اسٹوڈیوز کے باہر گھنٹوں انتظار کرنے سے لے کر بڑے کنسرٹس کے انعقاد، معروف گلوکاروں کی بکنگ اور نئے ٹیلنٹ کے لیے پلیٹ فارم بنانے تک — سجاد خان کا سفر محنت، مستقل مزاجی اور اپنے خوابوں پر یقین کی ایک کہانی ہے۔
پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بظاہر روشن روشنیوں، موسیقی، بڑے اسٹیجز اور کامیاب فنکاروں کی دنیا ہے، لیکن اس چمک دمک کے پیچھے کچھ ایسے افراد بھی کام کرتے ہیں جن کی محنت کے بغیر بڑے ایونٹس کا انعقاد اور فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ممکن نہیں ہوتا۔ سجاد خان انہی افراد میں سے ایک ہیں، جنہوں نے 2010 میں اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے عملی جدوجہد کا آغاز کیا اور وقت کے ساتھ آرٹسٹ مینجمنٹ، کنسرٹ آرگنائزیشن اور انٹرٹینمنٹ کے شعبے میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کی۔
ان کا سفر محض ایونٹس منعقد کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے مشکلات، انتظار اور محدود مواقع کے باوجود اپنے شوق کو زندہ رکھا اور رفتہ رفتہ اپنے لیے ایک راستہ بنایا۔
2010: خواب بڑے تھے، وسائل محدود
سجاد خان کو ماڈلنگ، اداکاری اور گلوکاری سے گہری دلچسپی تھی۔ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نے مختلف اسٹوڈیوز کے چکر لگائے، گھنٹوں انتظار کیا اور ایسے مواقع کی تلاش میں رہے جو انہیں انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں آگے بڑھنے کا راستہ دکھا سکیں۔
یہ وہ وقت تھا جب انہیں اکثر چھوٹے موٹے کام ملتے، کبھی کسی کو ایونٹ تک پہنچانے کی ذمہ داری ہوتی، کبھی پانی اور دیگر انتظامی امور انجام دینے پڑتے، اور کبھی طویل انتظار کے باوجود مطلوبہ موقع نہیں ملتا تھا۔ یہ سب ان کے ابتدائی سفر کا حصہ رہا۔
لیکن ان تجربات نے انہیں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے اس پہلو سے روشناس کرایا جو عام طور پر اسٹیج پر نظر نہیں آتا: فنکاروں، منتظمین، پروڈکشن ٹیموں اور ایونٹ کے پس پردہ کام کرنے والے افراد کے درمیان رابطے اور انتظام کی اہمیت۔
ان تجربات نے انہیں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے اس پہلو سے روشناس کرایا جو عام طور پر اسٹیج پر نظر نہیں آتا
گلوکاری کا شوق اور راس کے نام ایک نغمہ
سجاد خان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو موسیقی سے ان کی وابستگی بھی ہے۔ 2012 میں انہوں نے اپنا گانا ’’میری ماں، میری ماں‘‘ ریلیز کیا، جو ان کے لیے ذاتی اور جذباتی اہمیت رکھتا تھا۔ گانا ان کے اس شوق کی عکاسی کرتا تھا جس کے ساتھ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا تھا۔
بعد ازاں ساچ اَری پبلک اسکول، پشاور کے پاس منعقد ایک پروگرام میں انہوں نے ’’ماں، تجھ کو میں یاد آؤں گا‘‘ گایا، جو ان کے بیان کردہ سفر کے مطابق لوگوں میں مقبول ہوا۔ اس کام کے ذریعے ماں کی محبت، جذبات اور دکھ جیسے جذبات کو آواز دینے کی کوشش کی گئی۔
ان کی موسیقی سے وابستگی نے انہیں انٹرٹینمنٹ کے اس پہلو سے بھی جوڑے رکھا، جسے محض ایک ایونٹ آرگنائزر کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک ایسے شخص کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے جس نے خود بھی فنکار بننے کا خواب دیکھا تھا۔
آرٹسٹ مینجمنٹ سے بڑے ایونٹس تک
