موخا ایئرپورٹ پر سعودی فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے: خطرناک پیش قدمی جاری

یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب کی جانب پیش قدمی جاری ہے، جس کے جواب میں سعودی عرب نے ساحلی شہر موخا کے ہوائی اڈے پر دو فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثی میڈیا کے مطابق سعودی طیاروں نے موخا ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، تاہم حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثی جنگجو جمعرات کو موخا شہر پر قبضے کے بعد اب باب المندب سے متصل علاقوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔یمنی حکومتی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ حوثی جنگجو آبنائے باب المندب کے بالکل قریب واقع شہر ذباب تک پہنچ چکے ہیں۔ ذباب کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ جزیرہ پریم کے بالمقابل واقع ہے، اور ذرائع کے مطابق ذباب اور پریم دونوں پر کنٹرول حاصل کرنا باب المندب پر مکمل اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر حوثی ان دونوں مقامات پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کو براہِ راست نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔

یہ تازہ کشیدگی دراصل ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والی شدید لڑائی کا تسلسل ہے، جب حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی کا آغاز کیا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں چار روز تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں اب تک 300 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ 2022 کی جنگ بندی کے جولائی میں خاتمے کے بعد یمن میں اب تک کی خونریز ترین جھڑپ قرار دی جا رہی ہے۔

حوثیوں سے منسلک خبر رساں ادارے سبا کے مطابق سعودی افواج نے موخا کے علاوہ جوف، البیضاء، مآرب اور تعز کے صوبوں کو بھی متعدد فضائی حملوں اور کروز میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔ حکومتی فوج کے ذرائع نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی، جن کے مطابق زیادہ تر کارروائیاں البیضاء اور مآرب میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول اہم مقامات، اجتماعات اور کیمپوں پر مرکوز رہیں۔ تاہم سعودی عرب کی جانب سے تاحال ان حملوں کی باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

بحیرہ احمر کے کنارے واقع بندرگاہی شہر موخا حالیہ مہینوں میں کئی بار لڑائی کا مرکز بن چکا ہے۔ اگست میں بھی حوثیوں نے موخا کی بندرگاہ، بجلی گھر، شمسی توانائی کے پلانٹ اور رہائشی علاقوں کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا تھا، جس میں کم از کم سات افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل بھی موخا پر یکے بعد دیگرے کئی روز تک میزائل حملے ہوتے رہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ شہر اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے مسلسل دونوں فریقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی ایک انتہائی اہم عالمی بحری گزرگاہ ہے، جس کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے درمیان بھاری مقدار میں تجارتی سامان اور توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے تقریباً مکمل طور پر بند کر دیا۔ اس کے نتیجے میں باب المندب سعودی خام تیل، جو دنیا کا سب سے زیادہ برآمد ہونے والا تیل ہے، کی ترسیل کے لیے ایک اہم متبادل راستہ بن چکا ہے، جس کی وجہ سے حوثیوں کی اس گزرگاہ پر قبضے کی کوشش کو خاص طور پر تشویش ناک سمجھا جا رہا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز باب المندب سے 26 تجارتی جہاز گزرے، جو حالیہ اوسط کے قریب ہی رہا۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ حوثیوں کی جانب سے ذباب اور جزیرہ پریم کی جانب پیش قدمی جاری رہی تو مستقبل قریب میں بحری آمدورفت میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جیسا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں پہلے ہی دیکھا جا چکا ہے۔ اگر باب المندب بھی غیر محفوظ قرار پا گیا تو بحری کمپنیوں کو لمبے اور مہنگے متبادل راستے، بشمول جنوبی افریقہ کے راستے کیپ آف گڈ ہوپ کا سفر، اپنانا پڑ سکتا ہے، جس سے عالمی تجارت کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

حوثیوں کا موخا پر قبضہ اور باب المندب کی جانب پیش قدمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے مابین جاری جنگ کے باعث اہم بین الاقوامی بحری راستے پہلے ہی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر باب المندب اور آبنائے ہرمز، دونوں اہم گزرگاہیں بیک وقت غیر محفوظ ہو گئیں تو عالمی توانائی سپلائی اور سمندری تجارت کو غیر معمولی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات تیل کی قیمتوں سے لے کر عالمی رسدی زنجیروں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

فی الحال سعودی عرب کی جانب سے موخا اور دیگر علاقوں میں فضائی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ حوثی جنگجو زمینی محاذ پر مسلسل پیش قدمی کر رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ لڑائی مزید شدت اختیار کرتی ہے اور حوثی باب المندب کے قریبی علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو یہ نہ صرف یمن کے انسانی بحران کو مزید گہرا کرے گا بلکہ عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی ایک نیا اور سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