وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے دلخراش سانحے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی طوفان کے دوران وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے استعفے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے واضح مؤقف اپنایا کہ اسپتال چلانا وزارت صحت کی نہیں بلکہ متعلقہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
26 اگست 2026 کی صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر پمز اسپتال کے میٹرنٹی اینڈ چائلڈ ہیلتھ (ایم سی ایچ) سینٹر کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق نرسری میں نصب ایئرکنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے چنگاری بھڑکی، جو انکیوبیٹرز تک موجود آکسیجن پوائنٹس کی وجہ سے چند ہی سیکنڈز میں شدید آتشزدگی میں تبدیل ہوگئی۔ واقعے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے زیرِ علاج تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو بچایا جاسکا جبکہ 14 معصوم بچے بری طرح جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا، جبکہ اسپتال ذرائع نے دعویٰ کیا کہ آگ بجھانے کے لیے 35 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے گئے اور تمام ایمرجنسی ایگزٹس فعال تھے۔ تاہم عینی شاہدین اور ریسکیو اہلکاروں نے فائر سیفٹی انتظامات کو انتہائی ناقص قرار دیا، جہاں فائر ہوز میں کپلنگز تک موجود نہیں تھیں۔ سانحے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر سیکرٹری صحت کو معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں 8 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی اور دیگر متعلقہ افسران بھی شامل ہیں۔ 24 گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود آگ لگنے کی حتمی وجہ اور ذمہ داروں کا تعین ہونا باقی ہے۔
سانحے کے بعد ایک نجی ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اسلام آباد میں چار سے پانچ بڑے اسپتال ہیں جہاں شہریوں کا بہت زیادہ رش رہتا ہے، مگر اسپتال چلانا وزارت صحت کا کام نہیں بلکہ متعلقہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پمز واقعے پر سیاست کرنے والے یہ بتائیں کہ کیا گزشتہ 35 سے 40 سالوں سے مصطفیٰ کمال کی حکومت رہی ہے؟
وزیر صحت نے سیاسی مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کرنے والوں کو ڈرامے بازی بند کر دینی چاہیے، انہیں سیاسی وابستگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، البتہ وہ اکثر تنقید کرنے والوں کی عقل پر حیران رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پمز اسپتال میں 275 سے زائد آسامیاں خالی پڑی ہیں اور یہاں نیا ٹراما سینٹر تعمیر کیا گیا ہے جس کے لیے نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔ مصطفیٰ کمال کے مطابق آتشزدگی کے بعد اسپتال سے تقریباً 80 افراد کو ریسکیو کیا گیا اور واقعے کے بعد بھی پمز میں علاج و معالجے کی سہولیات کی فراہمی بلاتعطل جاری ہے۔ تاہم جب میزبان نے ان سے وزیراعظم کو استعفیٰ ارسال کرنے سے متعلق سوال کیا تو وفاقی وزیر صحت نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔
سانحے کے بعد سے وفاقی وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ سیاسی و سماجی حلقوں میں مسلسل زور پکڑتا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے بھی اس واقعے کو سنگین غفلت اور بدانتظامی قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت بھی اس معاملے پر متحرک ہو چکی ہے اور معاملے کی تفصیلی جانچ کے لیے اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
سانحے کے بعد وفاقی حکومت نے جاں بحق ہونے والے ہر بچے کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے فی کس معاوضے کا اعلان کیا۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی سمیت متعدد رہنماؤں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ پمز کے بعد اسلام آباد کے ایک اور بڑے سرکاری اسپتال پولی کلینک میں بھی فائر سیفٹی کے انتظامات مکمل نہیں ہیں، جس نے دارالحکومت کے سرکاری اسپتالوں کی مجموعی حفاظتی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کا سب سے بڑا سرکاری تدریسی اسپتال ہے، جہاں روزانہ ہزاروں مریضوں کا رش ہوتا ہے، خصوصاً وفاقی دارالحکومت اور اس سے ملحقہ علاقوں سے آنے والے کم آمدنی والے شہریوں کی بڑی تعداد یہاں مفت یا سستے علاج کے لیے رجوع کرتی ہے۔ اسٹاف کی کمی، پرانی عمارت اور ناقص انفراسٹرکچر کی شکایات پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم موجودہ سانحے نے اسپتال میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کو کھل کر بے نقاب کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نرسری اور آئی سی یو جیسے حساس ترین یونٹس میں، جہاں آکسیجن سپلائی مسلسل جاری رہتی ہے، وہاں فائر سیفٹی معیارات پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہوتا ہے، کیونکہ ذرا سی چنگاری بھی آکسیجن سے بھرے ماحول میں چند سیکنڈز میں بھڑکتی آگ کا سبب بن سکتی ہے، جیسا کہ اس واقعے میں ہوا۔
پمز سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ پاکستان کے سرکاری صحتی اداروں میں حفاظتی معیارات اور نگرانی کے فقدان کی سنگین علامت بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف حکومت اور وزارتِ صحت انتظامی ذمہ داری کو مقامی اسپتال انتظامیہ پر ڈال رہی ہے، تو دوسری جانب سیاسی اپوزیشن اور سول سوسائٹی جوابدہی اور استعفوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کی حتمی رپورٹ ہی یہ طے کرے گی کہ اس دلخراش سانحے کی اصل وجہ کیا تھی اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، تاہم اس وقت تک 14 معصوم زندگیوں کے ضیاع نے پورے ملک کو سوگوار کر رکھا ہے۔