وزیر اعظم اور وزیر صحت سانحہ پمز پر اخلاقی و انتظامی طور پر مستعفی ہوں،رکن پنجاب اسمبلی
حافظ آباد ()پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی چوہدری ضمیر الحسن بھٹی نے مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر صحت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پمز ہسپتال کا ہولناک سانحہ حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت اور انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے اپنے ایک جاری بیان میں ایم پی اے ضمیر الحسن بھٹی نے ن لیگ کی وفاقی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جو وفاقی حکومت اور وزیر صحت پمز اسپتال کے نرسری وارڈ جیسے حساس ترین شعبے میں فائر سیفٹی اور بنیادی حفاظتی انتظامات تک یقینی بنانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں وہ کس منہ سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسی غیر محفوظ اور تباہ حال اسپتال میں منتقل کرنے کے مذموم جتن کر رہے ہیں؟ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں سوال اٹھایا کہ ن لیگ کی حکومت دانستہ طور پر بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے گھناؤنے کھیل کھیل رہی ہے چوہدری ضمیر الحسن بھٹی نے وفاقی وزیر صحت کی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سانحہ پمز میں معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد متعلقہ وزیر کو اپنے عہدے پر ایک لمحہ بھی رہنے کا اخلاقی جواز حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے اب اسی متنازع اور تباہ حال ادارے میں سیاسی انتقام کی آگ بجھانے کے لیے بانی پی ٹی آئی کو دھکیلنے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے رکن پنجاب اسمبلی نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور انتقامی ہتھکنڈے فوری بند کرے انہوں نے پُرزور مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو پمز جیسے غیر محفوظ سرکاری ہسپتال میں منتقل کرنے کے فیصلے کو فوراً واپس لیا جائے اور انہیں کسی معیاری و محفوظ نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جائے، تاکہ ان کی صحت اور سیکیورٹی پر کوئی آنچ نہ آئے