حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد اور سعودی عرب: ٹرمپ کا بیان، ریاض کی ہچکچاہٹ اور تعلقات کی بحالی کا سوال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں ایک بار پھر سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کا موضوع چھیڑ دیا۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف اسرائیل کی پیشکش کردہ مدد قبول کر لینی چاہیے؟ ٹرمپ کا جواب مختصر مگر واضح تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی رائے میں ہاں، اور ان کا خیال ہے کہ سعودی عرب ایسا کرے گا بھی۔ ان کے بقول اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار رہا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ دوبارہ میز پر آ سکتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے، شاید پہلے سے بھی زیادہ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اسرائیل اور امریکا دونوں کی حمایت پا کر خوش ہے۔

اس بیان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ لفظوں پر غور کیا جائے۔ پاکستان کے کئی ابلاغی اداروں نے اسے اس انداز میں پیش کیا کہ جیسے سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ روابط مضبوط کر لیے ہیں یا معاہدے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں "شاید” اور "میرا خیال ہے” جیسے الفاظ استعمال کیے۔ انھوں نے کسی نئے معاہدے، کسی ملاقات یا مذاکرات کی بحالی کا اعلان نہیں کیا۔ سعودی حکومت کی جانب سے بھی، جہاں تک دستیاب رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے، اس بیان پر کوئی براہِ راست ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یعنی یہ ایک امریکی صدر کی رائے اور خواہش کا اظہار ہے، دونوں ملکوں کی طرف سے تصدیق شدہ پیش رفت نہیں۔ یہ فرق خبر کو پڑھتے وقت پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

اس بیان کا پس منظر وہ کشیدہ صورتِ حال ہے جو جولائی کے بعد یمن اور سعودی عرب کے درمیان پیدا ہوئی ہے۔ اپریل 2022 میں اقوامِ متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سعودی سرزمین پر حملے خاصے کم ہو گئے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق جولائی میں یہ سکون ٹوٹا اور حوثیوں کی کارروائیاں پھر بڑھ گئیں۔ ان حملوں میں بحیرۂ احمر میں ٹینکروں، تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ دس اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ اگلے روز اسی ہوائی اڈے پر ایک اور حملے میں ایک پاکستانی رہائشی کی جان گئی اور گیارہ افراد زخمی ہوئے، جیسا کہ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے بتایا۔ سعودی حکام نے اس بات کی تحقیقات شروع کی ہیں کہ فضائی دفاعی نظام ان میزائلوں اور ڈرونز کو کیوں نہ روک سکا۔ ابتدائی بیانات کے مطابق حوثیوں نے پہلے ڈرون بھیجے تاکہ دفاعی نظام مصروف ہو جائے اور اس کے بعد کروز اور بیلسٹک میزائل ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کر کے ریاض تک پہنچے۔

جمعرات کو عدن میں صدارتی محل پر حوثی میزائل حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت اور سولہ کے زخمی ہونے کی خبر آئی، جو وہاں کے وزیرِ صحت کے حوالے سے دی گئی۔ جمعے کو سعودی قیادت والے اتحاد نے ینبع کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل، دو کروز میزائلوں اور تین ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا۔ دوسری طرف حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ سعودی افواج نے چوبیس گھنٹوں میں سو سے زیادہ حملے کیے۔ یہ دونوں دعوے متحارب فریقوں کے ہیں اور ان کی آزاد تصدیق ہر جگہ ممکن نہیں، اس لیے انھیں دعوے ہی سمجھنا مناسب ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی پر بڑھتے ہوئے حملوں کی مذمت کی ہے۔

اسی دوران ایک اور رپورٹ نے سفارتی حلقوں میں ہلچل پیدا کی۔ تیرہ اکتوبر کو اسرائیلی میڈیا نے، جن میں ہاریٹز کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، لکھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثیوں کے خلاف فوجی مہم میں اسرائیل کی شمولیت کی پیشکش میں دلچسپی نہیں لی، حالانکہ امریکا نے ریاض کو راضی کرنے کی کوشش کی تھی۔ نامعلوم سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ولی عہد کو اندیشہ تھا کہ اسرائیل کے ساتھ کھلی فوجی ہم آہنگی سعودی عوام میں منفی ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔ ایک اور ذریعے کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو امید تھی کہ فوجی تعاون دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط کرے گا اور مستقبل میں معمول کے تعلقات کے کسی معاہدے کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ سب نامعلوم ذرائع پر مبنی دعوے ہیں۔ سعودی حکومت نے رپورٹ کی اشاعت کے وقت اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔

