پاکستان کے ممتاز بلے باز بابر اعظم نے اتوار 18 اکتوبر 2026 کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف سہ ملکی ون ڈے سیریز کے افتتاحی میچ کے دوران بین الاقوامی کرکٹ میں 16 ہزار رنز مکمل کر لیے۔ وہ یہ سنگ میل عبور کرنے والے پاکستان کے پانچویں بلے باز بن گئے ہیں۔ اس خبر کو کئی جگہ "ون ڈے میں نیا ریکارڈ” کی سرخی کے ساتھ پیش کیا گیا، لیکن اس میں ایک وضاحت ضروری ہے: یہ 16 ہزار رنز ون ڈے کرکٹ کے نہیں، بلکہ تینوں فارمیٹس، یعنی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کو ملا کر بنتے ہیں۔ ون ڈے میں ان کے رنز اس وقت تقریباً 6,600 سے 6,700 کے درمیان ہیں۔ اس فرق کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ ورنہ قاری یہ سمجھ سکتا ہے کہ انھوں نے صرف ایک روزہ کرکٹ میں سولہ ہزار رنز بنائے ہیں، جو درست نہیں۔
دستیاب رپورٹوں کے مطابق بابر کو اس سنگ میل تک پہنچنے کے لیے میچ شروع ہونے کے وقت سات رنز درکار تھے، اور انھوں نے اننگز کے پانچویں اوور کی آخری گیند پر یہ ہدف مکمل کیا۔ یہ ان کا 355واں بین الاقوامی میچ تھا۔ انھوں نے مئی 2015 میں اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا تھا، یعنی تقریباً گیارہ سال کے عرصے میں انھوں نے یہ مقام حاصل کیا۔ میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے پاور پلے کے اختتام پر دو وکٹوں کے نقصان پر 54 رنز بنائے تھے، اور 14 اوور بعد اسکور 73 پر دو کھلاڑی آؤٹ تھا۔ دلشان مدوشنکا نے سائم ایوب (سات رنز) اور فخر زمان (سولہ رنز) کو پویلین بھیجا۔ اس مرحلے پر ڈیبیو کرنے والے سعد بیگ بابر کے ساتھ اننگز سنبھالتے نظر آئے۔
بابر اعظم خود 57 گیندوں پر 45 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جن میں چھ چوکے شامل تھے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ تقریباً 79 رہا۔ وہ ایک بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہو سکے، اور پاکستان کا اسکور ایک موقع پر 118 رنز پر چار وکٹیں تھا۔ اس کے بعد سلمان علی آغا اور حسن نواز کے درمیان 97 رنز کی شراکت نے اننگز کو سہارا دیا۔ سلمان آغا نے 90 گیندوں پر 107 رنز بنائے اور پاکستان کی پوری ٹیم 49.5 اوورز میں 305 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ سری لنکا کی طرف سے ایشان ملنگا نے 46 رنز دے کر چار اور اسیتھا فرنینڈو نے 59 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ ایک رپورٹ کی ذیلی سرخی میں بتایا گیا کہ پاکستان نے یہ میچ 37 رنز سے جیتا، تاہم یہ نتیجہ مکمل میچ رپورٹ سے مصدقہ نہیں تھا، اس لیے حتمی نتیجے کے لیے باضابطہ اسکور کارڈ دیکھنا بہتر ہوگا۔

