حرا مانی کا نیا انداز اور سوشل میڈیا کی بحث: لباس، ہیئر اسٹائل اور تنقید کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟

پاکستانی ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ حرا مانی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گئی ہیں۔ اس بار وجہ کوئی ڈراما، بیان یا تنازع نہیں بلکہ ٹورنٹو میں ایک تقریب کے دوران ان کا بدلا ہوا انداز ہے۔ اداکارہ ان دنوں کینیڈا میں ہیں جہاں وہ پرستاروں سے ملاقات کے پروگراموں اور مختلف تقریبات میں شریک ہو رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹورنٹو میں ایک فوڈ شاپ کی افتتاحی تقریب میں وہ سیاہ رنگ کے لمبے، بغیر آستین والے لباس میں آئیں اور انہوں نے اپنے لمبے بال کٹوا کر چھوٹا بوب ہیئر اسٹائل اپنایا۔ ان کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آتے ہی صارفین کی رائے دو حصوں میں بٹ گئی: کچھ نے ان کے انداز کو پسند کیا، اور کئی نے لباس اور بالوں پر سخت تنقید کر دی۔ یہ خبر ایک معمولی فیشن بحث لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے وہ بڑا سوال چھپا ہے کہ مشہور خواتین کی ذاتی پسند پر عوامی رائے کہاں تک جائز ہے اور تنقید کہاں سے ہراسانی کی طرف چلی جاتی ہے۔

سب سے پہلے حقائق دیکھ لیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق حرا مانی کینیڈا میں ’’میٹ اینڈ گریٹ‘‘ پروگراموں کے لیے موجود ہیں، یعنی وہ بیرونِ ملک مقیم اپنے مداحوں سے براہِ راست ملاقات کر رہی ہیں۔ ٹورنٹو کی جس تقریب کا ذکر ہے، وہ ایک فوڈ شاپ کی افتتاحی تقریب تھی جس میں انہیں مدعو کیا گیا۔ اداکارہ نے بغیر آستین والا سیاہ لباس پہنا جس کا گلا گہرا تھا، اور بال چھوٹے کٹوا رکھے تھے۔ ان کے بارے میں تبصروں کی فہرست خاصی لمبی ہے: کسی نے لباس کو نامناسب قرار دیا، کسی نے کہا کہ انہیں اپنے پرانے لمبے بال زیادہ اچھے لگتے تھے، کچھ لوگوں نے ان کی اداکاری پر سوال اٹھائے، اور بعض نے یہ بھی پوچھا کہ چھوٹے کاروباری ادارے انہیں تقریبات میں کیوں بلاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بعض صارفین نے ان کے انداز کا موازنہ اداکارہ ہانیہ عامر سے بھی کیا اور کہا کہ وہ ان کی نقل کر رہی ہیں، اگرچہ ان تبصروں میں یہ واضح نہیں تھا کہ کون سی مشابہت مراد ہے۔ اس سارے معاملے پر حرا مانی کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اداکارہ کے کیریئر کی بات کریں تو وہ پاکستانی ڈراما انڈسٹری میں ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد 80 لاکھ سے زیادہ تھی، اور وہ مقبول ڈراما سیریلز کے ذریعے شہرت پا چکی ہیں۔ ان دنوں وہ جیو ٹی وی کے ڈرامے ’’خفا‘‘ میں میکال ذوالفقار کے ساتھ نظر آ رہی ہیں، جبکہ اس سے پہلے ایک اور ڈرامے ’’ڈائن‘‘ میں ان کے کام کی ناظرین نے تعریف کی تھی۔ ان کی ذاتی مقبولیت اور مداحوں کی تعداد اس لیے بھی اہم ہے کہ جب کوئی اتنا بڑا فالوور بیس رکھنے والی شخصیت کوئی نیا انداز اپناتی ہے تو اس پر رائے بھی تیزی سے اور شدت کے ساتھ آتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ حرا مانی کے لباس پر آن لائن تنقید ہوئی ہو۔ گزشتہ سال بھی ایک ساڑھی میں بغیر آستین کی بلاؤز پہننے پر انہیں سوشل میڈیا پر سخت باتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اس موقع پر بھی ان کی طرف سے کوئی ردعمل رپورٹ نہیں ہوا۔ اس سے پہلے ایک پوڈکاسٹ میں ان کی ایک بات وائرل ہوئی تھی جسے ناقدین نے غیر محتاط کہا تھا۔ ان واقعات سے ایک نمونہ سامنے آتا ہے: جب بھی کوئی نمایاں اداکارہ کوئی ایسا لباس یا انداز اپناتی ہے جو بعض ناظرین کے نزدیک روایتی حدود سے ہٹ کر ہو تو تبصروں کا طوفان آ جاتا ہے، اور اکثر یہ تبصرے لباس سے نکل کر اس کی اداکاری، کردار، حتیٰ کہ دماغی صحت تک پہنچ جاتے ہیں۔

