ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان میں 16 نئے صوبوں کی حمایت کر دی: اصل تحریر میں کیا لکھا ہے؟

ہوئی۔ اگلے ہی دن کئی اخبارات اور ویب سائٹس نے سرخی لگائی کہ ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان میں 16 نئے صوبوں کی حمایت کر دی ہے۔

مگر اصل تحریر پڑھیں تو تصویر کچھ مختلف ہے۔ یہ فورم کا کوئی سرکاری فیصلہ نہیں۔ یہ ایک مضمون نگار کی رائے ہے، اور اس پر صاف لکھا ہے کہ خیالات صرف مصنف کے ہیں۔ تحریر ایک ہی نقشہ نہیں تجویز کرتی۔ وہ تین مختلف راستے سامنے رکھتی ہے۔

اس مضمون میں آپ جانیں گے کہ تحریر میں اصل میں کیا لکھا ہے، کون سے اعداد و شمار دیے گئے ہیں، اور پاکستان کے آئین میں نیا صوبہ بنانے کا طریقہ کیا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ ملک میں کون اس بحث کے حق میں ہے اور کون خلاف۔

ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان میں 16 نئے صوبوں کی حمایت کر دی: اصل بات کیا ہے؟

مختصر جواب یہ ہے: ورلڈ اکنامک فورم نے بطور ادارہ نئے صوبوں کی منظوری نہیں دی۔ فورم کی ویب سائٹ پر ایک مضمون نگار کی رائے شائع ہوئی ہے، جس میں 16 اکائیوں کو ایک ممکنہ راستے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

کچھ اخبارات نے اسے "بھرپور حمایت” لکھا۔ کچھ نے "مشروط حمایت” کہا۔ ایک اشاعت نے احتیاط سے لکھا کہ یہ مؤقف فورم "سے منسوب” ہے۔ تین الگ الگ لفظوں سے ظاہر ہے کہ سرخیاں تحریر سے زیادہ مضبوط تھیں۔

سرخی اور اصل تحریر کا فرق

سرخی میں کیا کہا گیا اصل تحریر میں کیا ہے
ورلڈ اکنامک فورم نے حمایت کر دی تحریر فورم کی سائٹ پر "رائے” کے زمرے میں چھپی۔ آخر میں لکھا ہے کہ خیالات صرف مصنف کے ہیں، فورم کے نہیں
16 نئے صوبے ایک ممکنہ راستہ۔ ہر موجودہ صوبے کو چار حصوں میں بانٹا جائے تو کل 16 اکائیاں بنیں گی
بھرپور حمایت تحریر کہتی ہے کہ صوبوں کی کوئی عالمگیر یا مثالی تعداد نہیں ہوتی
فیصلہ یا منظوری کا تاثر پاکستانی حکومت کا کوئی فیصلہ اس میں شامل نہیں۔ نیا صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے

"16 نئے صوبوں” کا مطلب کیا ہے

یہاں ایک چھوٹی مگر اہم بات ہے۔ تحریر کے مطابق چار صوبوں میں سے ہر ایک کو چار حصوں میں بانٹا جائے، تو پہلی سطح کی حکومتیں 16 ہو جائیں گی۔ یعنی چار کی جگہ سولہ۔ یہ چار کے اوپر سولہ نئے صوبے نہیں ہیں۔ اس فرق کو سمجھے بغیر پڑھنے والے کو لگ سکتا ہے کہ کل 20 صوبے بنانے کی بات ہو رہی ہے۔

تحریر کس نے لکھی اور اس کی حیثیت کیا ہے؟

تحریر کا عنوان ہے "پاکستان انتظامی اصلاحات کے بارے میں کیا بتاتا ہے” (انگریزی میں: What Pakistan reveals about administrative reform)۔ اسے میروسلاو زافیروف نے لکھا ہے۔ تحریر کے ساتھ ان کا تعارف یہ دیا گیا ہے: وہ انور گرگاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کے مشیر ہیں اور اٹلانٹک کونسل کے غیر مقیم سینئر فیلو ہیں۔

تحریر 9 اکتوبر 2026 کو فورم کی ویب سائٹ کے "رائے” کے حصے میں شائع ہوئی۔ آخر میں واضح لکھا ہے کہ اس میں ظاہر کیے گئے خیالات صرف مصنف کے ہیں، ورلڈ اکنامک فورم کے نہیں۔