اب ذرا اعداد پر نظر ڈالتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بابر اعظم کے کیریئر کے اعداد کچھ یوں ہیں۔ ٹیسٹ میں 66 میچوں میں 4,771 رنز، اوسط تقریباً 43، نو سنچریاں، 34 نصف سنچریاں اور سب سے بڑی اننگز 196 رنز۔ ون ڈے میں تقریباً 144 میچوں میں 6,671 رنز، اوسط تقریباً 53، بیس سنچریاں، 38 نصف سنچریاں اور سب سے بڑا اسکور 158۔ ٹی ٹوئنٹی میں 145 میچوں میں 4,596 رنز، اوسط تقریباً 39، اسٹرائیک ریٹ 128، تین سنچریاں، 39 نصف سنچریاں اور بہترین اننگز 122 رنز۔ تینوں فارمیٹس کو جمع کریں تو کل رنز 16,038 بنتے ہیں، سنچریاں 32 اور نصف سنچریاں 111۔ مختلف ویب سائٹوں پر ون ڈے کے رنز اور میچوں کی تعداد میں معمولی فرق ہے، کیونکہ ایک ذریعہ میچ کے دوران کے اعداد دکھاتا ہے اور دوسرا اننگز مکمل ہونے کے بعد کے۔ اس لیے کسی ایک عدد کو بحث کا موضوع بنانے کے بجائے مجموعی تصویر دیکھنا بہتر ہے۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں مردوں کے سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ بابر اعظم کے نام سے جوڑا جاتا ہے۔
پاکستان کے وہ بلے باز جو سولہ ہزار یا اس سے زیادہ بین الاقوامی رنز بنا چکے ہیں، ان میں انضمام الحق سب سے آگے ہیں، جنھوں نے 495 میچوں میں 20,541 رنز بنائے۔ ان کے بعد یونس خان ہیں، جن کے 408 میچوں میں 17,790 رنز ہیں۔ تیسرے نمبر پر محمد یوسف ہیں، جنھوں نے 374 میچوں میں 17,134 رنز اسکور کیے۔ چوتھے نمبر پر جاوید میانداد ہیں، جن کے 357 میچوں میں 16,213 رنز ہیں۔ اب پانچویں نمبر پر بابر اعظم آ گئے ہیں، 355 میچوں میں 16,038 رنز کے ساتھ۔ یہاں ایک دلچسپ نکتہ سامنے آتا ہے کہ بابر نے یہ سنگ میل جاوید میانداد سے دو میچ کم کھیل کر عبور کیا۔ میانداد کے 16,213 رنز ابھی بابر سے تقریباً 175 رنز زیادہ ہیں، یعنی اگر بابر کی فارم برقرار رہی تو وہ جلد ہی چوتھے نمبر پر آ سکتے ہیں۔ ان کے بعد پاکستان کے دیگر نمایاں رنز بنانے والوں میں سلیم ملک، سعید انور، محمد حفیظ، شعیب ملک اور شاہد آفریدی شامل ہیں، جن کے رنز بارہ ہزار کے آس پاس یا گیارہ ہزار سے اوپر ہیں۔
اس سنگ میل کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان میں کرکٹ کا معیار طویل عرصے سے ٹیسٹ کرکٹ میں مستقل مزاجی اور محدود اوورز کی کرکٹ میں تیز رفتاری کے توازن سے ناپا جاتا ہے۔ انضمام، یونس خان اور محمد یوسف کا شمار ان بلے بازوں میں ہوتا ہے جنھوں نے لمبی اننگز کھیل کر ٹیم کو کئی مشکل مواقع سے نکالا۔ بابر کی خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے تینوں فارمیٹس میں رنز بنائے اور ٹی ٹوئنٹی میں بھی ریکارڈ قائم کیے، مگر ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ان کے اسٹرائیک ریٹ پر سوالات اٹھے ہیں۔ حامیوں کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسا بلے باز جو ٹاپ آرڈر میں ٹیم کو استحکام دے، اس کا کردار مختلف ہوتا ہے۔ یہ بحث پرانی ہے اور ایک سنگ میل سے ختم نہیں ہوتی۔