اس بحث میں دو نقطۂ نظر ہیں اور دونوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اپنی ثقافتی اور مذہبی اقدار رکھتا ہے اور عوامی شخصیات، جن کا اثر نوجوانوں پر پڑتا ہے، سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ ان اقدار کا لحاظ رکھیں۔ ان کے نزدیک ایک اداکارہ کا لباس صرف ذاتی معاملہ نہیں رہتا، کیونکہ وہ ایک عوامی چہرہ ہے اور اس کے انداز کی نقل کی جاتی ہے۔ دوسری طرف دوسرا گروہ دلیل دیتا ہے کہ ایک بالغ خاتون کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کا لباس پہنے، خاص طور پر جب وہ ایک نجی تقریب یا بیرونِ ملک کسی ایسے ماحول میں ہو جہاں مقامی لباس کے معیارات مختلف ہوں۔ ان کے مطابق کسی کے لباس پر رائے دینا اور اسے ذلیل کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں رویوں کے درمیان ایک درمیانی راستہ بھی ہے، یعنی رائے رکھنا اور احترام کے ساتھ اس کا اظہار کرنا۔

یہاں ایک اور نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ ہیئر اسٹائل جیسے معاملات کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا اس بحث کی نوعیت بتاتا ہے۔ بالوں کا کٹ کرنا یا رنگ بدلنا کسی کا اپنا فیشن فیصلہ ہوتا ہے، جس کا کسی اخلاقی یا سماجی اصول سے تعلق نہیں۔ جب لوگ کسی کے بالوں پر اس شدت سے رائے دیتے ہیں تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ تنقید اکثر کسی اصول کے بجائے ذاتی ناپسندیدگی اور موازنے کے کلچر سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک اداکارہ کا دوسری اداکارہ سے موازنہ، جیسا کہ ہانیہ عامر کے ساتھ کیا گیا، اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ خواتین فنکاروں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا جاتا ہے۔ اس سے نہ کوئی تعمیری گفتگو بنتی ہے اور نہ ہی کسی فنکار کے کام کی قدر ہوتی ہے۔

ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس طرح کی خبریں خود میڈیا بھی تیار کرتا ہے اور ان کی زبان بحث کی سمت متعین کرتی ہے۔ جب کسی خبر کی سرخی میں ’’بولڈ انداز‘‘، ’’تنقید کی زد‘‘ اور ’’صارفین برہم‘‘ جیسے الفاظ ہوں تو یہ ایک خاص تاثر پیدا کرتے ہیں، حالانکہ اسی خبر کے متن میں بتایا گیا ہوتا ہے کہ ردعمل ملا جلا رہا اور کچھ مداحوں نے اداکارہ کی حمایت بھی کی۔ ایک رپورٹ میں واضح لکھا ہے کہ اداکارہ کے کام کو پسند کرنے والے بھی موجود ہیں اور بعض صارفین نے صرف لباس پر اعتراض کیا۔ ایسے میں ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ ایک یا دو تبصروں کو پوری رائے عامہ بنا کر پیش نہ کیا جائے، اور ’’برہم‘‘ جیسے الفاظ سے اجتناب کیا جائے جب تک تنقید کی مقدار اور نوعیت کا درست اندازہ نہ ہو۔

