اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تاہم یہ رقم اسی وقت جاری ہو سکے گی جب آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اس معاہدے کی حتمی منظوری دے گا، اس لیے اسے ابھی صرف عملے کی سطح کی منظوری سمجھا جانا چاہیے۔
معاہدہ کس چیز پر ہوا؟
آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹروا کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ معاہدہ 7 ارب ڈالر کی 37 ماہ کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی 28 ماہ کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر طے پایا ہے۔ آئی ایم ایف کی ٹیم نے 23 ستمبر سے 7 اکتوبر تک کراچی اور اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے مذاکرات کیے، جن میں 2026ء کا آرٹیکل فور مشاورتی جائزہ بھی شامل تھا۔
کتنی رقم ملے گی؟
بورڈ کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر (76 کروڑ ایس ڈی آر) جبکہ آر ایس ایف کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر (15 کروڑ 40 لاکھ ایس ڈی آر) دستیاب ہوں گے۔ اس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بورڈ کی منظوری کے بعد یہ رقم چار سے پانچ ہفتوں میں جاری ہو سکتی ہے۔
پاکستان کو کن شرائط پر عمل کرنا ہوگا؟
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد نے فیول سبسڈی اسکیم کو جلد ختم کرنے، صحت اور سماجی شعبوں پر اخراجات بہتر بنانے اور سرکاری کمپنیوں (ایس او ایز) کی گورننس مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2025-26ء کے لیے صحت اور تعلیم پر اخراجات سے متعلق آئی ایم ایف کی شرط پوری کر دی ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر پرائمری بجٹ سرپلس حاصل کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے، جس کے لیے ٹیکس پالیسی اور محصولات کے انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی مشورہ دیا ہے کہ مہنگائی کو پائیدار طور پر ہدف کی حد میں لانے کے لیے مانیٹری پالیسی کو مناسب حد تک سخت رکھا جائے۔
آئی ایم ایف کا مؤقف: معاشی استحکام برقرار
ایوا پیٹروا کے مطابق ای ایف ایف کی معاونت کی بدولت پاکستانی حکام نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور مضبوط پالیسیوں نے معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد دی۔ انہوں نے خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی کو ملکی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیا۔ آر ایس ایف کے تحت پاکستان موسمیاتی لچک بڑھانے اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی اصلاحات کو آگے بڑھا رہا ہے۔
خطرات بدستور موجود
تاہم آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کی بلند قیمتوں اور سپلائی میں رکاوٹوں نے پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کو کمزور کیا ہے۔ ادارے کے مطابق جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالیاتی حالات میں سختی اور تجارتی رکاوٹیں معیشت کے لیے بدستور اہم خطرات ہیں۔
پروگرام کا اب تک کا سفر
یہ پروگرام جولائی 2024ء میں طے پایا تھا۔ پہلے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ مارچ 2025ء میں ہوا اور مئی 2025ء میں بورڈ نے ایک ارب ڈالر کی منظوری دی، جبکہ دوسرے جائزے پر اکتوبر 2025ء میں ایک ارب ڈالر (ای ایف ایف) اور 20 کروڑ ڈالر (آر ایس ایف) کا معاہدہ ہوا۔ مارچ 2026ء میں تیسرے جائزے پر مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے تھے، تاہم مئی میں بورڈ نے تقریباً 1.1 ارب ڈالر (ای ایف ایف) اور 22 کروڑ ڈالر (آر ایس ایف) کی منظوری دی، جس سے مجموعی ادائیگیاں تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