"رپورٹ” کہنا درست کیوں نہیں

کچھ ویب سائٹس نے اسے "فورم کی رپورٹ” لکھا۔ یہ لفظ بھی درست نہیں بیٹھتا۔ رپورٹ عام طور پر کسی ادارے کی تحقیقی دستاویز ہوتی ہے۔ یہاں ایک مختصر مضمون ہے، جس میں مصنف نے اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔

پھر بھی یہ تحریر اہم کیوں ہے

اس بات کو ہلکا نہیں لینا چاہیے کہ تحریر ایک بڑے عالمی پلیٹ فارم پر چھپی ہے۔ اس سے بحث کو توجہ ملی ہے۔ دوسری بات یہ کہ مصنف نے اپنے دلائل کے لیے مردم شماری، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور پلاننگ کمیشن جیسے ذرائع کے اعداد دیے ہیں۔ اس لیے اعداد کو الگ سے پڑھنا مفید ہے، چاہے آپ نتیجے سے اتفاق کریں یا نہ کریں۔

بس یہ یاد رکھیں: یہ ایک ماہر کی رائے ہے۔ اسے فورم کا اعلان یا حکومتِ پاکستان کا منصوبہ نہ سمجھیں۔

تحریر میں پاکستان کے لیے تین راستے کون سے ہیں؟

مصنف کہتا ہے کہ بحث کو "ایک درست نقشے” کے مقابلے کی شکل نہیں دینی چاہیے۔ اس کے بجائے وہ حکمرانی کے تین مختلف منظرنامے رکھتا ہے۔

راستہ اکائیوں کی تعداد بنیاد تحریر کے مطابق خاص بات
معمولی اصلاح 16 ہر موجودہ صوبہ چار حصوں میں اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ سے گھٹ کر ڈیڑھ کروڑ کے قریب
زیادہ بڑا قدم 23 سے 25 آبادی کا توازن یا جغرافیائی ہم آہنگی عوام کے قریب فیصلے، مگر زیادہ انتظامی صلاحیت درکار
سب سے وسیع ماڈل 30 سے زیادہ موجودہ سول ڈویژن اوسط آبادی دوسری بڑی وفاقی ریاستوں کے قریب

ہر راستے کی قیمت

تحریر صاف کہتی ہے کہ ہر راستے میں کچھ لینا اور کچھ دینا ہے۔ کم اور بڑی اکائیوں کے لیے قانون سازی اور مالی بندوبست آسان ہو سکتا ہے۔ زیادہ اور چھوٹی اکائیاں دارالحکومت، بجٹ اور سیاسی اختیار کو لوگوں کے قریب لا سکتی ہیں۔ مگر ان کی منتقلی پر زیادہ خرچ آئے گا اور انتظامی صلاحیت بھی زیادہ چاہیے ہوگی۔

کچھ اخبارات کی سرخیوں میں "30 تک” یونٹس کا ذکر آیا۔ اصل تحریر میں یہ "30 سے زیادہ” ہے۔ ایک عدد کا یہ فرق بھی بتاتا ہے کہ خبر کے بجائے اصل متن دیکھنا کیوں ضروری ہے۔

تحریر میں دیے گئے اہم اعداد و شمار

مصنف کے دلائل چند اعداد پر کھڑے ہیں۔ نیچے وہی اعداد ہیں جو تحریر میں آئے ہیں۔ انہیں "تحریر کے مطابق” ہی پڑھیں۔ ہر عدد کا حوالہ ایک الگ ادارے کا ہے، جیسے مردم شماری، آئی ایم ایف اور پلاننگ کمیشن۔

موضوع تحریر کے مطابق
ملک کی آبادی تقریباً 26 کروڑ؛ 2030 تک 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے
1951 سے اضافہ آبادی سات گنا سے زیادہ بڑھی، مگر چار بنیادی صوبے وہی ہیں
پنجاب اور بلوچستان پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ؛ بلوچستان کی ڈیڑھ کروڑ سے کم
موجودہ اوسط ہر صوبے کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ
لاہور اور ہرنائی ضلع لاہور تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ؛ ضلع ہرنائی (بلوچستان) صرف 1 لاکھ 28 ہزار
اسکول سے باہر بچے 5 سے 16 سال کے 28 فیصد؛ پنجاب میں 21 فیصد اور بلوچستان میں 45 فیصد
ضلعی تعلیمی اشاریہ پلاننگ کمیشن کے جائزے میں 134 اضلاع میں سے کوئی "بہت اعلیٰ” زمرے میں نہیں
صوبائی ٹیکس (2024-25) 983 ارب روپے، جو جی ڈی پی کے 0.9 فیصد سے کم ہیں
وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 47.5 فیصد سے بڑھ کر 57.5 فیصد
زراعت اور ٹیکس معیشت کی ویلیو ایڈیشن کا 24 فیصد، مگر آئی ایم ایف کے اندازے میں مؤثر ٹیکس شرح صرف 0.3 فیصد