سوشل میڈیا کی معیشت بھی اس رجحان کو ہوا دیتی ہے۔ پلیٹ فارمز ان پوسٹس کو زیادہ پھیلاتے ہیں جن پر زیادہ ردعمل آئے، چاہے وہ تعریف ہو یا تنقید۔ ایک متنازع تصویر پر جتنے تبصرے آتے ہیں، اتنی ہی اس کی رسائی بڑھتی ہے۔ اس کا فائدہ بعض اوقات خود مشہور شخصیات اور ان کے برانڈز کو بھی ہوتا ہے، اور نقصان ان لوگوں کو جو ان تبصروں کا براہِ راست نشانہ بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آن لائن بحث کئی بار اصولی مکالمے کے بجائے ردعمل کی دوڑ بن جاتی ہے۔

تنقید اور ہراسانی کے درمیان فرق سمجھنا اس سارے معاملے کی کنجی ہے۔ اگر کوئی صارف کہتا ہے کہ مجھے یہ لباس پسند نہیں آیا یا میرے خیال میں اس موقع کے لیے یہ مناسب نہیں تھا، تو یہ ایک رائے ہے۔ لیکن جب تبصرے ذاتی توہین، کردار کشی، ذہنی حالت پر طنز، یا دھمکیوں کی صورت اختیار کر لیں تو یہ آن لائن ہراسانی کے دائرے میں آ جاتے ہیں۔ پاکستانی ستاروں نے خود اس فرق کی نشاندہی کی ہے۔ اداکارہ مہوش حیات نے ایک موقع پر کہا تھا کہ سائبر بُلنگ محض تنقید نہیں بلکہ ہدفی ہراسانی اور دھمکیوں تک جاتی ہے، اور انہوں نے مشورہ دیا کہ بلاک اور رپورٹ کے اختیارات استعمال کیے جائیں، توہین آمیز پیغامات کا ریکارڈ رکھا جائے اور ضرورت ہو تو متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے۔ اسی طرح اداکارہ ہیرا تارین نے جعلی پروفائلز، من گھڑت پوسٹس اور مصنوعی ذہانت سے خواتین کی تصاویر کو مسخ کرنے کے بڑھتے رجحان پر تشویش ظاہر کی اور سوشل میڈیا کمپنیوں سے تیز تر کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ذہنی صحت کا پہلو بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ اداکارہ نمرہ خان نے دسمبر 2024ء میں ایک ٹی وی پروگرام میں بتایا تھا کہ آن لائن ٹرولنگ نے ان کی ذہنی صحت پر اثر ڈالا ہے اور بعض اوقات وہ رات کو سو نہیں پاتیں۔ ان کے مطابق لوگ سمجھتے ہیں کہ مشہور لوگوں پر تنقید کا اثر نہیں ہوتا، لیکن ایسا نہیں، اور اسی وجہ سے وہ تبصرے پڑھنے سے گریز کرتی ہیں۔ ایک رپورٹ میں جن تحقیقی نتائج کا حوالہ دیا گیا، ان کے مطابق سائبر بُلنگ کا شکار افراد میں کم خود اعتمادی، منفی خود تصویر اور ڈپریشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایک سروے میں، جو 2021ء میں پاکستان کے 328 طلبہ پر کیا گیا، تقریباً 90 فیصد نے خود کو آن لائن بُلنگ کا شکار قرار دیا۔ یہ اعداد و شمار ایک مخصوص تحقیق اور نمونے پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں پورے ملک کی تصویر سمجھنا درست نہیں، مگر یہ رجحان کی سنگینی کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں۔

