یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے تین جنوبی شہروں پر تازہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد میزائل اور ڈرون داغے۔ ترجمان نے کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم واضح کیا کہ اتحادی افواج سعودی عرب کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مناسب جواب دیں گی۔ یہ تازہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے مابین برسوں کی شدید ترین لڑائی جاری ہے۔
یمن میں گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی لڑائی دراصل باب المندب کی تنگ آبی گزرگاہ پر قبضے کی جنگ ہے، جو بحیرہ احمر کے جنوبی دہانے پر واقع ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے جمعرات کے روز زمینی حملے کے ساتھ ساتھ راکٹ اور ڈرون حملے شروع کیے، جن کا مقصد حکومت کے زیرِ کنٹرول بندرگاہی شہر مخا کو کاٹ کر باب المندب سے متصل علاقوں کی جانب پیش قدمی کرنا تھا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق حوثی حملے کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 300 سے زائد جنگجو اور کچھ عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جو 2022 کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد یمن میں اب تک کی خونریز ترین لڑائی ہے۔
واضح رہے کہ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے مابین 2022 سے ایک نازک جنگ بندی برقرار تھی، تاہم جولائی میں یہ معاہدہ اس وقت بکھر گیا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء میں ایک ایرانی طیارے کا خیرمقدم کیا، جس کے بعد حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کی مکمل بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں پر بار بار حملے شروع کر دیے۔
اس تنازع کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے تقریباً مکمل طور پر بند کر دیا۔ اس کے نتیجے میں باب المندب کی آبی گزرگاہ سعودی خام تیل، جو دنیا میں سب سے زیادہ برآمد ہونے والا تیل ہے، کی ترسیل کے لیے ایک متبادل اور انتہائی اہم راستہ بن گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ حوثی باغی اس گزرگاہ پر قبضے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ اس پر کنٹرول حاصل کرنے سے وہ سعودی تیل کی عالمی ترسیل کو براہِ راست متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔
یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے خبردار کیا ہے کہ باب المندب کی جانب حوثیوں کی کسی بھی پیش قدمی کو "شدید ترین جنگِ استحکاک” میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ان کے دفتر کے مطابق العلیمی اور کونسل کے دیگر اراکین تعز میں جاری عسکری پیش رفت کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں اور انہوں نے سینکڑوں خاندانوں کی نقل مکانی سمیت لڑائی کے انسانی بحران کا ذمہ دار حوثیوں کو ٹھہرایا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر میزائل و ڈرون حملے کوئی نئی بات نہیں۔ 2015 سے اب تک حوثی باغی سعودی عرب پر 200 سے زائد میزائل داغ چکے ہیں، جن کا بیشتر ہدف ابہا، جازان اور نجران جیسے سرحدی شہر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حملوں کا دائرہ کار محض علامتی نہیں بلکہ اقتصادی و عسکری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی سنجیدہ کوشش ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتے ہیں اور نہرِ سویز کے ذریعے ایشیا، یورپ اور بحیرہ روم کو ملانے والا اہم تجارتی راستہ فراہم کرتے ہیں۔ حوثیوں نے 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز سے ہی اس گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔ تازہ کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی کمپنیوں کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں اور بحری بیمہ کی شرحوں میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی تجارت پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یمن میں حوثیوں اور امریکی اتحادی سعودی عرب کے مابین یہ تازہ لڑائی دراصل فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا ایک نیا محاذ ہے۔ ایران کی پشت پناہی رکھنے والے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا اس علاقائی تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے، جس سے خطے میں امن کی بحالی کے امکانات مزید کم ہوتے جا رہے ہیں۔
فی الحال سعودی زیرقیادت اتحاد کی جانب سے حوثی حملوں کے جواب میں کسی بڑی جوابی کارروائی کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا، تاہم ترجمان کے بیان سے واضح ہے کہ اتحادی افواج خاموش نہیں بیٹھیں گی۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر باب المندب پر لڑائی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس سے نہ صرف یمن میں انسانی بحران گہرا ہوگا بلکہ عالمی توانائی رسد اور بحری تجارت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