ان اعداد سے کیا نکلتا ہے

لاہور اور ہرنائی کی مثال سب سے واضح ہے۔ ایک ہی صوبائی نظام کو ایک کروڑ تیس لاکھ والے ضلع اور سوا لاکھ والے ضلع، دونوں کے لیے پالیسی بنانی ہے۔ مصنف کے نزدیک یہی فاصلہ ہے: فیصلہ کرنے والوں اور متاثرہ لوگوں کے درمیان۔

اسی طرح اسکول سے باہر بچوں کی شرح کا فرق دیکھیں۔ پنجاب میں 21 فیصد اور بلوچستان میں 45 فیصد۔ ایک ہی ملک میں دو بالکل مختلف صورتیں ہیں۔

یہ اعداد مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مگر یہ خود ثابت نہیں کرتے کہ نئے صوبے ہی اس کا حل ہیں۔ اس بات پر ہم آگے "دلائل” کے حصے میں آئیں گے۔

دوسرے ممالک سے کیا مثالیں دی گئیں؟

مصنف کا کہنا ہے کہ پاکستان اکیلا نہیں۔ بڑے اور متنوع ممالک اپنی آبادی اور معیشت کے ساتھ اپنا انتظامی نقشہ بدلتے رہے ہیں۔ تحریر میں چار مثالیں ہیں، تین حق میں اور ایک تنبیہ کے طور پر۔

ملک تحریر کے مطابق کیا ہوا
نائیجیریا آزادی کے وقت تین خطے تھے۔ 1967 میں 12 ریاستیں بنیں اور 1996 تک 36
انڈونیشیا 1991 میں 27 صوبے تھے۔ آج 38 ہیں
کینیا 2013 میں آٹھ صوبوں کی جگہ 47 منتخب کاؤنٹی حکومتیں قائم ہوئیں
لبنان ایک ہزار سے زیادہ بلدیات، مگر کئی اتنی چھوٹی اور مالی طور پر کمزور کہ خدمات نہیں دے پاتیں

انڈونیشیا، نائیجیریا اور برازیل کا موازنہ

تحریر میں ایک اور موازنہ ہے۔ انڈونیشیا، نائیجیریا اور برازیل میں پہلی سطح کی اکائی کی اوسط آبادی تقریباً 60 سے 80 لاکھ ہے۔ پاکستان میں یہ اوسط تقریباً 6 کروڑ ہے۔ مصنف یہ بھی لکھتا ہے کہ ان ممالک کے انتظامی نظام زیادہ پیچیدہ سمجھے جا سکتے ہیں۔

کینیا کی مثال سبق آموز کیوں ہے

مصنف کینیا کو سبق آموز مثال قرار دیتا ہے۔ وہاں صرف نقشہ نہیں بدلا۔ کاؤنٹیاں ایسی منتخب حکومتیں تھیں جنہیں آئین کا تحفظ حاصل تھا۔ ان کی ذمہ داریاں طے تھیں اور انہیں قومی آمدن میں فارمولے کے تحت حصہ ملتا تھا، جس میں آبادی اور غربت جیسے عوامل شامل ہیں۔

لبنان کی تنبیہ

لبنان کی مثال الٹی سمت کی ہے۔ وہاں اکائیاں بہت زیادہ اور بہت چھوٹی ہیں۔ تحریر کے مطابق مالی اور ادارہ جاتی صلاحیت کے بغیر ٹکڑے ٹکڑے کرنا بھی اتنا ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے جتنی حد سے زیادہ مرکزیت۔