قانونی اعتبار سے پاکستان میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون، یعنی پیکا 2016ء، موجود ہے۔ اس کی دفعہ 20 جھوٹی یا ڈرانے والی معلومات کے ذریعے کسی کی عزت یا ساکھ کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے، جس میں تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا کا ذکر ہے، جبکہ دفعہ 24 سائبر اسٹاکنگ اور آن لائن ہراسانی سے متعلق ہے۔ تاہم اس قانون کے نفاذ اور استعمال پر بحث بھی موجود ہے۔ ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کا استعمال بعض اوقات صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے بھی کیا گیا ہے، اور ایک سروے کے مطابق بہت سی خواتین کو سائبر قوانین کا علم ہی نہیں۔ اس لیے قانون کا سہارا لینا ایک آخری راستہ ہونا چاہیے، اور بنیادی حل معاشرتی رویوں اور پلیٹ فارمز کی ذمہ داری میں بہتری ہے۔

حرا مانی کے لیے سوال یہ بھی ہے کہ انہیں اس پر ردعمل دینا چاہیے یا نہیں۔ فنکاروں کی اکثریت اس قسم کی تنقید پر خاموشی کو ترجیح دیتی ہے، کیونکہ جواب دینے سے بحث مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر وہ خاموش رہتی ہیں تو یہ ان کا حق ہے، اور اگر وہ جواب دیتی ہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ بات شائستہ ہو۔ ہر عوامی شخصیت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے طے کرے کہ وہ تنقید کا کتنا جواب دے۔ اب تک ان کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا، اس لیے قیاس کرنا مناسب نہیں کہ وہ کیا سوچ رہی ہیں یا کیا کرنے والی ہیں۔

مداحوں اور عام صارفین کے لیے اس واقعے میں ایک عملی سبق ہے۔ کسی کے لباس یا انداز پر رائے دینے سے پہلے یہ سوچنا مفید ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے: کیا یہ کوئی اصولی بات ہے یا صرف دوسروں کے سامنے اپنی ناپسندیدگی کا مظاہرہ؟ اگر کوئی بات واقعی اہم لگے تو اسے احترام کے ساتھ کہا جا سکتا ہے، اور اگر کوئی چیز پسند نہ آئے تو اسے نظرانداز کرنا بھی ایک آپشن ہے۔ ہر کمنٹ لکھنا ضروری نہیں، اور ہر وائرل پوسٹ پر پوری قوم کی رائے طلب نہیں کی جاتی۔ اسی طرح ایسی خبریں آگے بھیجتے وقت صرف سنسنی خیز الفاظ دہرانے کے بجائے اصل مواد دیکھنا بہتر ہے۔

یہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بیرونِ ملک کی تقریبات میں پاکستانی اداکاروں کی موجودگی ایک بڑی انڈسٹری بن چکی ہے۔ ڈراما سیریلز کی مقبولیت کی وجہ سے پاکستانی فنکاروں کو کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور خلیجی ممالک میں مداحوں سے ملاقات اور افتتاحی تقریبات کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی تقریبات میں فنکار مقامی ثقافت اور ماحول کے مطابق لباس منتخب کرتے ہیں، اور ان پروگراموں کی کامیابی اس بات پر بھی منحصر ہوتی ہے کہ آیا مقامی مداح ان کی شرکت سے خوش ہیں۔ ٹورنٹو جیسے کثیر الثقافتی شہر میں، جہاں مختلف پس منظر کے پاکستانی آباد ہیں، ایک ہی تقریب کو مختلف نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے آن لائن ردعمل میں بھی اتنے مختلف زاویے سامنے آئے ہیں۔

اس معاملے کا ایک اور پہلو صنفی امتیاز کا ہے۔ عام مشاہدہ یہ ہے کہ خواتین فنکاروں کے لباس، وزن، رنگت اور بالوں پر جتنا تبصرہ ہوتا ہے، مرد فنکاروں کے بارے میں اتنا نہیں ہوتا۔ ایک مرد اداکار اپنا انداز بدلے تو اسے عموماً نیا تجربہ کہا جاتا ہے، جبکہ خاتون اداکارہ کے اسی عمل کو اکثر اخلاقیات کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ یہ بات کسی ایک اداکارہ تک محدود نہیں، بلکہ دنیا بھر کی شوبز انڈسٹری میں خواتین اسی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے واقعات بار بار سامنے آتے ہیں، اور ہر بار بحث کا محور فنکارہ کا کام کم اور اس کی شکل و صورت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک صحت مند معاشرے میں سوال یہ ہونا چاہیے کہ فنکار کی کارکردگی کیسی ہے، نہ کہ اس نے کیا پہنا ہے۔

