غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی فون 18 سیریز کو متعارف کرانے میں ابھی تقریباً تین ماہ باقی ہیں، جبکہ ٹم کک ستمبر میں اپنے عہدے سے الگ ہونے والے ہیں۔ اپنے دورِ قیادت کے اختتام سے قبل انہوں نے خبردار کیا ہے کہ الیکٹرانک پرزہ جات، بالخصوص میموری چپس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث نئی مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹم کک کا کہنا تھا کہ ایپل اب تک پرزہ جات کی بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ صارفین تک منتقل کرنے سے گریز کرتا رہا ہے اور کمپنی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ صارفین کو قیمتوں کے اضافے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم ان کے بقول مارکیٹ کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اب قیمتوں میں اضافہ تقریباً ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ ٹم کک نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا یا اس کی شرح کیا ہو سکتی ہے، لیکن ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سب سے زیادہ اثر آئی فون 18 سیریز پر پڑ سکتا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق نئے ماڈلز کی قیمتیں آئی فون 17 سیریز کے مقابلے میں 200 ڈالر تک زیادہ ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایپل دنیا میں میموری چپس خریدنے والی بڑی کمپنیوں میں شامل ہے، لیکن مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت نے بھی ان چپس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ اسی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث سپلائی پر دباؤ اور قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