وقت کے ساتھ سجاد خان کی توجہ ایونٹس کے انتظام اور فنکاروں کے ساتھ پیشہ ورانہ رابطوں کی طرف بڑھتی گئی۔ ان کے مطابق، اپنے ابتدائی ایونٹس میں انہوں نے معروف گلوکار ساحر علی بگا کو پرفارم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بعد میں انہوں نے بیرونِ ملک سے دیگر فنکاروں کو بلانے کے منصوبوں پر بھی کام کیا، جن میں یورپ اور ترکی سے آنے والے فنکار بھی شامل تھے۔
یہ تجربات ان کے لیے انٹرٹینمنٹ مینجمنٹ کے ایک وسیع میدان کی سمت پیش رفت تھے، جہاں صرف فنکار کو بک کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ سفری انتظامات، شیڈولنگ، تکنیکی ضروریات، بجٹ اور مختلف ٹیموں کے درمیان رابطہ بھی اہم ہوتا ہے۔
ان کے لیے یہ شعبہ محض شوق نہیں بلکہ ایک ایسا پیشہ ورانہ راستہ بننے لگا جس میں منصوبہ بندی، انتظام اور مسلسل محنت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
بڑے نام، بڑے اسٹیج اور وسیع ہوتا ہوا نیٹ ورک
سجاد خان کے مطابق انٹرٹینمنٹ کے سفر میں معروف پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ان کے لیے اہم رہا۔ انہوں نے راحت فتح علی خان، عاطف اسلم، شفقت علی بگا، شہنشاہ جوان اور دیگر معروف فنکاروں کے ساتھ ایونٹس کے انتظام میں کردار ادا کیا۔
یہاں آرٹسٹ مینجمنٹ کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے: فنکار اور ایونٹ آرگنائزر کے درمیان ایسا رابطہ قائم کرنا جس سے دونوں کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے ایک کامیاب پروگرام منعقد کیا جا سکے۔ کسی معروف فنکار کی بکنگ، اس کی دستیابی، انتظامی معاملات اور پرفارمنس کے لیے مناسب ماحول تیار کرنا ایک مربوط پیشہ ورانہ عمل ہے۔
سجاد خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کراچی کے علاوہ سکھر اور حیدرآباد میں بھی ایونٹس کے انعقاد میں حصہ لیا۔ 2021 میں بڑے پیمانے پر ہونے والے ایونٹس میں بھی ان کے پیشہ ورانہ سفر کا حصہ رہے، جن میں معروف پاکستانی گلوکاروں کی شرکت شامل تھی۔
ان سرگرمیوں نے ان کے کام کو صرف ایک شہر تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف مقامات پر ایونٹس کے انعقاد اور فنکاروں کے انتظام کے جوار سے جوڑا۔
آرٹسٹ مینجمنٹ: اسٹیج کے پیچھے اصل ذمہ داری
کسی بڑے کنسرٹ کی کامیابی صرف فنکار کی مقبولیت پر منحصر نہیں ہوتی۔ اس کے لیے منتظمین، فنکاروں، اسپانسرز، ویڈیو مینجمنٹ، ساؤنڈ، لائٹنگ، سیکیورٹی اور دیگر ٹیموں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہوتا ہے۔
سجاد خان کا پیشہ ورانہ کردار اسی وسیع نظام کا حصہ ہے۔ وہ ایونٹس منعقد کرنے کے ساتھ فنکاروں کی بکنگ اور انتظامی امور میں بھی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، پاکستان کے متعدد بڑے ایونٹس میں ان کی شمولیت رہی ہے۔
ان کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آرٹسٹ مینجمنٹ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں رابطوں کو برقرار رکھنا، وعدوں کی تکمیل، وقت کی پابندی اور انتظامی مسائل کو حل کرنا طویل مدتی پیشہ ورانہ سفر کے لیے اہم ہیں۔

کسی فنکار کو اسٹیج تک پہنچانے کے پیچھے ہونے والی محنت اکثر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے، لیکن ایونٹ کے کامیاب انعقاد میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
کسی فنکار کو اسٹیج تک پہنچانے کے پیچھے ہونے والی محنت اکثر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
کاروبار کے ساتھ انسانیت کا رشتہ: روٹی ہوم
