ٹرمپ کا نیا کارنامہ: آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کر کے "ٹرمپ اسٹریٹ” رکھنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا اور غیر روایتی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اب آبنائے ہرمز کو "ٹرمپ اسٹریٹ” کے نام سے پکارے گا۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کے ساتھ جنگ ابھی تک جاری ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کا تنازع بدستور برقرار ہے۔ ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ٹرمپ نے یہ بات ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کے مڈٹرم کنونشن سے خطاب کے دوران کہی، جہاں انہوں نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکی کامیابی کا دعویٰ بھی دہرایا۔

ٹرمپ نے کیا کہا؟

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ چونکہ اب آبنائے ہرمز امریکی کنٹرول میں ہے، اس لیے کیوں نہ اس کا نام تبدیل کر کے "ٹرمپ اسٹریٹ” رکھ دیا جائے، جو بقول ان کے، خود امریکہ کی طرح پہلے سے زیادہ "گرم” ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بعد ازاں سوشل میڈیا پر خلیج کا ایک نقشہ بھی جاری کیا گیا جس میں مجوزہ نیا نام درج تھا، جس کے ساتھ تبصرہ کیا گیا کہ یہ نام "کافی اچھا لگتا ہے۔”

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روز اوول آفس میں جب ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ واقعی اس نام کی تبدیلی کے بارے میں سنجیدہ ہیں، تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ یہ بات محض "یونہی کہہ دی گئی تھی۔” تاہم مبصرین یاد دلاتے ہیں کہ ٹرمپ کی متعدد سابقہ ایسی تجاویز، جو ابتدا میں مذاق معلوم ہوئیں، بعد میں حقیقت میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے کسی جغرافیائی مقام کا نام تبدیل کرنے کی تجویز دی ہو۔ جنوری 2025 میں وائٹ ہاؤس واپسی کے پہلے ہی دن انہوں نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے خلیجِ میکسیکو کا نام تبدیل کر کے "خلیجِ امریکہ” رکھ دیا تھا، اگرچہ میکسیکو اور بین الاقوامی برادری نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کے دوران چند ہفتے قبل انہوں نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کر کے "جھیل امریکہ” رکھنے کا حکم نامہ بھی جاری کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے شمالی امریکہ کی بلند ترین چوٹی ڈینالی کا نام بھی واپس "ماؤنٹ میک کینلے” کر دیا تھا۔ ٹرمپ اپنے نام پر مختلف اداروں اور منصوبوں کے نام رکھنے کے لیے بھی جانے جاتے ہیں، جن میں واشنگٹن کا کینیڈی آرٹس سینٹر، ایک امن ادارہ، امیگریشن کے لیے "ٹرمپ گولڈ کارڈ” اور ادویات کی فروخت کے لیے "ٹرمپ آر ایکس” ویب سائٹ شامل ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ بار بار آبنائے ہرمز پر امریکی خودمختاری کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، حتیٰ کہ ایک موقع پر انہوں نے اس آبی گزرگاہ کو "نئے امریکی علاقے” کے طور پر ظاہر کرنے والا نقشہ بھی جاری کیا تھا۔ تاہم حقیقت میں ایران نے ٹرمپ اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں شروع کی گئی جنگ کے ردعمل میں اس گزرگاہ کو تجارتی جہازوں کے لیے تقریباً مکمل طور پر بند کر رکھا ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک پانچویں حصے کا تیل گزرتا ہے۔

عین اسی دوران جب یہ نام تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آئی، آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ اور ایران کے مابین لڑائی دوبارہ بھڑک اٹھی۔ چند ہفتوں کے سکون کے بعد امریکی افواج نے منگل کو آبنائے ہرمز کے قریب تازہ حملے کیے، جن کا سبب ٹرمپ کے بقول ایران کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کی نئی کوششیں تھیں۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ ان امریکی حملوں میں سے ایک نے ایک شادی کی تقریب میں چار افراد کو ہلاک کر دیا، جسے تہران نے "جنگی جرم” قرار دیا اور جواب میں اردن، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور عراق میں موجود امریکی اڈوں پر جوابی حملوں کی لہر شروع کر دی۔

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر چکی ہیں، جس سے دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک سیاسی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے کا نیا نام تجویز کرنا دراصل ایران کی جاری جنگ اور بڑھتی مہنگائی سے عوامی توجہ ہٹانے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی امریکہ اپنے عرب اتحادیوں کی اس کوشش کی حمایت کر چکا ہے کہ خلیجِ فارس کا نام تبدیل کر کے "خلیجِ عرب” رکھا جائے۔ یہ تبدیلی عرب دنیا میں کسی حد تک رائج بھی ہو چکی ہے، تاہم وسیع تر بین الاقوامی برادری نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ آبنائے ہرمز کا نیا نام رکھنے کی تجویز بھی اسی تناظر میں ایک اور علامتی سیاسی اقدام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ امید بھی ظاہر کی کہ ایرانی قیادت اس نئے نام سے خوش ہوگی، تاہم ان کا یہ طنزیہ تبصرہ دونوں ممالک کے مابین پہلے سے جاری کشیدگی میں ایک نیا سیاسی اور طنزیہ رنگ شامل کر گیا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے تاحال اس تجویز پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم توقع ہے کہ تہران اسے اپنی خودمختاری پر ایک اور امریکی حملہ قرار دے کر مسترد کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی گزرگاہ کا نام تبدیل کرنا کسی ایک ملک کے یکطرفہ اعلان سے مکمل نہیں ہوتا، جیسا کہ خلیجِ میکسیکو کے معاملے میں دیکھا جا چکا ہے، جہاں میکسیکو اور بین الاقوامی نقشہ ساز اداروں نے تبدیلی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی طرح "ٹرمپ اسٹریٹ” کا نیا نام بھی اس وقت تک محض ایک امریکی دعویٰ ہی رہے گا جب تک اسے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں ہوتی، جس کا امکان فی الحال انتہائی کم دکھائی دیتا ہے۔