ٹرمپ کا جمعے والا بیان اسی رپورٹ کے تناظر میں آیا ہے، اور یہاں ایک دلچسپ تضاد نظر آتا ہے۔ اگر اسرائیلی رپورٹ درست ہے تو ریاض نے پیشکش میں دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ سعودی عرب اسرائیل کی مدد سے خوش ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل نے بھی لکھا کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ کا مطلب یہ تھا کہ اسرائیل نے حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کوئی مخصوص مدد کی ہے یا ان کا بیان عمومی نوعیت کا تھا۔ اسی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کو کسی فوجی مدد کی تصدیق بھی نہیں ہوئی۔ چنانچہ اس وقت تین چیزیں الگ الگ ہیں: اسرائیل کی مبینہ پیشکش، سعودی ولی عہد کی مبینہ بے رغبتی، اور ٹرمپ کی طرف سے اسے قبول کرنے کی ترغیب۔ ان میں سے کسی ایک کی بھی دونوں متعلقہ حکومتوں نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو اسرائیلی میڈیا کو انٹرویو میں جب پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب نے مدد مانگی ہے، تو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جو ہم سے مدد نہ مانگ رہا ہو۔ یہ جملہ نہ تصدیق ہے نہ تردید۔ اس میں ایک سفارتی ابہام ہے جو اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ وہ اپنے آپ کو خطے کی ایک ناگزیر سکیورٹی طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ ایران کی طرف سے اس معاملے میں الگ موقف آیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران حوثی کارروائیوں میں اپنے کسی کردار کے دعوے کو مسترد کرتا ہے، اور ثالثی کی پیشکش بھی کی۔ اس کے برعکس سعودی عہدے دار راید کریملی نے الزام لگایا کہ ایران حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور مدد فراہم کر رہا ہے، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ لڑائی کے آغاز میں حوثیوں نے عمان میں ملاقات کی پیشکش ٹھکرا دی تھی۔

سعودی-اسرائیل تعلقات کی تاریخ کو دیکھیں تو یہ معاملہ نیا نہیں ہے۔ سنہ 2020 میں ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران ابراہم معاہدے ہوئے، جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کو تسلیم کر کے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ سوڈان بھی اس عمل کا حصہ بنا۔ اس وقت یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اگلا بڑا قدم سعودی عرب کا ہوگا، کیونکہ وہ عرب اور اسلامی دنیا میں مذہبی اور سیاسی اعتبار سے سب سے زیادہ اثر رکھنے والے ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے پہلے امریکی ثالثی میں ریاض اور تل ابیب کے درمیان بات چیت خاصی آگے بڑھ چکی تھی۔ غزہ جنگ کے بعد سعودی رائے عامہ میں اسرائیل کے خلاف جذبات شدید ہو گئے اور مذاکرات عملاً رک گئے۔

سعودی عرب کا اعلانیہ موقف گزشتہ کئی برسوں سے ایک ہی رہا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر عہدے دار کہتے آئے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط ایک قابلِ اعتبار اور ناقابلِ واپسی راستہ ہے جو فلسطینی ریاست کے قیام تک جاتا ہو۔ گزشتہ نومبر میں ولی عہد نے واشنگٹن کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے کہا تھا کہ سعودی عرب ابراہم معاہدوں کا حصہ بننا چاہتا ہے، مگر دو ریاستی حل کی طرف واضح راستہ بھی چاہتا ہے۔ اسی سال مئی میں ایک سعودی ذریعے نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ فلسطینی مسئلے پر مملکت کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔ ان بیانات میں ایک نکتہ مشترک ہے: ریاض نے خواہش سے انکار نہیں کیا، لیکن شرط کو دہرایا۔

ٹرمپ اس معاملے کو مسلسل آگے بڑھاتے رہے ہیں۔ مئی میں انھوں نے مسلم اکثریتی ممالک سے کہا تھا کہ وہ ابراہم معاہدوں پر دستخط کریں، اور اس کا تعلق ایران کے ساتھ ممکنہ امن سمجھوتے سے جوڑا تھا۔ جولائی میں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان 30 سالہ جوہری تعاون کے معاہدے کے اعلان کے اگلے روز انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ معاہدہ منظور تو ہو جائے گا، مگر اس کا انحصار مکمل طور پر اس پر ہے کہ سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو۔ یہ بیان سعودی عرب پر دباؤ کے طور پر دیکھا گیا، کیونکہ جوہری تعاون ریاض کے لیے بڑی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم سعودی حکومت نے، جہاں تک رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے، اس شرط کو قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ سعودی سفارت خانے نے واشنگٹن میں اس پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا تھا۔

