شہریوں کا متعلقہ حکام سے نوٹس لینے اور شفاف انکوائری کا مطالبہ
(ANHNEWS KE JANIB CY)لاہور کے صوبائی حلقہ پی پی 165 میں جاری سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ طور پر ناقص میٹریل کے استعمال اور مقامی ٹھیکیداروں کو بلیک میل کرکے مبینہ طور پر بھتہ وصول کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس سے سرکاری فنڈز کے ضیاع اور منصوبوں کے معیار پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں مقامی ٹھیکیداروں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق حلقہ پی پی 165 میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع ہوتے ہی کچھ مقامی سیاسی عناصر متحرک ہو جاتے ہیں جو ٹھیکیداروں پر غیر قانونی دباؤ ڈالتے ہیں ٹھیکیداروں نے روزنامہ مشرق کو بتایا ہے کہ مذکورہ افراد رکنِ قومی اسمبلی ملک افضل کھوکھر کے نام کا استعمال کرتے ہوئے انہیں کام بند کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں شکایات میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک مخصوص ہتھکنڈے کے تحت پہلے خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے اور بعد ازاں معمولی یا بھاری رقوم کی وصولی کرکے خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے ٹھیکیداروں نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ٹھیکیدار کو پہلے ہی بھاری مالی نقصانات یا بھتے کی ادائیگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو نتیجتاً سرکاری منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے اس صورتحال سے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور شہریوں نے اسے عوامی ٹیکس کے پیسوں کا صریح ضیاع قرار دیا ہے مقامی سماجی و عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں ہونے والی مبینہ بلیک میلنگ اور سیاسی مداخلت کی فوری طور پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائی جائیں عوام کا کہنا ہے کہ جو عناصر عوامی نمائندگان کے نام کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں ان کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی کوالٹی مانیٹرنگ کو شفاف بنایا جا سکے واضح رہے کہ مذکورہ سیاسی شخصیات یا متعلقہ انتظامیہ کا باضابطہ موقف سامنے آنے تک ان الزامات کی حیثیت مبینہ ہی رہے گی تاہم عوامی مفاد میں شہریوں نے اس معاملے پر حکامِ بالا کی فوری توجہ کی اپیل کی ہے۔