تحریر کی شرط: صرف نقشہ بدلنا کافی نہیں

تحریر کا سب سے اہم حصہ شاید یہی ہے۔ مصنف بار بار کہتا ہے کہ نئی اکائیاں بنانا مقصد نہیں۔ مقصد بہتر حکمرانی ہے۔ اس کے لیے حدود، پیسہ اور اختیارات ایک ساتھ بدلنے چاہییں۔

کون سی چیزیں ساتھ ہونی چاہییں

  • پیش گوئی کے قابل مالی منتقلی۔ نئی اکائی کو معلوم ہو کہ اسے ہر سال کتنا پیسہ ملے گا۔
  • ٹیکس وصولی کے معتبر اختیارات۔ صرف خرچ کرنے کا نہیں، کمانے کا اختیار بھی۔
  • واضح ذمہ داریاں۔ صحت، تعلیم اور دیگر خدمات کس کے ذمے ہیں، یہ صاف ہو۔
  • کارکردگی کا موازنہ کرنے والا ڈیٹا۔ تاکہ پتا چلے کہ کون سا ضلع یا اکائی کیسا کام کر رہی ہے۔
  • مقامی آمدن کی ترغیب۔ تاکہ شہری دیکھ سکیں کہ ان کا ٹیکس کہاں لگ رہا ہے۔

زرعی ٹیکس کی مثال

تحریر ایک مثال دیتی ہے۔ زراعت معیشت کی ویلیو ایڈیشن کا 24 فیصد ہے، مگر آئی ایم ایف کے اندازے میں اس پر مؤثر ٹیکس شرح صرف 0.3 فیصد ہے۔ 2025 میں شرحیں بڑھائی گئیں، پھر بھی زرعی انکم ٹیکس کی وصولی توقع سے کم رہی۔

مصنف کے مطابق صوبائی ٹیکس اداروں کو برسوں سے محدود صلاحیت، کمزور عمل درآمد اور ناکافی معلومات کا سامنا ہے۔ حالیہ اصلاحات ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش ہیں، مگر کامیابی کا انحصار وفاقی ادارۂ محصولات سے ڈیٹا کے تبادلے، خودکار نظام اور صوبوں کی صلاحیت پر ہوگا۔

"چھوٹی اکائی، وہی مرکزیت” کا خطرہ

تحریر یہ خبردار بھی کرتی ہے کہ اگر چھوٹی اکائیوں کے پاس یقینی فنڈ، ٹیکس اختیار اور واضح ذمہ داریاں نہ ہوں، تو وہ نچلی سطح پر وہی مرکزیت دہرا سکتی ہیں۔ یعنی صوبائی دارالحکومت کی جگہ ایک چھوٹا دارالحکومت، مگر مسئلے وہی۔

یہی وہ نکتہ ہے جو سرخیوں میں اکثر نظر نہیں آیا۔ تحریر "نئے صوبے بنائیں” کا نعرہ نہیں۔ وہ ایک شرط کے ساتھ آتی ہے: ڈھانچہ، پیسہ اور اختیار ایک ساتھ چلیں۔

پاکستان میں نیا صوبہ آئینی طور پر کیسے بن سکتا ہے؟

پاکستان میں نیا صوبہ بنانے کا راستہ آئین کے آرٹیکل 239 میں ہے۔ اس کے لیے آئینی ترمیم چاہیے، اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری بھی۔ ماہرینِ قانون کے مطابق آرٹیکل 1 نیا صوبہ بنانے کا الگ طریقہ فراہم نہیں کرتا۔

مرحلہ وار طریقہ

  1. آئینی ترمیمی بل تیار ہو۔ اس میں بتایا جائے کہ کس صوبے کی حدود بدلنی ہیں اور نیا صوبہ کیسے بنے گا۔
  2. متعلقہ صوبائی اسمبلی منظوری دے۔ بل صدر کو پیش ہونے سے پہلے اس صوبے کی اسمبلی کو اپنی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ارکان سے اسے منظور کرنا ہوگا۔
  3. قومی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے منظور کرے۔
  4. سینیٹ بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کرے۔
  5. صدر کی منظوری۔ اس کے بعد ہی ترمیم قانون بنتی ہے۔

