گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی‘‘: سہیل آفریدی نے لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے لکی مروت کے گنڈی چوک سے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبہ نہ گورنر راج قبول کرے گا اور نہ ہی ایمرجنسی کے نفاذ کو تسلیم کرے گا، کیونکہ خیبر پختونخوا میں حکومت صرف اور صرف عمران خان کی ہے۔

’’یہاں عمران خان کا وژن اور پالیسی ہی چلے گی‘‘

گنڈی چوک لکی مروت میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی قوت اور سیاسی جماعت ہے، اور کل اسلام آباد جانے والی مذاکراتی کمیٹی دراصل سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بند کمروں میں فیصلے کرنے والا ایک مائنڈ سیٹ‘‘ ایک اور فیصلہ عوام پر مسلط کرنے جا رہا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہاں عمران خان کی حکومت ہے اور یہاں عمران خان کا وژن اور پالیسی ہی چلے گی، اور کوئی ایسی پالیسی تسلیم نہیں کی جائے گی جس میں پشتونوں کا نقصان ہو۔ ’’خیبر پختونخوا میں راج صرف عمران خان کا ہوگا، ہم جی جناب والے نہیں ہیں، نہ گورنر راج مانتے ہیں اور نہ ایمرجنسی،‘‘ انہوں نے کہا۔

’’یہاں کوئی آپریشن نہیں ہوگا، ہم باغی تھے اور باغی ہی ہیں‘‘

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے میں کسی قسم کا فوجی آپریشن نہیں ہونے دیا جائے گا، اور وہ پہلے بھی باغی تھے اور آج بھی باغی ہیں۔ ان کے الفاظ میں وفاقی حکومت نے گزشتہ 22 برسوں سے خیبر پختونخوا کو ایک ’’لیبارٹری‘‘ بنا رکھا ہے اور صوبے پر زبردستی آپریشن مسلط کیا گیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا چکی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پارٹی اس ’’آگ‘‘ کو بجھائے گی جو دوسروں نے لگائی ہے۔

’’79 سال سے مسلط مائنڈ سیٹ‘‘ پر کڑی تنقید

سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ 79 سال سے قوم پر مسلط ایک مخصوص سوچ کل ایک بار پھر فوجی آپریشنز کی پالیسی صوبے پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کو ایک مکمل اور کھلی پالیسی پیش کر رکھی ہے، جس پر عملدرآمد سے محض 100 دنوں میں صوبے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے امن کی حقیقی نیت درکار ہے، جبکہ ان کے بقول وفاقی حکومت کی نیت امن نہیں بلکہ پاکستان تحریکِ انصاف کو ختم کرنا ہے، ’’مگر یہ کام ان کا باپ بھی نہیں کر سکتا۔‘‘

لانگ مارچ کا مکمل شیڈول

وزیراعلیٰ کے مطابق مارچ کے پہلے مرحلے میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے آنے والے قافلے گنڈی چوک پر اکٹھے ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر کے روز کرک کے رہائشی مارچ میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ ساڑھے بارہ بجے روانہ ہو کر رات کوہاٹ کے قریب قیام کرے گا۔ سہیل آفریدی نے بتایا کہ وہ 8 اکتوبر کو قافلے کے خیرآباد پہنچنے پر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت پارٹی کے مطالبات پر تحریری یقین دہانی فراہم کرے، تو جاری لانگ مارچ واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔

مذاکرات کی ناکامی اور حکومتی ردعمل

یہ لانگ مارچ ایسے وقت شروع ہوا جب وفاقی حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان طویل مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر تعطل کا شکار ہو گئے۔ پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پارٹی کا لانگ مارچ بدستور ’’برقرار‘‘ ہے اور جاری رہے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ احتجاج کا حل نہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اگر صدر اور وزیراعظم فیصلہ کریں تو گورنر ہاؤس آئینی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ حکومتی رہنماؤں نے مارچ کے دوران سرکاری وسائل اور ہیلی کاپٹرز کے مبینہ استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی، جسے انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ماضی کے واقعات کا اعادہ نہ کرنے کا عزم

وزیراعلیٰ نے ہفتے کے روز اپنے پہلے بیان میں یہ بھی عہد کیا تھا کہ مارچ کے دوران 9 مئی 2023ء جیسے واقعات کا اعادہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف ملک کی سب سے بڑی اور مقبول ترین سیاسی جماعت ہے، اور آئینِ پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج کا بنیادی حق دیتا ہے، جس کا استعمال اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آئین، قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ کی بحالی نہیں ہو جاتی۔