بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

بھارتی فلم انڈسٹری کے ممتاز اداکار، فلمساز اور سماجی کارکن نانا پاٹیکر جمعرات کی علی الصبح گوا میں اپنی رہائش گاہ پر مبینہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی اچانک موت نے بھارتی فلمی صنعت اور ان کے لاکھوں مداحوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

آخری لمحات: کیا ہوا؟

منی پال اسپتال گوا کے سربراہِ شعبہ آنکالوجی ڈاکٹر شیکھر سالکر کے مطابق نانا پاٹیکر کو گوا کے علاقے دونا پاؤلا میں ان کے اپارٹمنٹ میں بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا۔ ڈاکٹر کے مطابق اداکار نے رات تقریباً ساڑھے تین بجے ایک دوست کو اپنی طبیعت خراب ہونے کا پیغام بھیجا تھا۔ دوست نے چار بجے کے قریب پیغام دیکھتے ہی ان کے اپارٹمنٹ پہنچ کر ان کی دیکھ بھال کرنے والے ملازم کے ہمراہ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کا انتظام کیا۔ اسپتال نے ایمبولینس بھیجی، تاہم اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں کی جانب سے تقریباً 45 منٹ تک سی پی آر کے ذریعے انہیں بچانے کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے، اور صبح پانچ بج کر دس سے بیس منٹ کے درمیان ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔ ان کی رہائش گاہ اسپتال سے محض پانچ منٹ کے فاصلے پر واقع تھی۔

میڈیکو لیگل کیس اور پوسٹ مارٹم

ڈاکٹر شیکھر سالکر کے مطابق ان کی ناگہانی موت کے پیشِ نظر ایک میڈیکو لیگل کیس (ایم ایل سی) رجسٹر کیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم بھی کیا جائے گا۔ بعد ازاں ان کی میت کو بمبولم میں واقع گوا میڈیکل کالج اور اسپتال منتقل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کچھ روز قبل ایک تقریب میں شریک ہوئے تھے جہاں وہ مکمل طور پر صحتمند دکھائی دے رہے تھے، جس کی وجہ سے ان کی اچانک موت مزید غیر متوقع سمجھی جا رہی ہے۔

آخری رسومات پونے میں ادا کی جائیں گی

ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے والد کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق نانا پاٹیکر کچھ نجی کام کے سلسلے میں گوا میں مقیم تھے، اور ان کی میت دوپہر کے بعد پونے منتقل کی جائے گی، جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ اطلاع ملتے ہی ان کے اہلِ خانہ گوا کے لیے روانہ ہو گئے۔

ایک شاندار فنی سفر

نانا پاٹیکر، جن کا اصل نام وشوناتھ پاٹیکر تھا، یکم جنوری 1951ء کو مہاراشٹر کے علاقے مرود جنجیرہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1978ء میں فلم ’’گمن‘‘ سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی منفرد، پُراثر اور دبنگ اداکاری کی بدولت جلد ہی بھارتی سنیما کے سب سے معتبر اداکاروں میں شمار ہونے لگے۔ انہوں نے ’’پرندہ‘‘، ’’کرانتی ویر‘‘، ’’اب تک چھپن‘‘، ’’راج نیتی‘‘ اور مقبول کامیڈی فلم ’’ویلکم‘‘ جیسی متعدد یادگار فلموں میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ انہوں نے 1991ء میں فلم ’’پرہار: دی فائنل اٹیک‘‘ سے ہدایتکاری کے میدان میں بھی قدم رکھا، جس میں ان کے ساتھ مادھوری ڈکشٹ نے کام کیا۔ حالیہ برسوں میں وہ ’’وان واس‘‘ (2024ء) اور 2026ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’او رومیو‘‘ میں بھی نظر آئے۔

اعزازات اور سماجی خدمات

انہیں اپنی شاندار اداکاری پر تین نیشنل فلم ایوارڈز سے نوازا گیا، جبکہ 2013ء میں بھارتی حکومت نے انہیں پدم شری کے اعزاز سے بھی نوازا۔ فلمی دنیا سے ہٹ کر نانا پاٹیکر نے بھارتی فوج کے ساتھ اپنی خدمات کے ذریعے بھی قابلِ قدر مقام حاصل کیا؛ وہ اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز رہے، اور 1999ء کی کارگل جنگ کے دوران بھی انہوں نے فوج کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ وہ ’’نام فاؤنڈیشن‘‘ کے ذریعے مہاراشٹر کے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی سرگرم رہے۔

فنکاروں اور سیاسی شخصیات کا اظہارِ افسوس

ان کے انتقال پر بھارتی فلمی صنعت کی ممتاز شخصیات اور سیاسی رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ساتھی فنکاروں کے مطابق نانا پاٹیکر کا خلا بھارتی سنیما میں مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