کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن کے ایک 45 سالہ رہائشی میں ایم پاکس (مںکی پاکس) کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد سندھ میں رواں سال اس وبا کے مصدقہ کیسز کی مجموعی تعداد 42 تک جا پہنچی ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق ان 42 مصدقہ کیسز میں سے 14 کا تعلق خود کراچی شہر سے ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق متاثرہ شخص کو گزشتہ روز سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال لایا گیا تھا۔ مریض کے جسم پر دانے (rash) نمودار ہونے پر ایم پاکس کا شبہ ظاہر کیا گیا، جس کے بعد پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے انفیکشن کی باضابطہ تصدیق ہو گئی۔ مریض فی الحال سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور طبی عملے کی نگرانی میں ہے۔
سندھ میں ایم پاکس کا سلسلہ رواں سال مارچ میں شروع ہوا تھا، جب ضلع ملیر کے ایک 29 سالہ شخص میں پہلا کیس رپورٹ ہوا، جسے کسی بیرونِ ملک سفر کی تاریخ نہ ہونے کے باعث مقامی سطح پر منتقلی کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اپریل میں صورتحال تیزی سے سنگین ہوئی، جب صوبے میں 122 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 25 مصدقہ نکلے اور 9 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس وقت خیرپور سب سے زیادہ متاثرہ ضلع تھا، جہاں کئی نوزائیدہ بچے بھی متاثر ہوئے تھے، تاہم صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو کے مطابق ان بچوں کی اموات کی براہِ راست وجہ ایم پاکس نہیں بلکہ ان کی پہلے سے کمزور اور غذائی قلت کا شکار صحت تھی۔
اپریل ہی میں ایک اہم پیش رفت میں وفاقی وزارتِ صحت اور محکمہ صحت سندھ نے تصدیق کی کہ صوبے میں وائرس کی ایک زیادہ خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والی قسم "کلیڈ 1بی” بھی موجود ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی میں کی گئی جینیاتی تحقیق سے خیرپور کے نمونوں میں اس قسم کی تصدیق ہوئی۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ قسم انسان سے انسان میں قریبی رابطے کے ذریعے تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسے پہلی بار کانگو میں رپورٹ کیا گیا تھا، جس کے بعد سے عالمی سطح پر اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
کراچی میں ایم پاکس کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اپریل میں شہر میں مصدقہ کیسز کی تعداد چار تھی، جون تک یہ تعداد بڑھ کر دس ہو گئی تھی جبکہ صوبے بھر میں مجموعی مصدقہ کیسز 35 تک پہنچ چکے تھے۔ اب ستمبر میں یہ تعداد کراچی میں 14 اور پورے سندھ میں 42 تک جا پہنچی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ وبا کا پھیلاؤ کم رفتار سے ہی سہی، مگر مسلسل جاری ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو تکلیف دہ دانوں، لمف نوڈز کی سوجن، بخار، سر درد، جسمانی درد، کمر درد اور کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ یہ بیماری متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی جسمانی رابطے، آلودہ اشیاء کے استعمال یا متاثرہ جانوروں کے ذریعے پھیل سکتی ہے۔ زیادہ تر متاثرہ افراد مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم بعض صورتوں میں، خاص طور پر بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں، یہ بیماری شدید شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے 2024 میں وائرس کی ایک نئی قسم سامنے آنے کے بعد ایم پاکس کو دوسری بار عالمی سطح کی صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔
سندھ حکومت نے وبا پر قابو پانے کے لیے صوبے کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز قائم کیے ہیں اور نگرانی کے لیے خصوصی یونٹس تشکیل دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کو حفاظتی سامان، بشمول گاؤن، دستانے اور ماسک بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اپریل میں خیرپور میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کے بعد وہاں کے ضلعی صحت افسر کو بھی تبدیل کیا گیا تھا اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور محکمہ صحت سندھ کی جانب سے مشترکہ تحقیقات بھی شروع کی گئی تھیں تاکہ انفیکشن کنٹرول میں کوتاہیوں کا پتہ لگایا جا سکے۔
محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ چوکنا رہیں مگر خوف زدہ نہ ہوں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر انہیں تیز بخار یا غیر معمولی جلدی دانے محسوس ہوں تو فوری طور پر قریبی سرکاری اسپتال سے رجوع کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد سے جسمانی رابطہ، مشترکہ برتنوں یا کپڑوں کے استعمال سے گریز اور بروقت تشخیص اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق نگرانی کے نظام میں موجود خامیوں اور محدود ٹیسٹنگ کی صلاحیت کے باعث اصل متاثرہ افراد کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب کے اضلاع، جیسے رحیم یار خان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بھی مقامی سطح پر منتقلی کے شواہد مل چکے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ وبا اب سندھ تک محدود نہیں رہی۔ محکمہ صحت کے مطابق نگرانی اور جانچ کے عمل کو مزید وسعت دی جا رہی ہے تاکہ کیسز کی بروقت نشاندہی اور بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام ممکن ہو سکے۔