اس کا عملی مطلب

اس طریقے میں ایک بات بہت اہم ہے۔ جس صوبے کو تقسیم کرنا ہو، اس کی اپنی اسمبلی کی رضامندی لازمی ہے۔ یعنی پنجاب کو بانٹنے کے لیے پنجاب اسمبلی، سندھ کو بانٹنے کے لیے سندھ اسمبلی۔ ایک اخباری جائزے کے مطابق، اگست 2026 کے آس پاس کوئی ایک جماعت پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر یہ راستہ مشکل ہے۔

ایک مثال جب یہ طریقہ استعمال ہوا

مئی 2018 میں پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا۔ قومی اسمبلی نے 24 مئی کو 229 ووٹوں کے مقابلے میں ایک ووٹ سے اسے منظور کیا۔ چونکہ صوبے کی حدود بدل رہی تھیں، اس لیے خیبر پختونخوا اسمبلی نے بھی 27 مئی کو اسے منظور کیا۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ جب سیاسی اتفاقِ رائے ہو تو آرٹیکل 239 کا راستہ کھل جاتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ ورلڈ اکنامک فورم کی اس تحریر سے اس آئینی عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ بیرونی تجزیہ سیاسی بحث کو وزن دے سکتا ہے، قانونی راستہ نہیں بدلتا۔

ملک کے اندر یہ بحث پہلے سے کہاں کھڑی ہے؟

ورلڈ اکنامک فورم کی تحریر آنے سے پہلے ہی پاکستان میں نئے صوبوں پر بحث گرم تھی۔ جولائی 2026 میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان اکنامک سمٹ میں کہا کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے، اور نئے صوبوں سمیت بڑے مسائل پر تمام جماعتوں کو بیٹھ کر فیصلہ کرنے کی دعوت دی۔ اس کے بعد مختلف رہنماؤں کے بیانات آتے رہے۔

نیچے وہ مؤقف ہیں جو اخباری رپورٹس میں سامنے آئے۔ یہ بیانات اور تجاویز ہیں، حتمی فیصلے نہیں۔

کون رپورٹس کے مطابق مؤقف
وزیر داخلہ محسن نقوی نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور؛ تمام جماعتوں سے اتفاقِ رائے کی اپیل
وزیر دفاع خواجہ آصف حمایت؛ تجویز کہ "صوبے” کے بجائے "انتظامی یونٹ” کا لفظ استعمال ہو؛ ستمبر 2026 میں کہا کہ سندھ اسمبلی کے مؤقف سے عمل درآمد نہیں رکے گا
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال 12 سے 15 نئے صوبوں کی تجویز
عبدالعلیم خان (استحکامِ پاکستان پارٹی) ہر صوبے کو تین انتظامی یونٹس میں بانٹنے کی بات
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی انتظامی بنیاد پر نئے صوبوں کی حمایت، لسانی یا نسلی بنیاد پر نہیں
پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی حمایت کی تاریخ؛ سندھ کی تقسیم کی مخالفت۔ سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی
ایم کیو ایم پاکستان اگست 2026 میں سیاسی جماعتوں کے قومی مکالمے کی اپیل؛ سندھ میں نئے صوبے کا مقدمہ سب سے مضبوط قرار دیا
پی ٹی آئی رپورٹس کے مطابق واضح اور جامع مؤقف نہیں؛ ماضی میں جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت
عوامی نیشنل پارٹی رپورٹس کے مطابق تاریخی طور پر ہزارہ صوبے کی مخالف
ڈی جی آئی ایس پی آر آبادی میں اضافے کا ذکر؛ کسی بھی "ری سیٹ” کو آئینی اور قانونی طریقے سے، سیاسی نمائندوں کے ذریعے ہونا چاہیے

ڈان کی رپورٹ میں کیا بتایا گیا

ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے کے حوالے سے ڈان نے لکھا کہ "طاقت کے ایوانوں” میں نئے صوبوں کے سب سے قابلِ عمل طریقے پر سنجیدہ بحث ہو رہی ہے۔ ذریعے کے مطابق یہ بحث مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کی تمہید ہو سکتی ہے۔ مجوزہ خیالات میں کراچی اور گوادر کو وفاق کے زیرِ انتظام رکھنا، پنجاب کے تین اور خیبر پختونخوا کے دو حصے کرنا شامل بتائے گئے۔ یہ سب غیر حتمی ہے اور سرکاری اعلان نہیں۔