اگر ان بیانات کو ایک سلسلے میں رکھ کر دیکھا جائے تو ٹرمپ کا طرزِ عمل واضح ہوتا ہے۔ وہ ہر نئے علاقائی بحران کو ابراہم معاہدوں کی توسیع کا موقع سمجھتے ہیں۔ ایران کی جنگ ہو، جوہری معاہدہ ہو یا اب حوثیوں کے حملے، ہر موقع پر وہ سعودی عرب سے اسرائیل کے قریب آنے کی بات کرتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ مشترکہ خطرہ، یعنی ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہ، عرب ریاستوں اور اسرائیل کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے۔ یہی منطق 2020 کے معاہدوں کے پیچھے بھی تھی۔ لیکن سعودی عرب کے لیے معاملہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

پہلی پیچیدگی عوامی رائے کی ہے۔ سعودی عرب دو مقدس مقامات کا خادم ہے اور اس کی قیادت کی ساکھ کا ایک حصہ مسلم دنیا میں اس کے مذہبی مقام سے جڑا ہے۔ جب غزہ میں انسانی بحران کی تصویریں دنیا بھر میں گردش کر رہی ہوں تو اسرائیل کے ساتھ کھلی فوجی شراکت داری داخلی سطح پر بھاری سیاسی قیمت رکھ سکتی ہے۔ اسرائیلی رپورٹ میں ولی عہد کے جس خدشے کا ذکر ہے، وہ اسی پس منظر میں قابلِ فہم ہے، چاہے اس کی سرکاری تصدیق نہ ہوئی ہو۔ دوسری پیچیدگی فلسطین کا مسئلہ ہے۔ ریاض نے اپنی شرط مسلسل دہرائی ہے، اور اسرائیل کی موجودہ حکومت کا فلسطینی ریاست کے بارے میں رویہ اس شرط سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا۔ ٹائمز آف اسرائیل کی جمعہ کی لائیو رپورٹنگ میں اسرائیلی سفیر کے حوالے سے یہ بھی آیا کہ وزیرِ اعظم نے آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کا وعدہ کیا ہے، جو مغربی کنارے کی کشیدہ صورتِ حال کی طرف اشارہ ہے۔ ایسے ماحول میں سعودی عرب کے لیے کسی بھی تعلقاتی معاہدے کو اپنے عوام کے سامنے جواز دینا آسان نہیں ہوگا۔

تیسری پیچیدگی حوثیوں کے ساتھ تعلق کی نوعیت ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان برسوں کی جنگ کے بعد جو غیر رسمی سکون قائم ہوا تھا، وہ کئی لحاظ سے ریاض کے لیے قیمتی تھا۔ اس سکون کے دوران سعودی معیشت کے بڑے منصوبے، سیاحت اور سرمایہ کاری کے اہداف آگے بڑھ رہے تھے۔ اب اگر اسرائیل جیسے فریق کو براہِ راست جنگ میں شامل کیا جائے تو حوثیوں اور ان کے حامیوں کو یہ بیانیہ ملتا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک مسلم آبادی کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اس سے لڑائی کا دائرہ اور وسیع ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر سعودی عرب مدد لینا بھی چاہے تو شاید خفیہ سطح پر، مثلاً انٹیلی جنس یا فضائی دفاع کی ہم آہنگی تک، اور کھلے اعلان سے گریز کرے۔ یہ ایک تجزیاتی اندازہ ہے، کسی تصدیق شدہ اطلاع پر مبنی نہیں۔

چوتھی بات امریکا کے اپنے مفاد کی ہے۔ واشنگٹن اس وقت خلیج میں اپنے اتحادیوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا چاہتا ہے اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو قابو میں رکھنا چاہتا ہے۔ ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کے بعد امریکی سفارت خانے نے سعودی عرب میں ہوائی اڈوں اور فضائی حدود پر ممکنہ حملوں اور بندش کی سکیورٹی ایڈوائزری جاری کی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خطرہ محض بیان بازی تک محدود نہیں۔ ایسے میں ٹرمپ کے لیے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سکیورٹی ہم آہنگی ایک عملی ضرورت بھی ہے اور سیاسی کامیابی کا موقع بھی۔ وہ ابراہم معاہدوں کو اپنی بڑی کامیابیوں میں شمار کرتے ہیں، اور جمعے کو بھی انھوں نے یہی کہا۔

