پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی اسپورٹس کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ لارڈز میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان جاری دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز لنچ بریک کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کا انٹرویو نشر کیے جانے پر پی سی بی نے اسکائی اسپورٹس کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرا دی ہے۔
یہ انٹرویو سابق انگلش کپتان اور موجودہ اسکائی اسپورٹس براڈکاسٹر مائیکل ایتھرٹن نے لارڈز کے رائٹرز روم میں بدھ کی صبح ریکارڈ کیا تھا، جسے میچ کے لنچ بریک کے دوران نشر کیا گیا۔ انٹرویو میں عمران خان کے دونوں بیٹوں نے اپنے والد کی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو گزشتہ تین سال سے قید میں ہیں اور جن کی صحت گزشتہ چند ماہ کے دوران نمایاں طور پر بگڑی ہے۔ قاسم خان نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ ان کے والد کے ساتھ اصل میں کیا ہو رہا ہے اور خدشہ ہے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ عرصے تک قید میں رکھ کر ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دی گارڈین کے مطابق پی سی بی کو اعتراض اس بات پر تھا کہ سیریز کے سرکاری براڈکاسٹر نے ایسا انٹرویو نشر کیا جو موجودہ پاکستانی حکومت پر شدید تنقید پر مبنی تھا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں یہ سیریز نشر کرنے والے ادارے پی ٹی وی نے یہ انٹرویو نشر نہیں کیا۔
ای ایس پی این کرکٹ انفو کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے انٹرویو نشر ہونے سے قبل ہی اسکائی سے رابطہ کر کے اس پر احتجاج کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر یہ انٹرویو نشر کیا گیا تو پاکستانی کھلاڑی لنچ کے بعد میدان میں واپس نہیں آئیں گے۔ لارڈز میں پہلے ہی بارش کی وجہ سے کھانے کے وقفے میں تاخیر ہو چکی تھی۔ کرکٹ انفو کے مطابق پی سی بی نے احتجاجاً کھلاڑیوں کو میدان میں نہ بھیجنے کے آپشن پر بھی غور کیا تھا۔
تاہم انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے حکام کی مداخلت اور گفت و شنید کے بعد معاملہ حل ہو گیا اور کھیل دوبارہ شروع ہو سکا۔ اطلاعات کے مطابق اسکائی نے بعد ازاں انٹرویو کا 18 منٹ دورانیے کا کلپ جاری کیا، مگر اس وقت تک پاکستانی کھلاڑی دوسرے سیشن کے لیے میدان کی جانب روانہ ہو چکے تھے۔
اسکائی اسپورٹس نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے، تاہم اس پر مزید کوئی باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ ای سی بی کو بھی پی سی بی کے تحفظات سے آگاہ کر دیا گیا ہے، مگر ای سی بی کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دی گارڈین کے مطابق پاکستانی حکام کی ناراضی اب بھی برقرار ہے اور انہوں نے یہ معاملہ برطانوی حکومت کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے سامنے بھی اٹھایا ہے۔ اس کے باوجود پی سی بی نے ای سی بی حکام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستانی ٹیم لارڈز ٹیسٹ کے باقی ماندہ کھیل میں بھرپور شرکت کرے گی۔
عمران خان کی صحت گزشتہ کچھ عرصے سے شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ انہیں دارالحکومت اسلام آباد کے نجی اسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، تاہم عدالتی حکم کے برعکس انہیں سرکاری اسپتال پمز لے جایا گیا جہاں معائنے کے بعد جلد ہی دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ عمران خان کی بہنوں اور بیٹوں نے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے ذاتی معالج تک رسائی دی جائے۔ ان کے وکلا پہلے ہی ان کی جیل کی صورتحال کو خطرناک قرار دے چکے ہیں، جبکہ ان کی بہن کی جانب سے دورانِ قید تشدد کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے 21 سابق ٹیسٹ کپتانوں — جن میں مائیکل ایتھرٹن بھی شامل تھے — نے مشترکہ طور پر عمران خان کی صحت اور قید کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی کرکٹ برادری میں بھی اس معاملے پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ عمران خان، جو 1992 کے ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان اور ملک کے سب سے کامیاب کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں، اگست 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پی سی بی، عمران خان سے متعلق معاملات پر تنقید کی زد میں آیا ہو۔ 2023 میں بھی پی سی بی کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس نے پاکستان کرکٹ کی تاریخ پر مبنی ایک پروموشنل ویڈیو جاری کی تھی جس میں 1992 کے ورلڈ کپ فاتح کپتان عمران خان کا کوئی ذکر یا تصویر شامل نہیں تھی۔ اس وقت سابق پاکستانی کرکٹر وسیم اکرم سمیت متعدد شخصیات نے اس اقدام کو "شرمناک” قرار دیا تھا، جس کے بعد پی سی بی نے نئی ویڈیو جاری کی جس میں عمران خان کو بھی شامل کیا گیا۔ اسی طرح رواں سال کے اوائل میں پی سی بی نے کھلاڑی عامر جمال پر ٹوپی پر عمران خان کے جیل نمبر "804” لکھنے پر تقریباً 14 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو پر پیدا ہونے والا یہ تنازع صرف ایک نشریاتی معاملہ نہیں رہا بلکہ اس نے پاکستان کرکٹ بورڈ، برطانوی میڈیا اور دو ملکوں کی سفارتی سطح تک اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایک طرف پی سی بی کا مؤقف ہے کہ سرکاری براڈکاسٹر کو حکومت مخالف مواد نشر کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا، تو دوسری جانب اسکائی اسپورٹس اور عالمی کرکٹ برادری کے کئی حلقے صحافتی آزادی اور عمران خان کی قید کی صورتحال پر روشنی ڈالنے کو جائز صحافتی فرض قرار دے رہے ہیں۔ فی الحال دونوں کرکٹ بورڈز نے میچ کو جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے، مگر پاکستانی حکام کی ناراضی بدستور برقرار ہے اور معاملہ سفارتی سطح تک پہنچ چکا ہے