پرانے مطالبے

یہ مطالبے نئے نہیں۔ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے صوبے کی بات برسوں سے ہو رہی ہے۔ ہزارہ صوبے کا مطالبہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی تائید حاصل کر چکا ہے۔ کراچی یا شہری سندھ کے صوبے کی بات بھی وقتاً فوقتاً اٹھتی رہی ہے۔ ان میں سے کسی کو بھی اب تک آئینی ترمیم کی صورت میں منظوری نہیں مل سکی۔

نئے صوبوں کے حق اور مخالفت میں دلائل

نئے صوبوں پر دونوں طرف سنجیدہ دلائل موجود ہیں۔ یہاں دونوں کو برابر جگہ دی گئی ہے۔

حق میں کیا کہا جاتا ہے

  • عوام کے قریب حکومت۔ چھوٹی اکائی میں دارالحکومت قریب ہوتا ہے اور فیصلے مقامی ضرورت کے مطابق ہو سکتے ہیں۔
  • آبادی کا بوجھ۔ حامیوں کے مطابق چار صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ ہے، جو دوسرے بڑے وفاقی ممالک کی اکائیوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔
  • جوابدہی۔ چھوٹی اکائی میں ووٹر اور منتخب نمائندے کے درمیان فاصلہ کم ہو سکتا ہے۔
  • مقامی محرومی۔ جنوبی پنجاب اور ہزارہ جیسے علاقوں میں شکایت رہی ہے کہ طاقت لاہور یا پشاور میں جمع ہے۔
  • ماہرین کی رائے۔ ایک پالیسی راؤنڈ ٹیبل میں سابق وفاقی وزرا اور دیگر ماہرین نے بھی انتظامی بنیاد پر نئے صوبوں کی ضرورت پر بات کی تھی، اگرچہ سیاسی مزاحمت کے خدشے کی بھی نشاندہی کی گئی۔

مخالفت یا احتیاط میں کیا کہا جاتا ہے

  • مسئلہ نقشہ نہیں، ادارے ہیں۔ گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک کی ایک رپورٹ کے مطابق خرابی صوبائی حدود میں نہیں، مؤثر حکمرانی کی کمی میں ہے۔ اس کے نزدیک مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا زیادہ ضروری ہے۔
  • مالی بوجھ۔ نئی اکائیاں بنانے اور چلانے پر اخراجات آتے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی تحریر خود بھی منتقلی کے اخراجات اور زیادہ انتظامی صلاحیت کی ضرورت کا ذکر کرتی ہے۔
  • سیاسی خطرات۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کراچی سے جڑی کوئی بھی تجویز نسلی اور سیاسی حساسیت کو دوبارہ جگا سکتی ہے۔ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ عمل اشرافیہ کی سودے بازی بن جائے۔
  • صوبائی رضامندی۔ سندھ اسمبلی کی متفقہ قرارداد کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آئینی رضامندی کا مرحلہ آسان نہیں ہوگا۔
  • کمزور اکائیوں کا خطرہ۔ لبنان کی مثال بتاتی ہے کہ بہت چھوٹی اور کمزور اکائیاں خدمات فراہم نہیں کر پاتیں۔

تیسرا نقطۂ نظر

بعض ماہرین کہتے ہیں کہ دونوں کام ساتھ ہونے چاہییں: نئے صوبے اور مضبوط مقامی حکومتیں۔ ایک تبصرے کے مطابق دس یا بارہ صوبے بھی بن جائیں، مگر طاقت صوبائی دارالحکومتوں ہی میں رہی، تو عام شہری کی مشکل وہیں رہے گی۔ ورلڈ اکنامک فورم کی تحریر بھی یہی زور دیتی ہے کہ حدود کے ساتھ پیسہ اور اختیار بھی ساتھ چلیں۔

آگے کیا متوقع ہے؟

اس وقت تک کوئی آئینی ترمیمی بل پیش ہونے کی اطلاع ہمیں نہیں ملی۔ پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری کے حوالے سے رپورٹ ہوا تھا کہ یہ معاملہ اکتوبر میں پارلیمنٹ میں زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ یہ توقع تھی، شیڈول نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ بل کس صوبے کی حدود سے متعلق ہے اور اس صوبے کی اسمبلی کیا فیصلہ کرتی ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی تحریر اس عمل میں کوئی سرکاری کردار نہیں رکھتی۔ البتہ ماہرین اس سے دلائل اور اعداد لے کر بحث میں استعمال کر سکتے ہیں۔