اب سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کے بیان سے عملی طور پر کیا بدلتا ہے۔ فوری طور پر شاید کچھ نہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے نہ کوئی نیا موقف آیا ہے، نہ کسی مذاکراتی دور کا اعلان ہوا ہے۔ تاہم بیان کی سیاسی اہمیت ضرور ہے۔ جب امریکی صدر عوامی طور پر کہتا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کی مدد قبول کرے، تو اس سے سعودی قیادت پر عوامی اور سفارتی دباؤ بڑھتا ہے، چاہے وہ اسے قبول کرے یا نہ کرے۔ اگر ریاض خاموش رہتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ بات چیت پسِ پردہ جاری ہے۔ اگر وہ تردید کرتا ہے تو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں ایک ناخوشگوار لمحہ آ سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں سعودی حکام کو محتاط حکمتِ عملی اپنانی پڑے گی۔

پاکستان کے نقطۂ نظر سے بھی یہ پیش رفت اہم ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست اور اہم معاشی شراکت دار ہے، لاکھوں پاکستانی وہاں کام کرتے ہیں، اور ریاض ایئرپورٹ کے حملے میں ایک پاکستانی کی ہلاکت اس تعلق کی انسانی قیمت کو سامنے لاتی ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھے تو اس کا اثر تیل کی قیمتوں، ترسیلاتِ زر اور افرادی قوت کی سلامتی پر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کی سرکاری پالیسی اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے اور فلسطینی ریاست کی حمایت پر قائم رہی ہے۔ اگر سعودی عرب اپنی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی کرتا ہے تو اس کے اثرات اسلام آباد کی خارجہ پالیسی پر بحث کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں، مگر اس وقت ایسی کسی تبدیلی کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

مبصرین کا ایک حلقہ اس بیان کو ٹرمپ کی روایتی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتا ہے۔ ان کے خیال میں وہ پہلے عوامی سطح پر ایک نتیجے کا اعلان یا اشارہ کرتے ہیں تاکہ فریقین پر دباؤ بنے، پھر مذاکرات اس دباؤ کے سائے میں آگے بڑھتے ہیں۔ دوسرا حلقہ کہتا ہے کہ ایسے بیانات اکثر حقیقت سے آگے ہوتے ہیں اور بعد میں ان کی وضاحت یا اصلاح کرنی پڑتی ہے۔ دونوں آرا میں وزن ہے۔ ماضی کے تجربات میں دونوں طرح کی مثالیں ملتی ہیں۔ بعض اعلانات بعد میں معاہدوں میں ڈھلے، اور بعض محض بیان ہی رہے۔ سعودی معاملے میں اب تک وہ بیانات معاہدے میں نہیں ڈھلے جو ٹرمپ کئی بار دے چکے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بیک چینل رابطوں اور عوامی بیانات میں فرق ہوتا ہے۔ سعودی اور اسرائیلی حکام کے درمیان رابطے ماضی میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں، خصوصاً سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے میدان میں، مگر ان کی سرکاری تصدیق شاذ ہی ہوئی۔ اس لیے اگر کوئی غیر اعلانیہ تعاون موجود بھی ہو تو اسے سفارتی تعلقات کی بحالی کے ہم معنی نہیں سمجھنا چاہیے۔ سفارتی تعلقات کا مطلب سفارت خانوں کا قیام، باضابطہ تسلیم اور عوامی سطح پر اعلان ہے، جو ایک بالکل مختلف قدم ہے۔

آخر میں، خبر کے پڑھنے والے کے لیے اصل نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں امید اور رائے کا اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب پر حوثی حملے حقیقی اور سنگین ہیں، اسرائیلی میڈیا میں اس بارے میں رپورٹس بھی آئی ہیں کہ ولی عہد نے پیشکش میں دلچسپی نہیں لی، اور ریاض کی بنیادی شرط، یعنی فلسطینی ریاست کی طرف ناقابلِ واپسی راستہ، اب تک برقرار ہے۔ ان حقائق کے مقابل ٹرمپ کا "شاید پہلے سے زیادہ” والا بیان ایک امکان ہے، حقیقت نہیں۔ آنے والے دنوں میں دیکھنے کی چیزیں یہ ہیں: کیا سعودی حکومت ٹرمپ کے بیان پر کوئی وضاحت دیتی ہے، کیا حوثیوں کے حملوں کی نوعیت اور شدت بدلتی ہے، کیا ایران کی ثالثی کی پیشکش کسی راستے میں تبدیل ہوتی ہے، اور کیا واشنگٹن جوہری معاہدے کو ابراہم معاہدوں سے جوڑنے کے موقف پر قائم رہتا ہے۔ جب تک ان سوالوں کے جواب سامنے نہیں آتے، سعودی-اسرائیل تعلقات کی بحالی کو ایک خواہش، ایک دباؤ اور ایک امکان کے طور پر ہی دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