تحریکِ انصاف کا لکی مروت سے صوابی تک لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج سے شروع

پاکستان تحریکِ انصاف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد اپنے اعلان کردہ لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جو لکی مروت سے شروع ہو کر صوابی کی جانب روانہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مطابق مارچ کا پہلا مرحلہ آج 4 اکتوبر کو سہ پہر ایک بجے لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوگا، جہاں مختلف اضلاع سے آنے والے قافلے آپس میں شامل ہوں گے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لکی مروت روانہ ہو چکے ہیں، جہاں سے وہ خود مارچ کی قیادت کریں گے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ایک بڑا قافلہ بھی لکی مروت کے لیے روانہ ہوا، جس کے لیے الامین ہاؤس کے باہر درجنوں گاڑیاں جمع ہوئیں۔ علی امین گنڈاپور کے ترجمان فراز احمد مغل کے مطابق مارچ میں شرکت کے لیے ہزاروں کارکنان قافلے کا حصہ بن رہے ہیں، جن میں فیصل امین گنڈاپور، عمر امین گنڈاپور اور دیگر پارٹی عہدیداران بھی شامل ہیں۔

سہیل آفریدی کے مطابق پہلے مرحلے میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے آنے والے قافلے گنڈی چوک پر اکٹھے ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیر 5 اکتوبر کو کرک کے رہائشی دوپہر کے وقت مارچ میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ ساڑھے بارہ بجے روانہ ہو کر رات کوہاٹ کے قریب قیام کرے گا۔ اگلے مراحل کا اعلان خیرآباد کے مقام پر کیا جائے گا، جہاں 8 اکتوبر کو مختلف قافلے یکجا ہو کر آگے کی حکمتِ عملی طے کریں گے۔ خیرآباد دریائے سندھ کے کنارے صوابی و اٹک کی سرحد پر واقع ہے، یہی وجہ ہے کہ مارچ کے پہلے مرحلے کی منزل صوابی بتائی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس سے قبل پشاور میں ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ مارچ ہر صورت میں 4 اکتوبر کو ہی شروع ہوگا اور پارٹی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام مطالبات تسلیم کیے جانے کی صورت میں معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مارچ میں شریک کارکنان غیر مسلح اور خالی ہاتھ ہوں گے، اور اگر کسی کے پاس ممنوعہ یا امن و امان کے لیے خطرہ بننے والی کوئی چیز پائی گئی تو اسے پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

یہ لانگ مارچ ایسے وقت میں شروع ہوا جب وفاقی حکومت اور مشترکہ اپوزیشن کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق زیرِ حراست بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی، ان کے علاج کے معاملات اور کے پی کے حساس علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں جیسے اہم نکات پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سمیت حکومتی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ لانگ مارچ کو کسی صورت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ فی الحال پارٹی کی جانب سے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی سے متعلق کوئی باضابطہ منصوبہ سامنے نہیں لایا گیا، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خیرآباد میں 8 اکتوبر کے اجتماع کے بعد ہی مارچ کے اگلے مرحلے اور اس کے حتمی رخ کا تعین ہو سکے گا۔

سہیل آفریدی کا مؤقف ہے کہ یہ تحریک اب صرف کے پی میں پی ٹی آئی تک محدود نہیں رہی، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اسی مؤقف کے حامی ہیں، جس کے شواہد کے طور پر انہوں نے صوبائی اسمبلی جرگے میں جمع کیے گئے دستخطوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کے پی میں گورنر راج کے امکان سے متعلق سوال پر کہا کہ پارٹی قیادت سے پسِ پردہ رابطے ہو سکتے ہیں، تاہم وہ پارٹی پالیسی کے مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