اس طرح کی خبر کیسے پڑھیں

جب کوئی سرخی کہے کہ کسی بین الاقوامی ادارے نے کسی ملک کے بارے میں "حمایت کر دی”، تو چار سوالات پوچھیں۔

  1. لکھا کس نے ہے؟ ادارے نے یا کسی مضمون نگار نے؟
  2. کہاں چھپا ہے؟ سرکاری اعلان، رپورٹ، یا رائے کا حصہ؟
  3. کیا آخر میں وضاحت ہے؟ "خیالات صرف مصنف کے ہیں” جیسا جملہ بڑی اہم نشانی ہے۔
  4. اصل متن میں کیا الفاظ ہیں؟ "تجویز”، "منظرنامہ” اور "ممکنہ راستہ” کا مطلب "فیصلہ” نہیں ہوتا۔

اس خبر پر یہ چاروں سوال لگائیں تو جواب ملتا ہے: مضمون نگار نے لکھا، رائے کے حصے میں چھپا، آخر میں وضاحت موجود ہے، اور متن میں تین منظرنامے ہیں۔

عمومی سوالات

کیا ورلڈ اکنامک فورم نے واقعی پاکستان میں 16 نئے صوبوں کی حمایت کی ہے؟

بطور ادارہ نہیں۔ فورم کی ویب سائٹ پر 9 اکتوبر 2026 کو ایک مضمون نگار کی تحریر چھپی، جس میں 16 اکائیوں کا راستہ بھی شامل ہے۔ تحریر میں لکھا ہے کہ خیالات صرف مصنف کے ہیں، فورم کے نہیں۔

کیا یہ ورلڈ اکنامک فورم کی سرکاری رپورٹ ہے؟

نہیں۔ یہ "رائے” کے حصے میں شائع ہونے والا مضمون ہے۔ اسے لکھنے والے میروسلاو زافیروف ہیں، جو انور گرگاش ڈپلومیٹک اکیڈمی سے وابستہ ہیں اور اٹلانٹک کونسل کے غیر مقیم سینئر فیلو ہیں۔

"16 نئے صوبوں” کا اصل مطلب کیا ہے؟

تحریر میں ہر موجودہ صوبے کو چار حصوں میں بانٹنے کی بات ہے۔ اس سے پہلی سطح کی کل 16 حکومتیں بنیں گی۔ یہ چار موجودہ صوبوں کے اوپر 16 اضافی صوبے نہیں ہیں۔

تحریر میں 16 کے علاوہ اور کون سے راستے ہیں؟

دو اور راستے ہیں۔ ایک میں آبادی یا جغرافیے کی بنیاد پر 23 سے 25 اکائیاں بنتی ہیں۔ دوسرے میں موجودہ سول ڈویژنز کی بنیاد پر 30 سے زیادہ اکائیاں بنتی ہیں۔ مصنف کہتا ہے کہ کوئی ایک مثالی تعداد نہیں۔

کیا حکومتِ پاکستان نے نئے صوبے بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟

ہماری ریسرچ میں ایسے کسی حتمی فیصلے کی اطلاع نہیں ملی۔ کئی وزرا نے نئے انتظامی یونٹس کی حمایت میں بیانات دیے ہیں اور رپورٹس کے مطابق اس پر غور ہو رہا ہے۔ مگر پیپلز پارٹی اور سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی ہے۔ آئینی ترمیم کے بغیر کوئی فیصلہ نافذ نہیں ہو سکتا۔

نیا صوبہ بنانے کے لیے کتنی اکثریت درکار ہوتی ہے؟

آرٹیکل 239 کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت چاہیے۔ جس صوبے کی حدود بدلنی ہوں، اس کی صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری بھی ضروری ہے۔ آخر میں صدر کی منظوری درکار ہے۔

کیا نئے صوبے بننے سے تعلیم اور صحت خود بخود بہتر ہو جائیں گے؟

تحریر کے مطابق نہیں۔ مصنف لکھتا ہے کہ حدود بدلنا ہر مسئلے کا علاج نہیں۔ نئی اکائیاں تبھی بہتر کام کر سکتی ہیں جب ان کے پاس قابل ادارے، شفاف مالی منتقلی، کارکردگی کا ڈیٹا اور مقامی آمدن کی ترغیب ہو۔