سجاد خان کے سفر کا ایک اہم سماجی پہلو ضرورت مند افراد کے لیے مفت کھانے کی فراہمی کی کوشش بھی ہے۔ کوویڈ کے دور میں، جب بہت سے خاندان معاشی مشکلات سے گزر رہے تھے، انہوں نے ’’روٹی ہوم‘‘ کے نام سے ایک ٹرسٹ شروع کرنے کا اقدام کیا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد ضرورت مند افراد تک مفت روٹی اور کھانا پہنچانا بتایا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تفصیلات، مستفید ہونے والے افراد کی تعداد اور سرگرمیوں کے دوران سامنے آنے والی صورتِ حال کے بارے میں مزید معلومات اس سماجی خدمت کے اثرات کو زیادہ واضح انداز میں بیان کر سکتی ہیں۔
کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ فلاحی کاموں سے وابستگی کسی بھی شخصیت کے سفر کا ایک مختلف پہلو سامنے لاتی ہے۔ روٹی ہوم کا ذکر سجاد خان کی کہانی میں اس لیے اہم ہے کہ یہ ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے ساتھ معاشرتی ضرورت کے لیے کام کرنے کی کوشش کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
سٹوڈیو 9 سے EMH Entertainment Hub تک
اپنے تجربات کو ایک باقاعدہ کاروباری شناخت دینے کے لیے سجاد خان نے ’’اسٹوڈیو 9‘‘ کے نام سے ایک کمپنی قائم کی۔ ان کے پیشہ ورانہ سفر میں یہ قدم ذاتی کوششوں سے ایک منظم کاروباری ڈھانچے کی طرف پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔
2026 میں انہوں نے EMH Entertainment Hub کے نام سے ایک نیا پلیٹ فارم شروع کیا۔ ان کے مطابق، اس پلیٹ فارم کا ایک اہم مقصد پاکستانی نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
نئے ٹیلنٹ کو موقع فراہم کرنا انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے لیے اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ بہت سے باصلاحیت بچے اور نوجوان اپنی صلاحیتیں سامنے لانے کے لیے رہنمائی، مناسب پلیٹ فارم اور درست مواقع کے محتاج ہوتے ہیں۔
اگر EMH Entertainment Hub اپنے اس مقصد کو مؤثر انداز میں آگے بڑھاتا ہے تو یہ مستقبل میں نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
ایک سفر جو ابھی جاری ہے
2010 میں محدود وسائل کے ساتھ شروع ہونے والی جدوجہد سے لے کر آرٹسٹ مینجمنٹ، بڑے ایونٹس، اسٹوڈیو 9 اور EMH Entertainment Hub تک، سجاد خان کا سفر مختلف مراحل پر مشتمل ہے۔ اس میں موسیقی کا شوق، ایونٹس کے انتظام کا تجربہ، معروف فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کی کوششیں اور فلاحی سرگرمیوں سے وابستگی شامل ہیں۔
ان کی کہانی کا بنیادی سبق یہ ہے کہ انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں صرف شوق کافی نہیں ہوتا۔ مسلسل محنت، لوگوں کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت، انتظامی سمجھ بوجھ اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا بھی ضروری ہے۔
سجاد خان آج اپنے تجربے اور نئے پلیٹ فارم کے ذریعے انٹرٹینمنٹ کے شعبے میں مزید کام کرنے اور نئے ٹیلنٹ کے لیے حقیقی مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے سفر کا اگلا مرحلہ اس بات سے متعین ہوگا کہ وہ اپنے تجربات کو کس طرح مزید مؤثر ایونٹس، مضبوط کاروباری سرگرمیوں، سماجی خدمت اور نئے ٹیلنٹ کے لیے حقیقی مواقع میں تبدیل کرتے ہیں۔
سجاد خان کی کہانی ایک ایسے سفر کی کہانی ہے جس میں خواب دیکھنے سے زیادہ اہم ان خوابوں کے لیے مسلسل کام کرتے رہنا ہے۔ چاہے ابتدا میں راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