایت اس سے الگ ہے۔ ستمبر کی ایک رپورٹ میں یہ بھی آیا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد ہفتہ وار مہنگائی میں 0.49 فیصد اضافہ ہوا، اور اس دوران ڈیزل میں 7.29 فیصد اور پیٹرول میں 6.40 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ ایندھن کی قیمتوں کا اثر مہنگائی پر کتنی تیزی سے پڑتا ہے۔
یہاں ایک سوال اہم ہے: کیا ایندھن سستا ہونے سے دیگر اشیا بھی سستی ہوں گی؟ ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اثر نظریاتی طور پر ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور بجلی کی پیداوار تک جاتا ہے، اور اسی لیے اس کی زیادہ کمی نسبتاً زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔ مگر عملی تجربہ بتاتا ہے کہ قیمتیں بڑھنے پر کرائے اور اشیا تیزی سے مہنگی ہو جاتی ہیں، جبکہ کمی پر وہ اتنی ہی تیزی سے واپس نہیں آتیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ٹرانسپورٹرز اور تاجر قیمتوں میں روزانہ کی کمی بیشی کے بجائے ایک نسبتاً مستحکم سطح پر کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ صارفین کے لیے اصل فائدہ تبھی ہوگا جب کمی مسلسل رہے، ایک دن کا اتار چڑھاؤ نہیں۔ یہ بات ماہرین کے عمومی مشاہدے پر مبنی ہے، کسی خاص رپورٹ کا دعویٰ نہیں۔
صارفین کے لیے چند عملی نکات یہ ہیں۔ چونکہ نرخ روزانہ بدل رہے ہیں، اس لیے گاڑی میں ایندھن بھروانے سے پہلے اوگرا یا کسی مستند ذریعے سے تازہ قیمت دیکھ لینا مفید ہے۔ جب قیمت کم ہو تو ٹینک بھروانا بہتر ہو سکتا ہے، مگر یہ بھی نہ بھولیں کہ اگلے ہی دن قیمت دوبارہ بڑھ سکتی ہے، اس لیے ضرورت سے زیادہ ایندھن ذخیرہ کرنا نہ حفاظتی لحاظ سے مناسب ہے اور نہ عملی لحاظ سے۔ پمپ پر قیمت کا نوٹس دیکھ کر ادائیگی کی جائے اور اگر کوئی پمپ سرکاری نرخ سے زیادہ وصول کرے تو متعلقہ اتھارٹی کو شکایت کی جا سکتی ہے۔
مجموعی طور پر 20 اکتوبر کا اعلان صارفین کے لیے خوش آئند ہے، مگر یہ طویل رجحان کا اشارہ نہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل اب بھی بلند سطح، تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس، رہا ہے، مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے، اور روپے اور ڈالر کے تبادلے کی شرح بھی درآمدی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب تک ان عوامل میں پائیدار بہتری نہیں آتی، روزانہ کی قیمتوں میں کمی بیشی جاری رہنے کا امکان ہے۔ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دیتے ہوئے مالی ضروریات بھی پوری کرے، اور اسی لیے لیوی جیسے معاملات پر سیاسی بحث آنے والے دنوں میں بھی جاری رہے گی۔ فی الحال آج کی خبر کو ایک روزہ ریلیف سمجھنا چاہیے، جس کا انحصار اگلے نوٹیفکیشن پر ہے۔