اس سال کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالیں تو اسی رپورٹ کے مطابق 2026 میں بابر نے تینوں فارمیٹس میں اب تک 18 میچ کھیلے ہیں، جن میں 742 رنز بنائے، اوسط تقریباً 41، چھ نصف سنچریاں اور بہترین اسکور 88 رہا۔ ون ڈے میں اس سال انھوں نے چار اننگز میں 170 رنز بنائے، یعنی اوسط 42.50۔ یہ اعداد نہ شاندار ہیں نہ مایوس کن، مگر ان میں ایک چیز نمایاں ہے: اس سال سنچری نہیں آئی۔ بابر کی کیریئر اوسط ون ڈے میں 53 سے اوپر ہے، اس لیے موجودہ سال کی اوسط ان کے اپنے معیار سے کم ہے۔ یہ حقیقت ان ناقدین کی بات کو وزن دیتی ہے جو کہتے ہیں کہ بابر اپنی بہترین فارم سے کچھ نیچے ہیں، اور ان کے حامیوں کی یہ دلیل بھی اپنی جگہ ہے کہ وہ اب بھی ٹیم کے سب سے مستقل بلے بازوں میں ہیں۔

حالیہ دنوں میں سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کے اس بیان پر بھی بات ہوئی ہے کہ ون ڈے ٹیم میں بابر کی جگہ خطرے میں ہے۔ یہ ایک سابق کھلاڑی کی ذاتی رائے ہے، ٹیم انتظامیہ یا سلیکٹرز کا فیصلہ نہیں، اس لیے اسے فیصلہ کن حقیقت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ ایسی آرا اکثر کھلاڑی کی ایک مختصر خراب فارم کے بعد سامنے آتی ہیں اور اگلی بڑی اننگز کے بعد بدل جاتی ہیں۔ بابر کی ایک مثال یہ ہے کہ ان کے ماضی کے بحرانوں کے بعد بھی انھوں نے واپسی کی ہے، لیکن ماضی کی واپسی مستقبل کی ضمانت نہیں ہوتی۔
ایک اور پہلو ٹیم کا ڈھانچہ ہے۔ اس میچ میں سعد بیگ نے ڈیبیو کیا، اور سلمان علی آغا نے سنچری بنائی، جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ لائن اب صرف ایک یا دو ناموں پر انحصار نہیں کر رہی۔ جب ٹاپ آرڈر جلد وکٹیں کھو دے تو مڈل آرڈر کا سنبھالنا ٹیم کے لیے اچھی علامت ہے۔ اس کے باوجود بابر جیسے تجربہ کار بلے باز کی موجودگی ٹیم کو اعتماد دیتی ہے، خصوصاً جب ابتدائی وکٹیں گر جائیں اور اننگز کو مستحکم کرنا ہو۔ اس میچ میں ان کی 45 رنز کی اننگز نے ابتدائی دباؤ کم کرنے میں کردار ادا کیا، اگرچہ وہ اسے بڑے اسکور میں تبدیل نہ کر سکے۔
یہاں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بابر اعظم ابھی کھیل رہے ہیں اور ان کا کیریئر جاری ہے، اور وہ جس رفتار سے رنز بنا رہے ہیں، اس حساب سے ان کے لیے مزید بڑے سنگ میل ممکن ہیں۔ جاوید میانداد کے 16,213 رنز عبور کرنا قریبی ہدف ہے۔ اس کے بعد محمد یوسف کے 17,134 رنز اور یونس خان کے 17,790 رنز کے لیے انھیں مزید سیزن درکار ہوں گے، جبکہ انضمام الحق کے 20,541 رنز تک پہنچنے کے لیے ایک طویل سفر باقی ہے۔ یہ سب اس پر منحصر ہے کہ وہ کتنا عرصہ تینوں فارمیٹس میں کھیلتے رہتے ہیں اور فٹنس اور فارم کیسی رہتی ہے۔ کرکٹ میں پیش گوئیاں اکثر غلط ثابت ہوتی ہیں، اس لیے انھیں اندازہ ہی سمجھنا چاہیے۔
آخر میں، یہ سنگ میل بابر اعظم کی مستقل مزاجی کی علامت ہے۔ پاکستان کے لیے 16 ہزار رنز بنانا معمولی بات نہیں، اور اس فہرست میں اب صرف چار نام ان سے آگے ہیں۔ تاہم صحیح خبر یہی ہے کہ یہ ریکارڈ مجموعی بین الاقوامی رنز کا ہے، صرف ون ڈے کا نہیں۔ ان کی اس میچ کی اننگز 45 رنز پر ختم ہوئی، مگر ریکارڈ بک میں ان کا نام ایک نئے باب کے ساتھ درج ہو گیا۔ اب نظریں اس پر ہوں گی کہ سہ ملکی سیریز کے باقی میچوں میں وہ اپنی اس شراکت کو بڑی اننگز میں بدل پاتے ہیں یا نہیں، کیونکہ تماشائیوں اور ناقدین دونوں کی توقع اب بھی بابر سے سنچری کی ہے۔