شوبز کی دنیا میں ظاہری انداز بدلنا ایک معمول کی بات بھی ہے۔ ہیئر اسٹائل کی تبدیلی اکثر کسی نئے کردار، نئے پروجیکٹ یا نئی برانڈ مہم کی تیاری کا حصہ ہوتی ہے، اور بعض اوقات محض ذاتی تازگی کے لیے بھی کی جاتی ہے۔ حرا مانی کے معاملے میں یہ واضح نہیں کہ بال کٹوانے کی وجہ کیا ہے، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ اس کا کسی آنے والے کردار سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ اس لیے قیاس آرائی کے بجائے اداکارہ کے اپنے بیان کا انتظار کرنا بہتر ہے۔ اگر وہ مستقبل میں اس کی وضاحت کرنا چاہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ زیادہ تر پلیٹ فارمز نے توہین آمیز مواد کی رپورٹنگ کے نظام بنا رکھے ہیں، لیکن ان کی رفتار اور مؤثر ہونا اکثر سوالات کی زد میں رہتا ہے۔ مشہور شخصیات اپنے اکاؤنٹس پر تبصروں کو محدود کرنے، الفاظ فلٹر کرنے اور ہراساں کرنے والے صارفین کو بلاک کرنے کی سہولتیں استعمال کر سکتی ہیں، لیکن عام صارفین کے لیے بھی ایسے اختیارات اتنے ہی اہم ہیں۔ جب پلیٹ فارمز ایسے مواد کو بروقت ہٹائیں جو واضح طور پر ہراسانی کے زمرے میں آتا ہو تو نہ صرف متاثرہ فرد کو تحفظ ملتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک پیغام جاتا ہے کہ ہر چیز کہہ دینے کی آزادی نہیں۔

مداحوں کے کردار کی بات کی جائے تو وہ اس بحث کو بدل سکتے ہیں۔ جو لوگ کسی فنکار کو پسند کرتے ہیں وہ اگر تنقیدی تبصروں کے جواب میں شائستگی سے اپنی رائے دیں اور توہین آمیز زبان کا ساتھ نہ دیں تو آن لائن ماحول بہتر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر صارفین ایسی پوسٹس کو آگے پھیلانے سے گریز کریں جن کا مقصد صرف کسی کو نیچا دکھانا ہو، تو ان کی رسائی کم ہوگی۔ یہ ایک چھوٹا قدم لگتا ہے، مگر جب لاکھوں لوگ مل کر اپناتے ہیں تو ماحول میں فرق نظر آنے لگتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ حرا مانی کا نیا ہیئر اسٹائل اور لباس ایک ایسی خبر ہے جو دراصل ایک وسیع تر مسئلے کی علامت ہے۔ پسند اور ناپسند ہر شخص کا حق ہے، لیکن اس کا اظہار مہذب انداز میں ہونا چاہیے۔ مشہور خواتین کے لباس اور شکل و صورت کو مسلسل جانچنا، ان کا دوسری اداکاراؤں سے موازنہ کرنا اور ان کی ذاتی زندگی پر فیصلے صادر کرنا ایک ایسا رویہ ہے جو خود ہمارے معاشرے کی ایک تصویر پیش کرتا ہے۔ جب تک اداکارہ نے خود کوئی بیان نہیں دیا، بہتر یہی ہے کہ ان کی ذاتی پسند کو ان کا ذاتی معاملہ سمجھا جائے، اور ان کے کام کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ مباحثہ جاری رہے گا، مگر اس کی بنیاد احترام اور ذمہ داری ہونی چاہیے، ورنہ ہر نئی تصویر ایک نیا تنازع اور ہر نیا تنازع کسی کے لیے ایک نیا زخم بنتا رہے گا۔