نیپال میں بپھرا ہوا سیلاب سیکڑوں سیاحوں کو بہا لے گیا، ہلاکتیں 389 ہوگئیں، سیکڑوں لاپتا

نیپال اور تبت کی سرحد پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ یہ آفت گزشتہ ایک دہائی میں خطے کی بدترین قدرتی آفات میں شمار کی جا رہی ہے، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں سیاح و مقامی باشندے لاپتا ہو گئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نیپال میں اب تک کم از کم 389 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ نیپال اور تبت کے دونوں اطراف مجموعی طور پر 1500 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔ نیپالی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق تنہا نیپال میں 484 سیاح لاپتا بتائے گئے تھے، جن میں سے 391 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری تھے، تاہم بعد ازاں نیپال کے محکمہ سیاحت نے بتایا کہ 34 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 668 سیاحوں سے بدھ کی صبح سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، جن میں سے اکثریت ٹریکنگ مہمات پر روانہ تھی۔

لاپتا غیر ملکی سیاحوں میں بھارت سے 133 سے زائد افراد شامل ہیں جو کیلاش مانسرور یاترا پر روانہ تھے، جبکہ امریکا سے 47 سے 90، آسٹریلیا سے 34، برطانیہ سے 33 اور کینیڈا سے 24 شہری بھی لاپتا افراد میں شامل بتائے جاتے ہیں۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق نیپال میں لاپتا افراد میں 100 چینی شہری بھی شامل ہیں۔ تبت کی جانب چینی ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق گیرونگ کاؤنٹی میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں سے 260 غیر ملکی شہری ہیں۔

ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس تباہی کے پیچھے زلزلہ اور اس کے نتیجے میں برفانی تودہ گرنے کا واقعہ ہو سکتا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 4.4 شدت کے زلزلے کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے بعد ازاں اپنی تشخیص پر نظرثانی کرتے ہوئے واضح کیا کہ زلزلے جیسی لہریں دراصل خود لینڈ سلائیڈ (تودے کے تباہ ہونے) کے باعث پیدا ہوئی تھیں، نہ کہ کسی حقیقی زلزلے سے۔ اس لینڈ سلائیڈ کی شدت بالآخر 5.2 شدت کے زلزلے کے برابر ریکارڈ کی گئی۔

امریکی حکام اور ماہرین موسمیات کے مطابق یہ تباہی دراصل تبت میں ایک "سپرا گلیشیئل جھیل” (برف کے تودے کے اوپر بننے والی جھیل) کے اچانک بہہ جانے سے شروع ہوئی۔ برف اور چٹانوں کے اس بڑے تودے نے تبت کی لہندے ندی سے ٹکراتے ہوئے دریا کا راستہ عارضی طور پر روک دیا، جس سے ایک قدرتی ڈیم بن گیا۔ جب یہ عارضی ڈیم دباؤ برداشت نہ کر سکا اور ٹوٹ گیا تو زبردست سیلابی ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا اور نیپال کے سرحدی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اس آفت نے نیپال-تبت سرحدی پہاڑی خطے کو بری طرح متاثر کیا، جہاں سب سے زیادہ نقصان نیپال کے رسوا ضلع میں ہوا، جو براہِ راست چینی سرحد کے جنوب میں واقع ہے۔ نووا کوٹ ضلع میں تریشولی بازار اور دیویگھاٹ جیسے علاقوں میں سیلابی ریلے نے مکانات، سڑکیں، پل اور بجلی گھر تک بہا دیے۔ بھوٹے کوشی ندی، جو دارالحکومت کھٹمنڈو کے شمال میں واقع ہے، میں بدھ کی صبح پانی کی سطح میں اچانک اضافہ ہوا جس نے قریبی آبادیوں کو شدید متاثر کیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں کیچڑ اور پانی کا ایک بڑا ریلا سرحدی گزرگاہ کی عمارتوں سے ٹکراتا دکھائی دیا، جبکہ نیپال سے آنے والی تصاویر و ویڈیوز میں لوگوں کو سیلابی ریلے سے بچنے کے لیے بلند مقامات کی جانب بھاگتے دیکھا گیا۔ ایک مقامی رہائشی نے میڈیا کو بتایا کہ کیچڑ کا ایک بہت بڑا ریلا سیدھا ان کی طرف بڑھ رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی سطح بلند ہوتی چلی گئی۔

سیلاب کی تباہ کاریوں پر عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی ٹیمیں اور شراکت دار ادارے نیپال میں متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کے لیے سامان اور عملہ متحرک کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی کہا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ امریکی شہریوں سے متعلق صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بھی اس سیلاب کو "انتہائی تباہ کن” قرار دیتے ہوئے صورتحال کی نگرانی کی تصدیق کی۔

تبت کی جانب صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے ذاتی طور پر امدادی ہدایات جاری کیں۔ چین کے قومی فائر اینڈ ریسکیو ادارے کے مطابق جمعرات کی شام تک 681 سے زائد فائر فائٹرز، 13 امدادی کتے، 113 گاڑیاں اور 47 ڈرونز امدادی کارروائیوں کے لیے موقع پر پہنچا دیے گئے تھے۔ چینی حکام نے 555 پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جبکہ 499 متاثرہ دیہاتیوں کا انخلا بھی مکمل کیا۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر چین کی قومی امیگریشن ایجنسی نے شیگاتسے کے سرحدی علاقوں میں چینی سیاحوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

نیپالی حکام کے مطابق اس قدرتی آفت کو 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد ملک کی سب سے بڑی تباہی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں تقریباً 9 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نیپال، جو ہمالیہ کے دامن میں واقع ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں اور کوہ پیماؤں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے، ٹریکنگ اور مذہبی یاترا کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آفت میں لاپتا افراد کی اکثریت غیر ملکی سیاح اور یاتری ہیں، جو کیلاش مانسرور جیسے مقدس مقامات کی جانب رواں دواں تھے۔

حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑا چیلنج علاقے کی دشوار گزار پہاڑی جغرافیائی ساخت، خراب موسم اور سیلاب کے باعث تباہ شدہ راستے ہیں، جن کی وجہ سے متاثرہ مقامات تک رسائی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ نیپالی پولیس کے مطابق تاحال 160 سے زائد لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، تاہم ملبے تلے دبے یا ندیوں میں بہہ جانے والے مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں لاپتا سیاحوں سمیت دیگر متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

نیپال-تبت سرحدی سیلاب نہ صرف انسانی جانوں کے حوالے سے ایک بڑا سانحہ ہے بلکہ اس نے پورے خطے میں موسمیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے جڑے خطرات کو بھی ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیائی خطے میں بڑھتے درجہ حرارت کے باعث سپرا گلیشیئل جھیلوں کے اچانک ٹوٹنے کے واقعات میں مستقبل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو نیپال، تبت اور بھارت جیسے پہاڑی خطوں کے لیے ایک نیا اور سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ فی الحال دنیا بھر کی نظریں نیپال اور چین کی امدادی کارروائیوں پر جمی ہوئی ہیں، جہاں ہزاروں افراد اپنے پیاروں کی خیریت کی خبر کے منتظر ہیں۔